Banner

مولانا عبدالحق بلوچ کی سولہویں یوم وفات

featured
Share

Share This Post

or copy the link

مولانا عبدالحق بلوچ کی سولہویں یوم وفات

بلاول بلوچ

کہتے ہیں تاریخ اپنے ہیروز کو خود تراشتی ہے۔ یہ صحرا کی ریت ہو یا پہاڑوں کے دامن، وقت کی صیقل کردہ چٹانوں پر کچھ نام ہمیشہ کے لیے ثبت ہو جاتے ہیں۔ بلیدہ زعمران کی سنگلاخ زمین نے صرف پتھر نہیں اگائے، اس نے ایسے چراغ جلائے جن کی روشنی آنے والی نسلوں کے لیے مینارِ راہ بنی۔ انہی چراغوں میں سے ایک نام مولانا عبدالحق بلوچ کا ہے— ایک ایسا نام جو بلوچستان کی سیاست، دین اور فکری روایت کا سنگم تھا۔
شاید کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ جنوری 1947 میں مولانا محمد حیات کا ہاں پیدا ہونے والا فرزند ایک دن بلوچستان کے فکری افق پر ایسا آفتاب بن کر چمکے گا جس کی روشنی مولوی کی مسجد سے لے کر انقلابی کی مجلس تک محسوس کی جائے گی۔ مگر تاریخ کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے۔ وہ اپنی کوکھ میں ایسے بچے پالتی رہتی ہے جو وقت آنے پر اپنی قسمت کے دروازے خود کھولتے ہیں۔

بلوچستان کی سیاسی تاریخ میں دو طرح کے کردار ملتے ہیں۔ ایک وہ جو بندوق اٹھاتے ہیں اور تاریخ میں ایک سرخی چھوڑ جاتے ہیں۔ دوسرے وہ جو کتاب اٹھاتے ہیں اور تاریخ کو ایک نیا بیانیہ دیتے ہیں۔ مولانا عبدالحق بلوچ دوسرے قبیل سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی سیاست کا محور قرآن بھی تھا، سیاسی مزاخمت اور انقلاب بھی۔ ان کی نشستوں میں بابا مری اور صبا دشتیاری بھی نظر آتے، اور دوسری طرف جماعت اسلامی کے جیالوں کے درمیان بھی موجود ہوتے۔

یہ کسی عام عالم کی کہانی نہیں۔ وہ مولوی جو صرف ایک مکتبۂ فکر میں قید ہو، وہ عبدالحق بلوچ نہیں ہو سکتا۔ یہ وہ شخص تھا جو کتاب سے عشق کرتا تھا، جو علم کے بغیر سیاست کو کھوکھلا سمجھتا تھا، جو دلیل کے بغیر مذہب کو محض ایک جذباتی نعرہ گردانتا تھا۔ ان کے نزدیک مسجد اور مجلس دونوں ایک ہی چراغ کی روشنی تھے۔

مولانا عبدالحق بلوچ صرف کتابوں کے نہیں، میدان کے آدمی بھی تھے۔ 1985 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی، لیکن اسمبلی میں جا کر کوئی گھاگ روایتی سیاستدان نہیں بنے۔ بلوچستان کی ساحل وسائل کی دفاع مولانا صاحب کی اولین ترجیحات تھے۔ ریکوڈک کا مقدمہ اٹھا تو سب چپ تھے، مگر مولانا عبدالحق بلوچ نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ جب گوادر کی بندرگاہ عالمی سوداگران کی نظر میں آئی تو مولانا عبدالحق بلوچ نے پہلے دن ہی کہہ دیا، “یہ سودا سستا نہیں، اس کا خریدار کوئی اور ہے، بیچنے والے صرف مہرے ہیں۔”

یہ شخص جب بلوچ نوجوانوں سے مخاطب ہوتا تو کہتا، “تمہارے ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے، جو قوم علم سے محروم ہو جائے، وہ اپنے پہاڑوں میں گم ہو جاتی ہے، جیسے شام کے وقت ریت کے طوفان میں اونٹوں کے قافلے راستہ بھول جاتے ہیں۔”

مذہب اور قوم پرستی: ایک پل کا معمار

یہ کسی عام عالمِ دین کی کہانی نہیں، جس کی شناخت صرف مدرسے کی دیواروں تک محدود ہو۔ یہ ایک ایسے مولانا کی کہانی ہے جو بیک وقت مدرسے میں پڑھاتا بھی تھا اور قوم پرستوں کے ساتھ قہوے کی محفل میں سیاسی مکالمہ بھی کرتا تھا۔ ان کے بارے میں مشہور تھا مولانا عبدالحق بلوچ کے نام کے سابقے اور لاحقے میں کبھی کوئی تضاد نہیں ہوا، بلکہ ان کے درمیان گہرا فکری رشتہ تھا۔”
یہ وہی فکر تھی جسے مولانا عبدالحق بلوچ نے ایک پروگرام میں یوں بیان کیا تھا:میری بلوچیت اور میرا مذہب آپس میں صلح کر چکے ہیں۔”

یہ جملہ کسی عام شخص کا نہیں، ایک سیاسی فلسفی کا ہے۔ یہ وہ مقرر نہیں جو جلسے میں جذباتی تقریر کر کے تلواریں کھنچوا دے، بلکہ وہ عالم ہے جو ایک دسترخوان پر بیٹھ کر بلوچ سردار ایک انقلابی نوجوان اور مسجد کے امام دونوں کو ایک ہی لقمہ توڑنے پر راضی کر لے۔

مولانا عبدالحق بلوچ کی سیاست محض تقریروں کا نام نہیں تھی۔ اگر کسی کو ان کے فکری سفر کا اندازہ لگانا ہے، تو وہ ایک بار تربت میں ان کی ذاتی لائبریری دیکھ لے۔ وہاں قرآن کی تفاسیر بھی ہیں، کارل مارکس کے نظریات بھی۔ وہاں الطاہر الحداد کی تحریریں بھی ہیں اور ابن خلدون کی “مقدمہ” بھی۔

کتاب سے عشق اور مطالعے کا جنون ایسا تھا کہ 1993 میں جب کابل پر میزائلوں کی بارش ہو رہی تھی، لوگ جان بچانے کے لیے پناہ گاہیں ڈھونڈ رہے تھے، مگر مولانا…
بازارِ کتاب میں، پرانی جلدوں کے انبار میں، گرد میں اٹے صفحات کے بیچ، اپنے گوہرِ مطلوب کی جستجو میں محو تھے— جیسے جنگ و جدل کی دنیا سے ان کا کوئی واسطہ ہی نہ ہو۔ یہ محض ایک واقعہ نہیں، ایک ذہن کی ساخت کا عکاس ہے۔

وہ لوگ جو آج بلوچستان کے وسائل پر نوحے پڑھتے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب ریکوڈک پروجیکٹ کو ایک غیر ملکی کمپنی کے حوالے کیا جا رہا تھا، تب مولانا عبدالحق بلوچ وہ پہلے آدمی تھے جو عدالت میں کھڑے ہوئے۔

آج گوادر کا ذکر ہوتا ہے، آج ریکوڈک پر مباحثے ہوتے ہیں، مگر مولانا عبدالحق بلوچ وہ شخص تھا جس نے اس سودے بازی کو پہلے دن للکارا تھا۔ وہ کہتے تھے:
“یہ زمین بکاؤ نہیں ہے۔ اس کے نیچے جو دفن ہے، وہ کسی سوداگر کی جاگیر نہیں۔”

16 مارچ 2010: ایک باب تمام ہوا

2010 کی وہ شام تاریخ میں یوں درج ہو چکی ہے کہ 16 مارچ کو بلوچستان کا ایک چراغ گل ہو گیا۔
وہ لوگ جو ان کے مخالف تھے، جو ان کے نظریات سے اختلاف رکھتے تھے، وہ بھی مولانا عبدالحق بلوچ کی کمی شدت سے محسوس کرتے ہیں۔
تاریخ کا یہی اصول ہے۔ کچھ لوگ اپنی وفات کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں، کیونکہ ان کی فکر مرنے کے لیے نہیں ہوتی۔ مولانا عبدالحق بلوچ بھی انہی میں سے تھے۔

بلوچستان کا یہ چراغ بظاہر بجھ گیا، مگر اس کی روشنی ان دراڑوں میں اب بھی چمک رہی ہے جہاں سچائی، جرات اور فکری استدلال کی کرنیں پہنچتی ہیں۔

بلاول بلوچ

مولانا عبدالحق بلوچ کی سولہویں یوم وفات

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us