سائنس نے دنیا بدل دی ہم کیوں وہیں کے وہیں رہے؟
تحریر یاسر دانیال صابری(وزیر)
سائنس کی ترقی نے انسانی زندگی میں وہ آسانیاں پیدا کر دی ہیں جن کا تصور چند دہائیاں پہلے ممکن نہ تھا۔ آج ہم ایک بٹن دبا کر دنیا کے کسی بھی کونے کا حال جان لیتے ہیں۔ موسم کی پیش گوئی ہو یا زلزلوں کی اطلاع، بارش ہو یا دھوپ، آندھی ہو یا برفباری یہ سب کچھ اب محض اندازوں پر نہیں بلکہ سائنسی تحقیق، سیٹلائٹس اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ممکن ہو چکا ہے۔ گلگت میں بیٹھ کر بھی ہم یہ جان لیتے ہیں کہ آسمان پر بادل چھائے ہیں یا سورج بادلوں کی اوٹ میں چھپ چکا ہے۔ یہی سائنس کی وہ طاقت ہے جس نے انسان کو فطرت کے بہت سے رازوں سے آشنا کیا۔
سائنس دراصل انسان کی مسلسل جستجو کا نام ہے۔ وہ جستجو جو سوال سے جنم لیتی ہے اور تحقیق پر ختم نہیں ہوتی بلکہ نئی راہیں کھولتی ہے۔ انسان نے جب غاروں میں رہتے ہوئے آگ جلانا سیکھا تو وہ بھی سائنس ہی کی ابتدائی شکل تھی۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ لکڑی جلانے سے روشنی پیدا کی گئی، لالٹین آئی، گیس لیمپ کا دور آیا، بجلی نے انقلاب برپا کیا اور آج سولر سسٹم جیسے ذرائع نے توانائی کے نئے در وا کر دیے ہیں۔ آج ایسے آلات بن چکے ہیں جو آسمانی بجلی کو محفوظ کر کے سالہا سال تک استعمال کے قابل بنا دیتے ہیں۔ یہ سب کچھ کسی معجزے کا نتیجہ نہیں بلکہ محنت، تحقیق اور عقل کے استعمال کا ثمر ہے۔
ربِ کائنات نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے عقل و شعور سے نوازا۔ قرآن میں بار بار انسان کو غور و فکر، تدبر اور علم حاصل کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ مقصد یہ نہیں تھا کہ انسان محض علم جمع کرے بلکہ یہ کہ وہ اس علم کو انسانیت کی بھلائی، زندگی کو آسان بنانے اور رب کی پہچان کے لیے استعمال کرے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے واقعی اس عقل اور شعور کا درست استعمال کیا؟
دنیا آج آن لائن ہو چکی ہے۔ تعلیم، تجارت، علاج، حکمرانی سب کچھ ڈیجیٹل نظام سے جڑ چکا ہے۔ ایک طالب علم گھر بیٹھے عالمی جامعات کے لیکچر سن سکتا ہے، ایک مریض ویڈیو کال پر ڈاکٹر سے مشورہ لے سکتا ہے، ایک تاجر چند منٹوں میں بیرونِ ملک کاروبار کر سکتا ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گلگت بلتستان جیسے خوبصورت خطے میں آج بھی ایسی وادیاں موجود ہیں جہاں موبائل سروس تک دستیاب نہیں۔ انٹرنیٹ تو دور کی بات، لوگ بنیادی رابطے سے بھی محروم ہیں۔ یہ محرومی قدرت کی نہیں بلکہ ہماری ترجیحات کی ہے۔
دنیا نے ترقی کو مسائل کا حل بنایا۔ انہوں نے احتجاج سے پہلے منصوبہ بندی کو ترجیح دی، تحقیق کو بنیاد بنایا اور ٹیکنالوجی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ ہم نے اس کے برعکس اکثر جذبات کو عقل پر فوقیت دی۔ ذرا سا مسئلہ پیدا ہوا تو سڑکوں پر نکل آئے، راستے بند کر دیے، خود اپنی ترقی کی راہیں مسدود کر دیں۔ احتجاج ایک حق ہے، مگر جب احتجاج مستقل حل کی جگہ لے لے تو وہ خود ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔
دنیا نے اپنے دفاعی نظام کو مضبوط کیا، سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی سرحدوں کو محفوظ بنایا۔ ہم نے اکثر اپنی فوج، اپنے اداروں اور اپنی ہی ریاست کو نشانے پر رکھا۔ تنقید ضروری ہے، مگر نفرت اور گالیوں کی سیاست نے ہمیں کیا دیا؟ دشمن تو یہی چاہتا ہے کہ ہم اندر سے کمزور ہوں، ایک دوسرے پر اعتماد نہ کریں اور آپس میں ہی الجھتے رہیں۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ مغرب نے وہی اسلامی اقدار اپنا لیں جن پر عمل کرنے میں ہم نے کوتاہی برتی۔ دیانت، وقت کی پابندی، تحقیق، انصاف، انسان دوستی—یہ سب ہمارے دین کی بنیادیں ہیں، مگر ہم نے انہیں صرف کتابوں تک محدود کر دیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایک وقت تھا جب مسلمان علم کے امام تھے۔ ہماری کتابیں، ہماری تحقیقات، ہماری جامعات دنیا کے لیے مشعلِ راہ تھیں۔ مگر جب ہم نے علم سے منہ موڑا تو وہی علم دوسروں کے ہاتھ لگا۔ کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کی کتابیں دریا نیل میں پھینکی گئیں، مگر وہی علم بعد میں یورپ پہنچا اور انہوں نے اس سے فائدہ اٹھا کر دنیا کو بدل دیا، جبکہ ہم خود اس ورثے سے محروم ہو گئے۔
سائنس نے آج ہر چیز کا متبادل پیدا کر دیا ہے۔ ایندھن کے متبادل، علاج کے متبادل، تعلیم کے نئے طریقے مگر ہم آج بھی بہت سے معاملات میں صدیوں پرانے طریقوں پر اصرار کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں قدرت نے بے پناہ وسائل دیے ہیں: سورج کی روشنی، بہتے دریا، بلند پہاڑ، زرخیز زمین۔ اگر سولر انرجی کو درست منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو بجلی کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو سکتا ہے۔ اگر ڈیجیٹل تعلیم کو فروغ دیا جائے تو دور دراز علاقوں کے بچے بھی عالمی معیار کی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ مگر اس کے لیے وژن، نیت اور مسلسل محنت درکار ہے۔
ہم بہت جلد احتجاج پر اتر آتے ہیں، مگر مسائل کا حل نکالنے کے لیے سنجیدہ مکالمہ، تحقیق اور منصوبہ بندی نہیں کرتے۔ سائنس ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے، بشرطیکہ ہم جذبات کے بجائے عقل کو رہنما بنائیں۔ دنیا نے یہی کیا اور آگے بڑھ گئی، ہم نے جذباتی فیصلے کیے اور پیچھے رہ گئے۔
یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ ہم نے سائنس کو محض مشینوں اور آلات تک محدود سمجھ لیا ہے، حالانکہ سائنس سوچنے کا ایک طریقہ ہے۔ سوال کرنا، وجہ تلاش کرنا، ثبوت پر یقین کرنا اور بہتری کی مسلسل کوشش کرنا۔یہ سب سائنس کی روح ہیں۔ اگر ہم اس سوچ کو اپنا لیں تو آدھی مشکلات خود بخود حل ہو جائیں۔
کیا ہم اسی طرح شکوے کرتے رہیں گے یا واقعی اس عقل و شعور کا استعمال کریں گے جو ہمیں عطا کیا گیا ہے؟ کیا ہم قدرتی وسائل، سائنسی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنے خطے کی بہتری کے لیے بروئے کار لائیں گے یا پھر دنیا کی دوڑ میں مزید پیچھے رہ جائیں گے؟ وقت ابھی ہاتھ سے نہیں نکلا، مگر شرط یہ ہے کہ ہم تحقیق کا دامن تھامیں، محنت کو شعار بنائیں اور سائنس کو دشمن نہیں بلکہ اپنا مددگار سمجھیں۔ یہی راستہ ہمیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
غلطیوں کو معاف فرمائے وسلام
سائنس نے دنیا بدل دی ہم کیوں وہیں کے وہیں رہے؟



