Banner
Daily Sahafat Quetta
November 3, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
قلعہ سیف اللہ پولیس کی بروقت کارروائی: کوئٹہ سے چوری ہونے والی جی ایل آئی کار برآمدالمصطفیٰ آئی ہسپتال – جہاں بجھتی آنکھوں میں پھر سے روشنی اترتی ہےیہ دنیا مکافات عمل ہے مسٹر پتلو!!ملک بدترین معاشی بحران کی زد میں ہے،سید امان شاہمہنگے ایندھن سے ٹرانسپورٹ شعبہ مشکلات کا شکار ہے، ٹرانسپورٹرزسردار منظور احمد خان کاکڑ کی مصطفیٰ خان خلجی سے اہلیہ کے انتقال پر تعزیت اور فاتحہ خوانیسردار منظور احمد خان کاکڑ کی خیرپور کی شاہی فیملی سے اظہارِ تعزیت، فاتحہ خوانیپرنس محمد احمدزئی کا اغوا اہلِ بلوچستان کے لیے باعثِ تشویش ہے، سردار منظور کاکڑمختصر مدت میں نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی، سردار بابا غلام رسول خان عمرانی کے اقدامات کو عوامی حلقوں نے سراہ لیاوزیراعلیٰ بلوچستان کے ترقیاتی وژن کی تکمیل،صوبائی وزیر میر سلیم خان کھوسہ کی فیلڈ مانیٹرنگقلعہ سیف اللہ پولیس کی بروقت کارروائی: کوئٹہ سے چوری ہونے والی جی ایل آئی کار برآمدالمصطفیٰ آئی ہسپتال – جہاں بجھتی آنکھوں میں پھر سے روشنی اترتی ہےیہ دنیا مکافات عمل ہے مسٹر پتلو!!ملک بدترین معاشی بحران کی زد میں ہے،سید امان شاہمہنگے ایندھن سے ٹرانسپورٹ شعبہ مشکلات کا شکار ہے، ٹرانسپورٹرزسردار منظور احمد خان کاکڑ کی مصطفیٰ خان خلجی سے اہلیہ کے انتقال پر تعزیت اور فاتحہ خوانیسردار منظور احمد خان کاکڑ کی خیرپور کی شاہی فیملی سے اظہارِ تعزیت، فاتحہ خوانیپرنس محمد احمدزئی کا اغوا اہلِ بلوچستان کے لیے باعثِ تشویش ہے، سردار منظور کاکڑمختصر مدت میں نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی، سردار بابا غلام رسول خان عمرانی کے اقدامات کو عوامی حلقوں نے سراہ لیاوزیراعلیٰ بلوچستان کے ترقیاتی وژن کی تکمیل،صوبائی وزیر میر سلیم خان کھوسہ کی فیلڈ مانیٹرنگ

نئے قوانین ، نئی مشکلات

نئے قوانین ، نئی مشکلات

ایک رپورٹ کے مطابق کینیڈا شہریت کے ثبوت کی درخواستوں کا انتظار 33 ماہ تک پہنچ گیا ہے۔ اور 1 لاکھ 36 ہزار سے زائد افراد فیصلے کے منتظر ہیں۔
کینیڈا میں Proof of Citizenship / Citizenship Certificate کی درخواستوں کے لیے انتظار کا وقت غیر معمولی طور پر بڑھ گیا ہے۔
نئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت 1 لاکھ 36 ہزار سے زائد افراد اپنی شہریت کے ثبوت کی درخواست پر فیصلے کے منتظر ہیں، جبکہ متوقع پروسیسنگ ٹائم اب تقریباً 33 ماہ تک پہنچ گیا ہے۔
یہ صورتحال خاص طور پر Bill C-3 کے بعد پیدا ہونے والی درخواستوں میں اضافے سے منسلک ہے۔

Bill C-3
کے تحت کینیڈین شہریت کے قوانین میں تبدیلی کے بعد بیرونِ ملک پیدا ہونے والے ایسے بہت سے افراد بھی شہریت کے اہل ہوئے ہیں جو پہلے First-Generation Limit کی وجہ سے شہریت حاصل نہیں کر سکتے تھے۔
ان میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو
کینیڈین والدین کی اولاد ہیں اور کینیڈا سے باہر پیدا ہوئے ہیں۔ نئی قانون سازی کے تحت پہلے ہی کینیڈین شہری بن چکے ہیں؛
اپنی کینیڈین شہریت کا سرکاری ثبوت حاصل کرنے کے لیے Citizenship Certificate کی درخواست دے رہے ہیں؛
بعض صورتوں میں ایسے افراد ہیں جن کی اولاد بھی نئی تبدیلیوں سے متاثر ہوئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق چند ماہ پہلے
Proof of Citizenship applications
کے لیے انتظار تقریباً 9 ماہ تھا جو اب بڑھ کر 33 ماہ تک پہنچ گیا ہے۔
یعنی نئی درخواست دینے والے بعض افراد کو معمول کے حالات میں تقریباً تین سال انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
اگر درخواست کینیڈا یا امریکا سے باہر سے دی گئی ہو تو اس میں مزید تقریباً 3 سے 4 ماہ بھی لگ سکتے ہیں۔
Citizenship Certificate
حاصل کرنا اور
Canadian citizen
بننا دو مختلف چیزیں ہیں۔
بعض افراد Bill C-3 کے تحت قانوناً پہلے ہی کینیڈین شہری بن چکے ہیں؛ Citizenship Certificate دراصل ان کی شہریت کا سرکاری ثبوت فراہم کرتا ہے۔
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ نئی قانون سازی کے تحت آپ یا آپ کے بچے کینیڈین شہریت کے اہل ہو گئے ہیں تو اپنی صورتحال کو احتیاط سے چیک کرنا ضروری ہے۔
کچھ مخصوص اور فوری حالات میں
Urgent Processing
بھی ممکن ہے.
تاہم اس کے لیے
IRCC
کی مقررہ شرائط پوری کرنا ضروری ہیں۔
Processing times
تبدیل ہو سکتے ہیں اور ہر درخواست کا وقت اس کی نوعیت اور حالات کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔
بہت سال قبل ایسا نہیں ہوا کرتا تھا اور یہاں آنے کے بعد تین برس کے اندر شہریت مل جایا کرتی تھی۔
مگر اب وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ اور دن بدن سختی ہوتی جا رہی ہے۔اور نئے آنے والوں کےلئے بہت سی مشکلات کو بڑھا دیا گیا ہے جس پر نظرِ ثانی کر کے آسانی کرنے کی ضرورت ہے۔حالانکہ کینیڈا کی آبادی ابھی بھی اسکے رقبے کے حساب سے بہت کم ہے اور آبادی کو مناسب کرنے کےلئے ہی امیگریشن کے معاملات میں نرمی کی جاتی رہی ہے۔لیکن اب یکدم سے تبدیلی آنی شروع ہو گئی ہے۔لیکن اس بارہ میں اربابِ اختیار کو بھی تھوڑا ہاتھ ہولا رکھنا ہو گا اگر اِنہوں نے آبادی کا تناسب بڑھانا ہے تو۔ وگرنہ بہت سے لوگ دلبرداشتہ ہو کے آنے کا خیال چھوڑ بھی سکتے ہیں۔ اور جو رہ رہے ہیں انکی فرسٹریشن میں مذید اضافہ ہو سکتا ہے۔ آگے ہی مہنگائی نے لوگوں کو بہت متاثر کیا ہوا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *