Banner
Daily Sahafat Quetta
September 11, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بلوچستان پولیس کی کارروائیاں، 16 مغوی بازیاب، سیکڑوں ملزمان گرفتارنوشکی بس اڈہ میں فائرنگ، دکاندار جاں بحقڈاکٹر نور اللہ موسیٰ خیل تمام سزاؤں سے بری، محکمہ صحت کا نوٹیفکیشن جاریپولیس کمسن بچوں کے ساتھ زیادتی میں ملوث اسد علی کے خلاف قانونی کارروائی کریںسونا اور چاندی آج بھی سستے ہو گئے، قیمت میں بڑی کمی27 ستمبر احتجاج؛ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات کیلیے رابطے، سیاسی سرگرمیاں تیزحکومت اور پیپلز پارٹی میں ڈیڈ لاک ختم، قانون سازی پر لچک کا امکاناسرائیل کا قسام کی خان یونس بریگیڈ کے کمانڈر کو ہلاک کرنے کا دعویٰموخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئےآئی پی پیز کے ساتھ 30 اور 40 سال کے نئے معاہدوں کا انکشافبلوچستان پولیس کی کارروائیاں، 16 مغوی بازیاب، سیکڑوں ملزمان گرفتارنوشکی بس اڈہ میں فائرنگ، دکاندار جاں بحقڈاکٹر نور اللہ موسیٰ خیل تمام سزاؤں سے بری، محکمہ صحت کا نوٹیفکیشن جاریپولیس کمسن بچوں کے ساتھ زیادتی میں ملوث اسد علی کے خلاف قانونی کارروائی کریںسونا اور چاندی آج بھی سستے ہو گئے، قیمت میں بڑی کمی27 ستمبر احتجاج؛ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات کیلیے رابطے، سیاسی سرگرمیاں تیزحکومت اور پیپلز پارٹی میں ڈیڈ لاک ختم، قانون سازی پر لچک کا امکاناسرائیل کا قسام کی خان یونس بریگیڈ کے کمانڈر کو ہلاک کرنے کا دعویٰموخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئےآئی پی پیز کے ساتھ 30 اور 40 سال کے نئے معاہدوں کا انکشاف

بزمِ امجد ، لفظوں سے معاشرے تک خوشی کا سفر

بزمِ امجد ، لفظوں سے معاشرے تک خوشی کا سفر
تحریر، امجد اقبال امجد

معاشرے صرف اینٹوں، سیمنٹ اور بلند عمارتوں سے نہیں بنتے، معاشرے دلوں سے بنتے ہیں؛ اور دلوں کو قریب لانے کے لیے کبھی ایک خوبصورت شعر کافی ہوتا ہے، کبھی ایک محبت بھری گفتگو، کبھی کسی شاعر کی آواز اور کبھی چند ایسے لوگ جو یہ عہد کر لیں کہ وہ اپنے حصے کی روشنی ضرور بانٹیں گے۔
بزمِ امجد بھی اسی خوبصورت سوچ کا نام ہے۔
بزمِ امجد ہر ماہ مشاعرے کا اہتمام محض شعری نشست کے لیے نہیں کرتی، بلکہ اس کے پیچھے ایک وسیع تر مقصد کارفرما ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ادب زندہ رہے، زبان زندہ رہے، شعر و سخن کی روایت نئی نسل تک منتقل ہو اور نوجوان نسل کا اردو زبان و ادب سے تعلق مزید مضبوط ہو۔
آج کا انسان تیز رفتار زندگی، موبائل کی اسکرین، معاشی پریشانیوں اور روزمرہ کی مصروفیات میں گھرا ہوا ہے۔ لوگوں کے پاس ایک دوسرے کے لیے وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔ چہروں پر مسکراہٹ کم اور ذہنی تھکن زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ ایسے ماحول میں مشاعرہ صرف شعر سننے کی محفل نہیں رہتا؛ یہ انسان کو انسان کے قریب لانے کا ایک خوبصورت وسیلہ بن جاتا ہے۔
جب مختلف عمر، مختلف مزاج اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک جگہ بیٹھتے ہیں، ایک دوسرے کا کلام سنتے ہیں، داد دیتے ہیں اور مسکراتے ہیں تو دراصل وہاں ایک ایسا سماجی رشتہ جنم لیتا ہے جس کی بنیاد محبت، احترام اور شائستگی پر ہوتی ہے۔
بزمِ امجد اسی رشتے کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس بزم کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ یہاں ادب کو صرف کتابوں اور دیوانوں تک محدود نہیں سمجھا جاتا۔ ادب کو زندگی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ اچھا ادب انسان کو صرف اچھے الفاظ نہیں دیتا، اسے بہتر سوچ، بہتر احساس اور بہتر رویہ بھی عطا کرتا ہے۔
ایک اچھا شعر کبھی دل کا بوجھ ہلکا کر دیتا ہے، کبھی کسی اداس انسان کے چہرے پر مسکراہٹ لے آتا ہے، کبھی کسی نوجوان کو اپنی زبان سے محبت کرنا سکھاتا ہے اور کبھی انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ دنیا میں خوبصورتی ابھی باقی ہے۔
بزمِ امجد کی ماہانہ ادبی سرگرمی دراصل اسی خوبصورتی کی تلاش ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ لوگ گھروں سے نکلیں، ایک دوسرے سے ملیں، گفتگو کریں، شعر سنیں، شعر کہیں، ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کریں اور کچھ وقت ایسی فضا میں گزاریں جہاں نفرت کے بجائے محبت، تنقید کے بجائے حوصلہ افزائی اور فاصلے کے بجائے قربت ہو۔
خاص طور پر نئی نسل کے لیے ایسی محافل کی ضرورت آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے اور نوجوان اردو سے جڑے رہیں تو ہمیں اردو کو صرف نصاب کی کتاب میں نہیں بلکہ زندگی کی خوشیوں میں شامل کرنا ہوگا۔ انہیں مشاعروں، ادبی نشستوں، کتابوں اور اہلِ قلم سے ملنے کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔
بزمِ امجد اسی سمت میں ایک چھوٹی مگر مخلصانہ کوشش ہے۔
یہ بزم شاعر کو سامع دیتی ہے، سامع کو شعر دیتی ہے، نوجوان کو زبان سے جوڑتی ہے اور معاشرے کو مل بیٹھنے کا ایک بہانہ دیتی ہے۔
اور شاید آج ہمارے معاشرے کو سب سے زیادہ اسی بہانے کی ضرورت ہے۔
ہمیں ایسے مقامات چاہییں جہاں لوگ ایک دوسرے کو صرف سیاسی، معاشی یا سماجی شناخت سے نہ پہچانیں بلکہ ایک دوسرے کو انسان سمجھ کر ملیں۔
بزمِ امجد کی محفل میں جب شاعر اپنا شعر پڑھتا ہے اور سامنے بیٹھے لوگ دل کھول کر داد دیتے ہیں تو اس لمحے کوئی اجنبی نہیں رہتا۔ شعر ایک پل بن جاتا ہے؛ دل سے دل تک پہنچنے والا پل۔
یہی ادب کی اصل طاقت ہے۔
بزمِ امجد کا خواب صرف مشاعرے منعقد کرنا نہیں، بلکہ ادب کے ذریعے ایک خوشگوار، باوقار، باہمی احترام اور محبت سے بھرپور معاشرے کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔
ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ چند مشاعرے معاشرے کو بدل دیں گے، مگر ہمارا یقین ہے کہ ہر بڑی تبدیلی ایک چھوٹی سی کوشش سے شروع ہوتی ہے۔ ایک چراغ دوسرے چراغ کو روشن کرتا ہے، ایک مسکراہٹ دوسری مسکراہٹ کو جنم دیتی ہے اور ایک خوبصورت شعر کبھی کبھی ایک پورے دل کی دنیا بدل دیتا ہے۔
اسی امید کے ساتھ بزمِ امجد کا سفر جاری ہے۔
یہ سفر لفظوں کا سفر ہے، محبت کا سفر ہے، اردو کے فروغ کا سفر ہے، نئی نسل کو اپنی تہذیبی اور ادبی جڑوں سے جوڑنے کا سفر ہے۔
اور سب سے بڑھ کر—
یہ انسان کو انسان کے قریب لانے کا سفر ہے۔
دعا ہے کہ بزمِ امجد کی ہر ماہ سجنے والی محفل میں شعر بھی مہکتا رہے، ادب بھی پروان چڑھتا رہے، اردو بھی نئی نسل کے دل میں جگہ بناتی رہے اور لوگوں کے چہروں پر وہ خوشی واپس آتی رہے جس کی آج ہمارے معاشرے کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
بزمِ امجد صرف ایک ادبی بزم نہیں؛
یہ محبت کے لفظوں سے ایک خوبصورت معاشرہ تعمیر کرنے کی ایک مخلص کوشش ہے۔
اور جب نیت اچھی ہو، راستہ ادب کا ہو اور مقصد انسانوں کے چہروں پر خوشی بکھیرنا ہو تو سفر کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔
لفظ زندہ رہیں گے تو احساس زندہ رہے گا،
احساس زندہ رہے گا تو انسانیت زندہ رہے گی۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *