Banner
Daily Sahafat Quetta
September 11, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
اسرائیل کا قسام کی خان یونس بریگیڈ کے کمانڈر کو ہلاک کرنے کا دعویٰموخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئےآئی پی پیز کے ساتھ 30 اور 40 سال کے نئے معاہدوں کا انکشافبڑی طاقت، چھوٹا انصافہائی جیکنگ کی سازش کا سیاہ دداستان۔قسط3سوراب کی تاریخ میں پہلی بار گرینڈ خواتین کھلی کچہری کا انعقاد، 200 سے زائد خواتین کی شرکتنوجوانوں کے روشن مستقبل کی جانب ایک خوبصورت قدم، لسبیلہ میں کیریئر کاؤنسلنگ سیمیناربلوچستان میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن، 16 مغوی بازیابڈاکٹر عظمیٰ زریں نازیہ کا رحمٰن فاؤنڈیشن ڈائیلاسز سینٹر کا دورہقائداعظم کا پاکستان ہماری نسلوں کی امانت ہے، سرفراز بگٹیاسرائیل کا قسام کی خان یونس بریگیڈ کے کمانڈر کو ہلاک کرنے کا دعویٰموخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئےآئی پی پیز کے ساتھ 30 اور 40 سال کے نئے معاہدوں کا انکشافبڑی طاقت، چھوٹا انصافہائی جیکنگ کی سازش کا سیاہ دداستان۔قسط3سوراب کی تاریخ میں پہلی بار گرینڈ خواتین کھلی کچہری کا انعقاد، 200 سے زائد خواتین کی شرکتنوجوانوں کے روشن مستقبل کی جانب ایک خوبصورت قدم، لسبیلہ میں کیریئر کاؤنسلنگ سیمیناربلوچستان میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن، 16 مغوی بازیابڈاکٹر عظمیٰ زریں نازیہ کا رحمٰن فاؤنڈیشن ڈائیلاسز سینٹر کا دورہقائداعظم کا پاکستان ہماری نسلوں کی امانت ہے، سرفراز بگٹی

ہائی جیکنگ کی سازش کا سیاہ دداستان۔قسط3

احمدخان اچکزئی

ہائی جیکنگ کی سازش کا سیاہ دداستان۔قسط3

محترم قارئین، رات کے پچھلے پہر ان دونوں افراد میں سے ایک کو اس قدر بے رحمی سے مارا پیٹا گیا کہ میں نے اپنے کان انگلیوں سے بند کر لیے، لیکن اس کے باوجود اس کی چیخیں صاف سنائی دیتی رہیں۔ ہر کوڑے کے ساتھ وہ چیختا تھا”خدا کی قسم، میں نے کچھ نہیں کیا، مجھے کیوں مار رہے ہو وہ مسلسل کلمہ پڑھتا رہا، مگر اس کے باوجود پوری رات اسے بلا توقف بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔اگلی رات، میں نے بڑی ہمت جمع کر کے ایک افسر سے پوچھا کہ گزشتہ رات اس شخص کے ساتھ اتنی سنگ دلی کیوں برتی گئی اور اس کا قصور کیا تھا۔ اس پر افسر نے مجھے بتایا کہ جس شخص کو مارا جا رہا تھا، اس نے انہیں رشوت کی پیشکش کی تھی، جس پر وہ لوگ شدید غضب ناک ہو گئے اور اسی وجہ سے اسے اس طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔اس لاپروانہ اور غیر ذمہ دارانہ جواب کو سن کر مجھے یہ احساس ہوا کہ دراصل یہ لوگ خود عوام کے دلوں میں نفرت کے بیج بو رہے ہیں۔ وہ شخص ایک دیہاتی اور ان پڑھ انسان تھا، اور اسی بنا پر اسے اس حد تک مارا پیٹا گیا۔ میں سوچنے لگا کہ آخر اس ظلم پر سوال اٹھانے والا کوئی کیوں نہیں؟ اگر یہ ہمارے ملک کا سب سے بڑا اور معیاری تفتیشی ادارہ ہے اور یہاں اس طرح کی بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں تو باقی اداروں کا کیا حال ہوگا؟ جب بھی مجھے تفتیش سے کچھ مہلت ملتی، میں اپنا وقت نماز اور صرف اللہ کو یاد کرنے میں گزارتا۔ میں شدت سے اس کا نام لیتا اور سوچتا کہ آخر اس آزمائش اوراس کڑی سزا کی وجہ کیا ہے جو مجھ پر مسلط کی گئی ہے۔ مگر میں کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔ کبھی میں روتا اور کبھی ہنسنے لگتا۔ میری خودداری، وقار اور بے بسی یہ سب مل کر عجیب و غریب کیفیت میں ڈھل جاتے۔میرے کمرے کا دروازہ ہمیشہ تقریباً چار انچ کھلا رکھا جاتا تھا۔ میں اسی شگاف سے سامنے موجود پہاڑ کو سارا دن دیکھتا رہتا اور سوچتا کہ اس پہاڑ کے اُس پار میرے والدین، بہن بھائی، بیوی، بچے اور میرے اپنے لوگ میری جدائی میں کس کرب سے گزر رہے ہوں گے۔ میں ہمیشہ یہ سوچتا رہتا کہ آیا انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ میں کس حال میں ہوں، زندہ ہوں یا نہیں، اور اسی طرح میں بھی ان کی زندگی یا موت سے بے خبر تھا۔یوں دن گزرتے گئے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ میری بس ایک ہی امید ہوتی کہ”یہ وقت بھی گزر جائے گا۔”لیکن تفتیش کرنے والوں کا ظالمانہ رویہ مجھے بالکل ناامید کر دیتا کیونکہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ انہوں نے مجھے ہر صورت اس مقدمے میں پھنسانے کا پختہ ارادہ کر لیا ہے۔ چنانچہ میرا آخری سہارا صرف اللہ سے مدد اور صبر کی دعا تھا، کیونکہ میری زندگی کے قیمتی ترین لمحات اس تنگ و تاریک کوٹھڑی میں ضائع ہو رہے تھے۔ میں لمحہ لمحہ گنتا رہتا تھا اور بس یہی سوچتا تھا کہ میری زندگی آخر کس موڑ پر آ کر اس اذیت میں بدل گئی۔میں خود کو ایک ایسی مچھلی تصور کرتا تھا جسے سمندر سے نکال کر شیشے کے ایک تنگ حوض میں ڈال دیا گیا ہو نہ وہ مرتی ہے اور نہ ہی صحیح معنوں میں زندہ رہتی ہے، بس زندگی سے مایوس ہو جاتی ہے۔میں کوئٹہ کے کولی کیمپ میں پینتالیس دن گزار چکا تھا کہ 14 اور 15 مئی 1988ء کی درمیانی صبح، تقریباً نو بجے، میرے سر اور چہرے پر نقاب ڈال کر ایک بار پھر مجھے ایک گاڑی میں بٹھایا گیا۔ گاڑی روانہ ہوئی اور راستے میں مجھے اندازہ ہونے لگا کہ شاید مجھے کوئٹہ جیل لے جایا جا رہا ہے۔ لیکن جب کافی دیر گزرنے کے باوجود گاڑی نہ رکی تو میں شدید مایوسی کا شکار ہو گیا۔ تقریباً مزید آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد گاڑی ایک طیارے کے قریب جا کررکی، جسے میں نقاب میں موجود ایک چھوٹے سے سوراخ سے دیکھ سکتا تھا۔ مجھے طیارے میں سوار کر دیا گیا۔ میں نے سوچا کہ شاید مجھے کراچی لے جایا جا رہا ہے، مگر جب طویل پرواز کے بعد طیارہ اترا تو مجھے اندازہ ہوا کہ یہ کراچی نہیں ہو سکتا۔ وہاں بہت سے درخت تھے اور علاقہ خاصا ویران اور آبادی سے دور دکھائی دیتا تھا۔ایک بار پھر مجھے ایک جیپ میں بٹھایا گیا، اور اس مرتبہ میرے ساتھ ایک اور شخص بھی موجود تھا۔ ہمیں وہاں تقریباً آدھا گھنٹہ انتظار کرنا پڑا، جس کے بعد چار مزید گاڑیاں آئیں جن میں لینڈ کروزر اور ایک سیلون۔ کار کے آتے ہی ہم ایک قافلے کی صورت میں اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئے۔راستے میں ایک بازار آیا جہاں ٹریفک خاصی گنجان تھی۔ ایک دو مرتبہ میں نے مورس ٹیکسیاں دیکھیں تو میں نے اندازہ لگایا کہ شاید ہم راولپنڈی میں ہیں۔ تقریباً 45 منٹ کے طویل سفر کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ ہم اسپیشل انویسٹی گیشن برانچ تک پہنچ چکے ہیں۔جاری
اقتباسِ تصنیف(واشنگٹن سے بیجنگ تک)

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *