Banner
Daily Sahafat Quetta
September 11, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
اسرائیل کا قسام کی خان یونس بریگیڈ کے کمانڈر کو ہلاک کرنے کا دعویٰموخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئےآئی پی پیز کے ساتھ 30 اور 40 سال کے نئے معاہدوں کا انکشافبڑی طاقت، چھوٹا انصافہائی جیکنگ کی سازش کا سیاہ دداستان۔قسط3سوراب کی تاریخ میں پہلی بار گرینڈ خواتین کھلی کچہری کا انعقاد، 200 سے زائد خواتین کی شرکتنوجوانوں کے روشن مستقبل کی جانب ایک خوبصورت قدم، لسبیلہ میں کیریئر کاؤنسلنگ سیمیناربلوچستان میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن، 16 مغوی بازیابڈاکٹر عظمیٰ زریں نازیہ کا رحمٰن فاؤنڈیشن ڈائیلاسز سینٹر کا دورہقائداعظم کا پاکستان ہماری نسلوں کی امانت ہے، سرفراز بگٹیاسرائیل کا قسام کی خان یونس بریگیڈ کے کمانڈر کو ہلاک کرنے کا دعویٰموخا ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے 2 فضائی حملے، حوثی باب المندب کے قریب پہنچ گئےآئی پی پیز کے ساتھ 30 اور 40 سال کے نئے معاہدوں کا انکشافبڑی طاقت، چھوٹا انصافہائی جیکنگ کی سازش کا سیاہ دداستان۔قسط3سوراب کی تاریخ میں پہلی بار گرینڈ خواتین کھلی کچہری کا انعقاد، 200 سے زائد خواتین کی شرکتنوجوانوں کے روشن مستقبل کی جانب ایک خوبصورت قدم، لسبیلہ میں کیریئر کاؤنسلنگ سیمیناربلوچستان میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن، 16 مغوی بازیابڈاکٹر عظمیٰ زریں نازیہ کا رحمٰن فاؤنڈیشن ڈائیلاسز سینٹر کا دورہقائداعظم کا پاکستان ہماری نسلوں کی امانت ہے، سرفراز بگٹی

بڑی طاقت، چھوٹا انصاف

محمدنسیم رنزوریار

بڑی طاقت، چھوٹا انصاف

قارئین کرام، اقوامِ عالم کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جہاں اقتدار کی ہوس اور طاقت کی نمائش غالب آ جائے، وہاں انصاف کی روح دم توڑ دیتی ہے۔ دنیا میں “بڑی طاقت، چھوٹا انصاف” ایک ایسا چیلنج ہے جس نے انسان کو قدیم دور سے لے کر آج کے جدید اور نام نہاد مہذب دور تک مسلسل اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ طاقتور طبقہ اور عظيم ریاستیں ہمیشہ اپنے مفادات، جغرافیائی تسلط اور سیاسی غلبے کے لیے ایسے قوانین وضع کرتی ہیں جو کمزوروں کے لیے تو زہرِ قاتل ہوتے ہیں لیکن خود ان کے لیے ان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ جب طاقت اور انصاف کی میزان میں توازن بگڑتا ہے تو معاشرے میں بگاڑ اور بین الاقوامی سطح پر انارکی جنم لیتی ہے۔اگر ہم انسانی تاریخ کا جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ انصاف کی عدم فراہمی اور طاقت کا بے جا استعمال کوئی نیا مظہر نہیں ہے۔ قدیم یونانی مؤرخ تھوسیڈائڈز نے اپنی مشہور زمانہ کتاب میں لکھا تھا کہ “طاقتور وہ کرتے ہیں جو وہ کر سکتے ہیں، اور کمزور وہ سہتے ہیں جو انہیں سہنا پڑتا ہے۔” یہ قول آج کے بین الاقوامی منظر نامے پر بھی اتنی ہی سختی سے صادق آتا ہے جتنا صدیوں پہلے آتا تھا۔ تاریخ میں رومن ایمپائر سے لے کر برطانوی سامراج تک، تمام بڑی طاقتوں نے اپنے زیرِ نگیں علاقوں پر قانون کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ کمزور قوموں کی وسوسہ انگیزی، ان کے وسائل کی لوٹ مار اور ان پر ناہموار شرائط عائد کرنا طاقتور کی وہ حکمتِ عملی رہی ہے جسے قانون کی آڑ میں چھپایا گیا۔بین الاقوامی تعلقات اور موجودہ عالمی نظام کے تناظر میں دیکھا جائے تو دوسری جنگِ عظیم کے بعد اقوامِ متحدہ جیسے اداروں کا قیام اس امید کے ساتھ عمل میں لایا گیا تھا کہ اب دنیا میں انصاف کا بول بالا ہوگا اور کسی چھوٹی قوم کو طاقتور کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ڈھانچہ خود طاقت کی اسی ناانصافی کی عکاسی کرتا ہے۔ ویٹو پاورکی شکل میں چند بڑی طاقتوں کو وہ اختیار دے دیا گیا ہے جو کسی بھی منصفانہ فیصلے کو پل بھر میں معطل کر سکتا ہے۔ جب بھی کسی طاقتور ملک یا اس کے اتحادی کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہوتی ہے، تو ویٹو کا بے دریغ استعمال انصاف کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔اس عالمی ناانصافی کا سب سے دردناک پہلو وہ دوہرے معیارات ہیں جو ہم دنیا بھر میں دیکھ رہے ہیں۔ کسی ایک خطے میں اگر کوئی چھوٹا ملک عالمی قوانین کی معمولی خلاف ورزی کرے تو اس پر فوراً اقتصادی پابندیاں، سفارتی بائیکاٹ اور فوجی کارروائیاں مسلط کر دی جاتی ہیں۔ لیکن دوسری جانب اگر کوئی بڑی طاقت یا اس کا منظورِ نظر اتحادی ملک بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں بکھیرے، آزاد ریاستوں پر حملے کرے، انسانی حقوق کو پامال کرے یا غاصبانہ تسلط قائم رکھے، تو پوری عالمی برادری اور ادارے خاموش تماشائی بن جاتے ہیں۔ یہ دوہرا معیار اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر انصاف اب اصولوں کا نہیں بلکہ طاقت کا مرہونِ منت بن چکا ہے۔بڑی طاقتوں کی اس ناانصافی کے نتیجے میں کمزور ریاستوں کے اندر ایک عمیق مایوسی، بے چینی اور تلخی جنم لیتی ہے۔ جب مظلوم اقوام کو یہ یقین ہو جائے کہ انہیں عالمی عدالتوں، اقوامِ متحدہ اور عالمی قوانین سے انصاف نہیں ملے گا، تو وہ تشدد اور انتہا پسندی کے راستے پر گامزن ہو جاتی ہیں۔ دنیا بھر میں قائم بے شمار تنازعات، جنگیں اور خونریزی دراصل اسی بگاڑ اور ناانصافی کا شاخسانہ ہیں۔ انصاف کی غیر موجودگی نہ صرف کمزور کے وجود کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ خود بڑی طاقتوں کے اپنے وجود اور عالمی امن کے لیے بھی ایک خاموش زہر کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ تاریخ کا یہ بھی سبق ہے کہ غیر منصفانہ نظام کبھی پائیدار نہیں رہتے۔اگر انسانیت کو پرامن اور محفوظ مستقبل کی طرف قدم بڑھانا ہے تو اس “بڑی طاقت اور چھوٹے انصاف” کی زہریلی روایات کو بدلنا ہوگا۔ ہمیں ایک ایسے عالمی نظام کی اشد ضرورت ہے جہاں قانون کی حکمرانی طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے یکساں ہو۔ اقوامِ متحدہ جیسے اداروں میں اصلاحات کی جائیں تاکہ تمام ممالک کو مساوی حقوق مل سکیں اور ویٹو جیسے ناانصافی پر مبنی اختیارات کو ختم کیا جائے۔ سچ اور حق کی بنیاد پر فیصلے کرنے والے آزاد اور بااختیار ادارے ہی دنیا کو تباہی سے بچا سکتے ہیں۔ جب تک عالمی برادری طاقت کے بجائے حق اور سچائی کو انصاف کی بنیاد نہیں بنائے گی، تب تک امن کا خواب محض ایک سراب رہے گا اور انسان مظالم کی چکی میں پستے رہیں گے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *