Banner

تاریخ بے رحم ہے: بولان درہ کی حقیقت اور مصنوعی سیاست کا المیہ

Share

Share This Post

or copy the link

احمد خان اچکزئی

تاریخ بے رحم ہے: بولان درہ کی حقیقت اور مصنوعی سیاست کا المیہ

محترم قارئین ۔ آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ علم، تحقیق، اور تاریخ کے وسیع و عمیق مطالعے سے محروم، مصنوعی سیاست کے تربیت یافتہ چند لوگ حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے محض جذباتی تنقید کا سہارا لیتے ہیں۔ شخصیت پرستی، تعصب گری، اور تنگ نظری کے اندھیروں ًمیں ڈوبے یہ عناصر تاریخ کے اصل چہرے کو دیکھنے سے اس لیے انکاری ہیں کیونکہ وہ بے خبر اور علمی پسماندگی کا شکار ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ فصاحت، بلاغت، اور سچی تاریخ کے شعور سے باخبر انسان کبھی بھی شخصیت پرستی کی فکری کمزوری کا شکار نہیں ہوتا۔ سچے محقق اور دیانت دار قلم کار کا کام دنیا کے سامنے اصل حقائق لانا ہوتا ہے، خواہ وہ کسی کے لیے کتنے ہی تلخ کیوں نہ ہوں، کیونکہ تاریخ کسی کی لونڈی یا ذاتی جاگیر نہیں ہوتی؛ یہ انتہائی بے رحم ہے اور اپنا سچ خود منوا کر رہتی ہے۔ آج کے نام نہاد سیاست کے آلے اور علم و تحقیق سے محروم لوگ اگر ماضی کے سچ سے نظریں چراتے ہیں، تو اس سے سچ بدل نہیں جاتا۔جب ہم 1839ء کی پہلی اینگلو-افغان جنگ (First Anglo-Afghan War) کے تاریخی پس منظر کا رخ کرتے ہیں، تو نوآبادیاتی طاقتوں کے کبر و غرور اور مقامی غیرت و حمیت کے ٹکراؤ کی ایک عجیب و غریب، حیران کن اور سبق آموز داستان سامنے آتی ہے۔ انگریز مورخ ولیم ڈارلمپل (William Dalrymple) کی شہرہ آفاق تصنیف “Return of the King” اُس دور کے برطانوی استعمار کی “گریٹ گیم” کی ایک مستند ترین دستاویزی شہادت ہے۔ کتاب کے اہم ابواب میں جب “آرمی آف دی انڈس” (Army of the Indus) کا تفصیلی ذکر آتا ہے، تو رعب و دبدبے سے لیس 21,000 باقاعدہ فوج، 38,000 خچر، اور 30,000 اونٹوں پر مشتمل برطانوی لشکر جب سندھ کو اپنے قابو میں کرنے کے بعد کابل کی طرف بڑھا تاکہ وہاں غاصبانہ طور پر شاہ شجاع کو تخت نشین کر سکے، تو اسے بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں، پُرپیچ راستوں اور تپتے ہوئے دروں میں وہ عبرت ناک سبق سکھایا گیا جو برطانوی عسکری تاریخ کا ایک بھیانک اور دردناک باب بن گیا۔آج کے کچھ ناقدین اور تاریخ کی الف ۔با۔ سے ناواقف افراد یہ سطحی اعتراض اٹھاتے ہیں کہ انگریز فوج کو بولان درہ میں مکمل طور پر روکا کیوں نہیں جا سکا؟ لیکن یہ معترضین گوریلا جنگ اور قبائلی مزاحمت کے بنیادی اصولوں سے ہی جاہل ہیں۔ گوریلا مزاحمت کا مقصد کسی باقاعدہ فوج کے سامنے صف آرا ہو کر اسے جام کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اس کی سپلائی لائن کاٹنا، اسے اس حد تک کمزور، خوفزدہ اور مفلوج کرنا ہوتا ہے کہ وہ آگے جا کر لڑنے اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کے قابل ہی نہ رہے۔ 55 میل طویل، تنگ اور دوزخ کی طرح تپتے ہوئے بولان درہ میں مری، اور براہوی قبائل نے برطانوی فوج کا وہ حشر کیا جس کا اعتراف خود مغرور انگریز کمانڈرز نے اپنی ذاتی ڈائریوں اور سرکاری رپورٹس میں کیا۔ برطانوی کمانڈر سر جان کین نے حسرت و یاس کے ساتھ لکھا کہ “ہمارا ساز و سامان، ہمارے اونٹ اور ہمارے پیادے ہر گزرتے دن کے ساتھ غائب ہو رہے تھے۔” جو سفر محض پانچ دن میں طے ہونا تھا، ان غیور قبائل کی گوریلا کارروائیوں کی بدولت وہ تین ہفتوں کے طویل عذاب میں تبدیل ہو گیا، جہاں 5,000 سے زائد اونٹ مارے یا لوٹ لیے گئے، اور راشن و گولہ بارود کی شدید ترین کمی نے کابل پہنچنے سے پہلے ہی انگریز فوج کے اعصاب اور حوصلے توڑ کر رکھ دیے۔ لیفٹیننٹ جیمز آؤٹ رم (Lt. James Outram) کی ڈائری پکار پکار کر اس سچائی کی گواہی دیتی ہے کہ “Baloch snipers made every mile costly” یعنی مقامی نشانہ بازوں نے ہمارے لیے ہر ایک میل کو انتہائی مہنگا اور خونی بنا دیا تھا۔ ولیم ڈارلمپل نے برٹش لائبریری کے انہی مستند خطوط اور برطانوی افسران کی ڈائریوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ درہ ایک جلتی ہوئی بھٹی کی مانند تھا اور ہر چٹان کے پیچھے ایک دشمن موت بن کر چھپا ہوا تھا۔ انگریز وہاں سے گزرا ضرور، مگر ایک فاتح کی طرح نہیں بلکہ ایک ہاری ہوئی، بھوکی اور خوفزدہ فوج کی طرح۔سیاسی غلامی، نوآبادیاتی وظیفہ خوری اور غیر ملکی تسلط کو جوتے کی نوک پر رکھنے والی غیرت مند قوموں کا یہی شیوہ ہوتا ہے کہ وہ غاصب کا راستہ اس حد تک مہنگا کر دیتی ہیں کہ دشمن کی بظاہر نظر آنے والی فتح بھی بدترین شکست کا منظر پیش کرنے لگتی ہے۔ قلات کے غیور حکمران خان مہراب خان نے انگریز کی بالادستی اور ان کی لائی ہوئی غلامی کو ماننے سے صاف انکار کیا اور 13 نومبر 1839ء کو جامِ شہادت نوش کر کے تاریخ کے افق پر ہمیشہ کے لیے لازوال ہو گئے۔ انگریزوں نے سندھ پر قبضے اور قلات میں خونی ہولی کھیلنے کے بعد جب یہ سمجھا کہ اب راستہ صاف ہے، تو اسی مزاحمتی اور غیرت مندانہ سلسلے کی ایک اگلی اور انتہائی مضبوط کڑی ہیکلزئی (Haikalzai) کے تاریخی میدان میں سامنے آئی۔ یہاں غازی مدت خان غیبیزئی نے اپنی قبائلی غیرت اور ایمانی جذبے کے ساتھ انگریز فوج کے سامنے وہ تاریخی اور فولادی مزاحمت کھڑی کی جس نے برطانوی استعمار کے کبر و غرور کو خاک میں ملا دیا۔ دشمن کی زبانی ملنے والے یہ ناقابلِ تردید اعترافات، جابجا بکھری ہوئی برطانوی افسران کی ڈائریاں، اور Imperial Gazetteer of Baluchistan کے سرکاری ریکارڈز ان تمام لوگوں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہیں جو آج سستی سیاست اور گھٹیا تنقید کے شوق میں اپنے اسلاف کی لازوال قربانیوں اور معرکوں کو کم تر دکھانے کی ناکام و نامراد کوشش کرتے ہیں۔ سچی تاریخ کسی مصنوعی سیاستدان کے لولی پاپ یا جذباتی نعروں سے نہیں، بلکہ خان مہراب خان کی عظیم قربانی اور غازی مدت خان غیبیزئی جیسے جری و بہادر اسلاف کے ٹھوس تاریخی، کتابی اور دستاویزی حقائق کی روشنی میں لکھی جاتی ہے، اور یہی وہ حقیقی سچ ہے جو رہتی دنیا تک تاریخ کے صفحات پر امر رہے گا۔

تاریخ بے رحم ہے: بولان درہ کی حقیقت اور مصنوعی سیاست کا المیہ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us