Banner

سیاست یا سوداگری؟؟؟

Share

Share This Post

or copy the link

محمدنسیم رنزوریار

سیاست یا سوداگری؟؟؟

قارئین کرام! سیاست اپنی اصل روح میں عوامی خدمت، اجتماعی فلاح اور قومی مفادات کے تحفظ کا نام ہے، مگر جب اقتدار ذاتی فائدے، مالی مفاد اور خاندانی اثرورسوخ کا ذریعہ بن جائے تو یہی سیاست سوداگری کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی عظیم سلطنتیں صرف بیرونی حملوں سے نہیں بلکہ اندرونی مفاد پرستی، رشوت، اقربا پروری اور اقتدار کی خرید و فروخت سے کمزور ہوئیں، قدیم روم کی سلطنت سے لے کر برصغیر کی ریاستوں تک ایسے بے شمار حقیقی واقعات ملتے ہیں جہاں عوام کی امانت کو ذاتی دولت سمجھنے والوں نے ریاستی نظام کو نقصان پہنچایا، یہی وجہ ہے کہ دانشوروں نے کہا ہے کہ جب اصول بازار میں فروخت ہونے لگیں تو سیاست نہیں بلکہ سوداگری جنم لیتی ہے۔ تاریخی حقائق یہ بھی بتاتے ہیں کہ حکمرانوں کی دیانت نے قوموں کو عروج بخشا جبکہ لالچ نے انہیں زوال کی طرف دھکیلا، خلافتِ راشدہ کے دور میں حکمران خود کو عوام کا خادم سمجھتے تھے اور بیت المال کو امانت قرار دیتے تھے جس کی بدولت انصاف اور اعتماد قائم رہا، اس کے برعکس کئی ادوار میں درباروں میں عہدوں کی خرید و فروخت، سفارش اور طاقت کی بنیاد پر فیصلے کیے گئے جس کے نتیجے میں ریاستی ادارے کمزور اور عوام بددل ہوئے، یہ حقیقت کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں بلکہ دنیا کی مختلف تہذیبوں کی تاریخ میں دہرائی گئی ہے کہ جب سیاسی فیصلے قومی مفاد کے بجائے ذاتی مفاد کے تابع ہو جائیں تو ترقی کا سفر رک جاتا ہے۔
موجودہ دور میں سیاست اور سوداگری کے درمیان فرق مزید باریک محسوس ہوتا ہے کیونکہ انتخابی مہمات، تشہیری مہموں، سرمایہ کاری اور سیاسی اتحادوں میں بڑی مالی طاقت کا کردار بڑھ چکا ہے، اگر سرمایہ عوامی خدمت کے منصوبوں اور شفاف انتخابی عمل کے لیے استعمال ہو تو یہ جمہوریت کو مضبوط کرتا ہے، لیکن جب دولت ووٹ، ضمیر یا فیصلے خریدنے کا ذریعہ بن جائے تو سیاسی نظام اپنی اخلاقی بنیاد کھو دیتا ہے، کئی ممالک میں بدعنوانی کے بڑے مقدمات سامنے آئے جنہوں نے ثابت کیا کہ طاقت اور سرمایہ جب قانون سے بالاتر سمجھ لیے جائیں تو قومی خزانے اور عوامی اعتماد دونوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ پاکستان کے تناظر میں یہ بحران اس وقت انتہاء کو چھوتا دکھائی دیتا ہے جب وفاقی و صوبائی وزراء، سینیٹرز، اور مقامی حکومتوں کے نمائندوں بشمول تحصیل میئرز، ڈپٹی میئرز، ضلعی چیئرمینز، وائس چیئرمینز اور یونین کونسلرز کے سالانہ اخراجات، شاہانہ مراعات اور ترقیاتی فنڈز کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے، قومی خزانے سے ان عہدیداروں کی تنخواہوں، رہائشی الاؤنسز، غیر ملکی دوروں، مفت پٹرول، اور سیکیورٹی پروٹوکول کی مد میں اربوں روپے سالانہ جھونک دیے جاتے ہیں، جب کہ دوسری جانب ان کی صوابدید پر دیے جانے والے ترقیاتی فنڈز کی خطیر مقدار شفافیت اور ٹھوس حکمت عملی کے بجائے سیاسی وفاداریاں خریدنے، اقربا پروری پر مبنی ٹھیکے دینے اور آئندہ انتخابات کے لیے اپنا حلقہ اثر مضبوط کرنے کی نذر ہو جاتی ہے، عوامی ٹیکسوں سے جمع ہونے والا یہ سرمایہ جب عوامی بہبود کے پائیدار منصوبوں پر صرف ہونے کے بجائے غیر پیداواری اخراجات اور ذاتی نمود و نمائش کی بھینٹ چڑھتا ہے تو پاکستان کا مفلوک الحال قومی خزانہ قرضوں کے بوجھ تلے مزید دب جاتا ہے، جس سے معاشی خودمختاری پامال اور خط غربت سے نیچے سسکتی ہوئی عوام پر براہ راست مہنگائی اور ٹیکسوں کا جان لیوا بوجھ لاد دیا جاتا ہے۔
عجیب مگر حقیقی حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے کئی ایسے رہنماء بھی گزرے ہیں جنہوں نے اقتدار چھوڑنے کے بعد معمولی زندگی اختیار کی ہے اور ذاتی جائیداد میں اضافہ نہ کیا ہے، جبکہ دوسری جانب ایسے حکمرانوں کی مثالیں بھی موجود ہیں جن کے ادوار میں قومی وسائل چند ہاتھوں تک محدود ہوتے گئے، یہی تضاد سیاست اور سوداگری کے درمیان بنیادی فرق کو واضح کرتا ہے، عوامی خدمت کی سیاست اپنی کامیابی عوام کی خوشحالی میں تلاش کرتی ہے جبکہ سوداگری پر مبنی سیاست اپنی کامیابی دولت، اثرورسوخ اور اقتدار کے تسلسل میں دیکھتی ہے، اسی لیے باشعور معاشرے صرف نعروں پر نہیں بلکہ کردار، دیانت اور کارکردگی پر فیصلے کرتے ہیں۔ ایک مضبوط ریاست کی بنیاد شفاف احتساب، آزاد اداروں، قانون کی بالادستی اور باشعور شہریوں پر قائم ہوتی ہے، اگر عوام تعلیم، تحقیق اور سچائی کی بنیاد پر اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں تو سیاست خدمت کا ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن اگر ذاتی فائدہ، وقتی لالچ یا جذباتی نعروں کو معیار بنایا جائے تو سوداگری کو فروغ ملتا ہے۔ قوموں کی ترقی کا راز یہی ہے کہ سیاسی عمل کو اخلاقیات، آئین اور عوامی اعتماد سے جوڑا جائے، تاریخ کا غیر جانبدار مطالعہ یہی سبق دیتا ہے کہ سیاست جب اصولوں کے ساتھ چلتی ہے تو قومیں مضبوط ہوتی ہیں، اور جب سیاست سوداگری میں بدل جاتی ہے تو طاقت تو چند ہاتھوں میں سمٹ جاتی ہے مگر نقصان پورے معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایک کامیاب اور باوقار مستقبل کے لیے سیاست کو تجارت نہیں بلکہ خدمت، دیانت اور قومی ذمہ داری کا راستہ بنانا ناگزیر ہے۔

سیاست یا سوداگری؟؟؟

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us