Banner

میاں منظر قیوم عرفانی پیکر انسانیت اور سچا عاشق رسول اللہ

Share

Share This Post

or copy the link

میاں منظر قیوم عرفانی پیکر انسانیت اور سچا عاشق رسول اللہ
تحریر، شہزاد بھٹہ
ایک شخص جو سارے شہر کو ویران کر گیا
سید منظر قیوم عرفانی جو یاروں کا یار ،انسانیت کا پیکر اور ہر وقت دوستوں کی خدمت کے لیے حاضر ۔جس کا دسترخوان چوبیس گھنٹے دوستوں کے لیے کھلا رھا ۔کھانے پینے اور کھلانے کا شوقین منظر قیوم عرفانی ساری زندگی انسانیت کی خدمت کرتا رھا۔
منظر قیوم عرفانی ایک نہایت زبردست اور کمال کا فوٹو گرافر تھا جس کی تصویر کشی کی مہارت اور فن کا کوئی ثانی نہیں تھا کسی بھی فنکشن اور تقریب کے دوران نہایت خاموشی و سکون سے اپنا کام کرنے کا ماھر منظر قیوم تمام اپنے قبیلے کے تمام فوٹو گرافرز سے الگ سٹائل کا فوٹو گرافر تھا منظر کی فوٹو گرافی کا انداز قدرتی تھا
منظر قیوم اور شہزاد بھٹہ کی یاری 1998 میں شروع ھوتی جب شہزاد بھٹہ ڈائریکٹوریٹ آف اسپشل ایجوکیشن پنجاب میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایجوکیشن تعینات تھے جو منظر کی ناگہانی وفات تک جاری رھی
منظر قیوم عرفانی ایک نہایت مذہبی باعزت گھرانے سے تعلق رکھتے تھے آپ کی والد محترم اعلی حضرت قبلہ سید قیوم الہی عرفانی رحمتہ اللہ علیہ بادشاھی مسجد کے کئی سال خطیب اعلی رھے اس کے علاؤہ حضرت قیوم الہی عرفانی جامع مسجد شاہ جمال کے بھی خطیب رھے آپ ایک اعلی پائے کے مذہبی راہنما تھے حضرت نے تقریبا 28 بار حج مبارک کی سعادت حاصل کی۔ حضرت قیوم الہی عرفانی کے بڑے بھائی اعلی حضرت سید محمد وجیہ السیما عرفانی سندر شریف والے ھیں منظر قیوم عرفانی کا سلسلہ نسبت مولا علی سے ملتا ھے
منظر قیوم کا میاں ریاض صدر اپیکا اسپشل ایجوکیشن پنجاب سے بڑا گہرا تعلق تھا دونوں حضرات فاضلیہ کالونی اچھرہ لاھور کے رھائشی اور گہرے دوست رھے ھیں بلکہ شہزاد بھٹہ سے منظر کی دوستی میاں ریاض کی وجہ سے ھی شروع ھوئی ۔
اسں دوستی کی شروعات بھی عجیب طرح سے ھوئی۔حضرت منظر نے ہیڈ آفس اسپشل ایجوکیشن میں کسی تقریب کی فوٹو گرافی کی مگر کافی عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ہیڈ آفس کے کیشیر نے منظر قیوم کو پیسے نہیں دیئے جس کے لیے منظر صاحب کو ہیڈ افس کے کئی بار چکر بھی لگانے پڑے ۔
اخر ایک مشترکہ دوست نے منظر کو رائے دی کہ اگر آپ نے اپنی محنت کے پیسے لینا چاھتے ہیں تو اسٹینٹ ڈائریکٹر ایجوکیشن شہزاد بھٹہ سے رابطہ کریں وہ یقینا آپ کے ڈوبے ھوئے پیسے آپ کو دلوا سکتے ھیں اس پر منظر قیوم شہزاد بھٹہ کے دفتر تشریف لائے اور مسلہ بیان کیا شہزاد بھٹہ نے ان کو یقین دلایا کہ آپ کی رقم آج ھی اسی وقت مل جائے گئی آپ چائے پئیں ۔
چائے پینے کے بعد شہزاد بھٹہ منظر قیوم کو اپنے ڈائریکٹر بشارت علی امجد کے پاس لے گئے اور ان کے سامنے مسلہ پیش کیا اور پیسوں کی ادائیگی کی درخواست کی اس پر مرحوم بشارت صاحب نے حیرانگی کا اظہار کیا کہ ابھی تک ان کو فوٹو گرافی کے پیسے نہیں ملے اس پر ان نے فورا کیئر ٹیکر صاحب کو بلایا اور حکم دیا کہ ابھی فورا مبلغ آٹھ ہزار روپے منظر قیوم کو ادا کئے جائیں تو جناب شہزاد بھٹہ کی وجہ سے منظر قیوم کو مہینوں سے روکے ھوئے پیسے ایک گھنٹے کے اندر اندر مل گئے یہاں ایک مزیدار بات کا ذکر کرنا ضروری ھے کہ منظر قیوم نے پیسے وصول کرتے ھی شہزاد بھٹہ اور دیگر ساتھیوں کو رات کے کھانے کی دعوت دے دی یوں اس عظیم انسان نے ڈوبی ھوئی رقم سے اپنے دوستوں کو کھانا کھلا دیا۔ یہ والی خصوصیات بہت کم لوگ میں موجود ھوتی ھے جو منظر قیوم کے اندر موجود تھی

منظر قیوم ایک اعلی پائے کا کھانا پکانے والے،ایک بہترین حکیم، ایک صاف گو آدمی اور جو ہمیشہ لوگوں کے لیے اچھے سوچتے ۔
منظر قیوم عرفانی شہزاد بھٹہ کا ایک بہت پیارا سچا محبت کرنے والا مخلص یار تھا جو ہمیشہ دکھ سکھ کا ساتھی اور محبت کرنے دوست تھا منظر قیوم اسپشل ایجوکیشن کے ایک غیر سرکاری فوٹو گرافر تھے جو لاھور میں ھونے والے ھر فنکشن کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں بند کر لیتے تھے
شہزاد بھٹہ اور منظر قیوم کا ہمیشہ چولی دامن کا ساتھ رھا اگر شہزاد بھٹہ ڈی او لاھور ھیں تو اسپشل ایجوکیشن ڈسڑکٹ لاھور کے تحت ھونے والے تمام پروگراموں میں منظر کی شمولیت لازم تھی اور اگر شہزاد بھٹہ پرنسپل ٹریننگ کالج ھیں تو منظر بھی ٹریننگ کالج کے فوٹو گرافر کی حیثیت سے اپنے فرائض سر انجام دیتے ۔
اج بھی شہزاد بھٹہ کی فوٹو گیلری میں منظر قیوم کے کیمرے سے لی گئی ھزاروں تصاویر موجود ھیں منظر قیوم نے ھر مشکل وقت میں شہزاد بھٹہ کا ساتھ دیا اور قدم بہ قدم ساتھ چلے منظر کے پاس ھر مسلے کا حل ھوتا تھا اور اس کی دوستی ھر طرح کے لوگوں سے تھی خریداری کا شوقین اور ھر ٹھکانے کا پتہ ھوتا تھا کہ کہاں سے اچھی اور سستی چیز مل سکتی ھے
جب 2013 میں ایک سازش کے تحت شہزاد بھٹہ کی اوکاڑہ اسپشل ایجوکیشن سنٹر ٹرانسفر ھوئی تو منظر صاحب بڑے غصے میں رھتے تھے خاص طور پر اس مسلے پر میاں صاحب کی کافی کلاس ھوتی رھی شہزاد بھٹہ جتنے عرصے اوکاڑہ جاتے رھے منظر اور فاروق اعوان ہمیشہ ان کے ساتھ ھوتے اور گاڑی میں خود گپ شپ ھوتی اور ساتھ ساتھ تصویر کشی بھی ھوتی رہتی
۔اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے اور منظر قیوم و فاروق اعوان جیسے دوستوں کی خصوصی دعاؤں سے صرف دو ماہ پر شہزاد بھٹہ کی اوکاڑہ سے لاھور واپس ٹرانسفر ھو گئی
۔منظر قیوم کی حضرت قاری اطہر منیر سندھلیہ صاحب کے ساتھ ایک خاص عقیدت والی دوستی تھی تقریبا ھر دوسرے دن سندھلیہ صاحب کے آستانے عالیہ پر حاضری رہتی اور گھنٹوں گپ شپ ھوتی ۔منظر قیوم کا حضرت سے ایک خاص تعلق رھا۔
۔اج وہ ھمارے درمیان موجود نہیں مگر اس کی یادیں ہمیشہ شامل حال رہتی ہیں ان کا ہمیشہ مسکرانے والا آج بھی ھم سب کو یاد ھے اللہ تعالیٰ منظر قیوم عرفانی کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین

میاں منظر قیوم عرفانی پیکر انسانیت اور سچا عاشق رسول اللہ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us