Banner

گلاب لہجہ، عقابی نظر: مزمل خان مہمند

Share

Share This Post

or copy the link


​تحریر سلیم شاہ ہوتی

​کچھ لوگ تاریخ کے جبر کے سامنے سر جھکا دیتے ہیں، اور کچھ لوگ حالات کی تند و تیز لہروں کے سامنے چٹان بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں، لیکن میری نظر جس شخص پر ٹھہری ہے، وہ ان دونوں سے مختلف ہے۔ وہ لہروں کے رخ پر چلنے کا نہیں، بلکہ لہروں کا رخ موڑنے کا ہنر جانتا ہے۔ حسنِ ظاہر اور حسنِ باطن کا ایک ایسا امتزاج، جسے دنیا ایڈوکیٹ مزمل خان مہمند کے نام سے جانتی ہے۔
​جب میں مہمند قبیلے کے اس خوبرو، خوش لباس اور خوش خوراک نوجوان کو دیکھتا ہوں، تو مجھے چارسدہ کی زرخیز مٹی اور ڈھکی کے باغات یاد آتے ہیں، جہاں 28 جنوری 1981 کو ذہانت نے ایک مٹیالے آنچل سے جنم لیا تھا۔ حاجی امان اللہ خان کے اس ہونہار سپوت نے بچپن ہی سے اپنی پیشانی پر کامیابیوں کے جھومر سجا لیے تھے۔ نیو اسلامیہ پبلک ہائی سکول چارسدہ کا وہ ‘تھرو آؤٹ ٹاپر’ جس نے 1996 کے میٹرک امتحانات میں پورے ضلع کو اپنی ذہانت سے سحر زدہ کر کے پہلی پوزیشن اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔​پھر سفرِ شوق اسلامیہ کالج پشاور کی دہلیز تک جا پہنچا۔ F.Sc پری میڈیکل ہو یا تھرڈ اور فورتھ ایئر، اسلامیہ کالج کے در و دیوار گواہ ہیں کہ مزمل نے ہمیشہ پہلی صف میں جگہ بنائی۔ منزلیں خود پکارتی تھیں، راستے خود بنتے گئے۔ آئی ایم سٹڈیز میں ایم پی اے (MPA) کا ایک سمسٹر ابھی گزرا ہی تھا کہ بچپن کا وہ بھوت جاگ اٹھا جسے ‘وکالت’ کہتے ہیں۔ پبلک ایڈمنسٹریشن کی چمکتی ڈگری کو بیچ راہ میں چھوڑ کر خیبر لاء کالج کا رخ کیا، جہاں سے 2004 میں ایل ایل بی (LLB) کا ہما ان کے سر پر بیٹھا۔
​مزمل خان صرف کتابوں کا کیڑا نہیں، وہ تو زمانۂ طالب علمی میں اسلامیہ کالج اور پشاور یونیورسٹی کیمپس کا صدر رہ کر قیادت کے گر سیکھ چکا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ 2004 کے امریکی صدارتی انتخابات کے موقع پر متحدہ مجلس عمل نے اس نوجوان بیدار مغز کو ‘ینگ پولیٹیکل لیڈر’ کے طور پر امریکہ کے سرکاری دورے پر بھیجا، جہاں اس نے وائٹ ہاؤس کے ایوانوں میں اپنی فصاحت و بلاغت کے جھنڈے گاڑے۔​واپسی پر قانون کے افق کے درخشندہ ستارے، قاضی جمیل صاحب کے چیمبر کا ہمنشیں بنا، مگر حالات نے پشاور ایئرپورٹ کی ایک معتبر ملازمت کی صورت میں آزمائش کی دیوار کھڑی کر دی۔ حالات سے سمجھوتہ کیا، نوکری کی، مگر جو پرندہ کھلے آسمانوں کے لیے بنا ہو، وہ قفس میں کب تک قید رہتا؟ 2008 میں پشاور صدر میں ‘ایڈنبرا سکول’ کی بنیاد رکھی، جو سانحہ اے پی ایس کے بعد ‘پشاور ڈیفوڈلز سکول’ بنا اور دیکھتے ہی دیکھتے حیات آباد اور چارسدہ تک پھیل گیا۔ 2010 میں نوکری کو خیرباد کہہ کر خود کو تدریس کے لیے وقف کر دیا۔​مگر قانون کی وہ تشنگی، وہ وکالت کا ادھورا خواب، دل کے کسی گوشے میں مچلتا رہا۔ بالآخر 2020 میں وہ دوبارہ کالی قبا پہن کر عدالت کے میدان میں اترا۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ سروسز میٹرز (Services Matters) میں اس شخص نے اتنے قلیل عرصے میں وہ نام کمایا کہ خیبر پختونخوا سروس ٹرائبیونل، پشاور ہائی کورٹ اور فیڈرل سروس ٹرائبیونل میں اس کے دلائل کی گونج سنی جانے لگی۔
​سیاسی وابستگی اور منفرد حلیہ:
مزمل خان کی فکری اور سیاسی وابستگی جمعیت علمائے اسلام (ف) سے ہے اور وہ آج کل جے یو آئی کے وکلا ونگ (جمعیت لائرز فورم) کے صوبائی ترجمان اور سیکرٹری اطلاعات ہیں۔ لیکن صاحب! یہاں ایک دلکشی ہے۔ ان کا حلیہ روایتی مولویوں جیسا بالکل نہیں ہے۔ وہ پارٹی ڈسپلن کے روایتی قدغنوں سے آزاد، ایک لبرل اور آزادانہ طرزِ فکر کے مالک ہیں۔ وہ کسی کی نہیں سنتے، بس اپنے دل کی سنتے ہیں۔ جو دل میں ہوتا ہے، وہی زبان پر مچلتا ہے اور وہی قلم کی نوک سے کاغذ پر بکھر جاتا ہے۔​وہ ایک سحر انگیز مقرر بھی ہیں اور کمال کے لکھاری بھی۔ ان کا قلم جب چلتا ہے تو قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔ اور نعت خوانی؟ سبحان اللہ! پشاور ٹی وی اور ریڈیو سٹیشن سے نشر ہونے والی ان کی خوبصورت آواز دلوں کو گرما دیتی ہے۔ 2004 میں پورے صوبے میں نعت خوانی میں پہلی پوزیشن حاصل کرنا ان کی خوش الحانی کی ایک روشن دلیل ہے۔​وہ ایک سچے یوتھ ایکٹوسٹ ہیں۔ 2005 میں ‘پاکستان یوتھ اوئیرنیس موومنٹ’ کے ذریعے نوجوانوں کی جو رہنمائی انہوں نے کی، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ایک قبائلی پس منظر رکھنے کے باوجود، دقیانوسی سوچ کو شکست دے کر اپنی تمام بہنوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانا اور انہیں ماسٹرز ڈگری ہولڈرز بنانا، ان کے روشن خیال ہونے کا بین ثبوت ہے۔​مزمل خان ہمیشہ ہنس مکھ، ہشاش بشاش اور زندہ دل رہتے ہیں۔ خوبصورت مرد و خواتین اور بیوروکریٹس سے ان کے دوستانہ مراسم ہیں، جن کے ساتھ ان کی ویڈیوز ان کی زندگی سے محبت اور رعنائی کی عکاس ہیں۔ وہ جب دوستوں کے جھرمٹ میں ہوتے ہیں، تو یوں کھلتے ہیں جیسے خوبصورت گلابوں اور دلکش وادیوں کے دامن میں کوئی چاند اتر آیا ہو۔​وہ قانون کی حکمرانی کا علمبردار بھی ہے اور حسنِ اخلاق کا پیکر بھی۔ قلیل وقت میں وکلاء برادری میں اپنی منفرد شناخت بنانے والا یہ شخص، جہاں سے گزرتا ہے، لوگ احتراماً سر جھکا دیتے ہیں۔ مزمل خان مہمند صرف ایک نام نہیں، ایک طرزِ زندگی ہے—جس میں علم کی سنجیدگی بھی ہے اور گلابوں جیسی شادابی بھی!

گلاب لہجہ، عقابی نظر: مزمل خان مہمند

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us