Banner

عوام کے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے، میر جمیل رند

Share

Share This Post

or copy the link


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلوچستان کی قبائلی، سماجی اور سیاسی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو کسی عہدے، منصب یا سرکاری اختیار کی محتاج نہیں ہوتیں بلکہ اپنے کردار، روایات، انصاف پسندی، انسان دوستی اور عوامی خدمات کی بدولت عوام کے دلوں پر حکمرانی کرتی ہیں۔ ایسی ہی باوقار اور قابل احترام شخصیات میں میر جمیل رند کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔میر جمیل رند کا تعلق بلوچ قوم کے تاریخی اور نامور قبیلہ رند کی شاخ راہیجہ سے ہے۔ ان کا آبائی مسکن کوئٹہ کے مشرقی بائپاس پر واقع معروف علاقہ رند گڑھ ہے جو بلوچستان میں رند قبیلے کی شناخت اور روایات کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ میر جمیل رند نہ صرف ایک ممتاز قبائلی شخصیت ہیں بلکہ سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں میں بھی غیر معمولی مقام اور احترام رکھتے ہیں۔
بلوچستان کے قبائلی معاشرے میں میر جمیل رند کو ایک ایسے معتبر اور دانا قبائلی رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے جن کی بات کو وزن دیا جاتا ہے اور جن کے فیصلوں پر اعتماد کیا جاتا ہے۔ ان کی شخصیت میں روایتی بلوچ اقدار، مہمان نوازی، رواداری، انصاف پسندی اور انسان دوستی نمایاں طور پر جھلکتی ہے۔ وہ خوش گفتار، ملنسار، نرم مزاج اور غریب پرور شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کے دروازے ہر آنے والے کیلئے کھلے رہتے ہیں اور ان کی محفل میں آنے والا ہر فرد عزت و احترام محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مختلف قومیتوں، قبائل اور طبقات کے درمیان یکساں مقبولیت رکھتے ہیں۔ میر جمیل رند کے وتاخ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ بلوچستان سمیت ملک بھر میں ان کا وتاخ تنازعات کے حل، جرگوں اور قبائلی فیصلوں کیلئے ایک معتبر مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ دور دراز علاقوں سے لوگ اپنے مسائل اور تنازعات لے کر ان کے پاس آتے ہیں اور ان کی سربراہی میں ہونے والے فیصلوں کو انصاف اور غیر جانبداری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ان کے وتاخ میں ہونے والے فیصلے ہمیشہ حقائق، قبائلی روایات، باہمی احترام اور انصاف کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچ، پشتون، سندھی، سرائیکی اور پنجابی سمیت مختلف قومیتوں کے افراد ان پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں اور ان کی ثالثی کو عزت و وقار کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ میر جمیل رند کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی انسان دوستی اور غریب پروری ہے۔ وہ ہمیشہ ضرورت مندوں کی مدد، بے سہارا افراد کی معاونت اور معاشرے کے کمزور طبقات کی فلاح و بہبود کیلئے سرگرم رہتے ہیں۔ ان کے پاس آنے والا کوئی سائل خالی ہاتھ واپس نہیں جاتا۔ وہ اپنی استطاعت کے مطابق لوگوں کے مسائل حل کرنے اور ان کی مشکلات کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی جذبہ انہیں عوام کے دلوں میں ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ دین سے وابستگی اور مذہبی اقدار کا احترام بھی ان کی شخصیت کا نمایاں وصف ہے۔ وہ علماء کرام، دینی مدارس اور مذہبی سرگرمیوں کی سرپرستی کو باعث سعادت سمجھتے ہیں۔ ان کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جو جدید دور کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ اپنی مذہبی اور ثقافتی روایات کو بھی مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں۔ ان کی مجالس میں دینی، سماجی اور قومی مسائل پر سنجیدہ گفتگو ہوتی ہے اور نوجوان نسل کی اصلاح و تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔سیاسی میدان میں بھی میر جمیل رند نے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ وہ متعدد بار بلدیاتی اور صوبائی انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں اور عوامی خدمت کو اپنی سیاست کا محور قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ اقتدار ان کا بنیادی مقصد کبھی نہیں رہا، تاہم عوامی مسائل کے حل اور اپنے علاقے کی ترقی کیلئے انہوں نے ہمیشہ عملی جدوجہد کی ہے۔ ان کی سیاسی سوچ قبائلی روایات، عوامی فلاح اور بلوچستان کی ترقی کے گرد گھومتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف سیاسی و سماجی حلقے ان کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں۔ تعلیم کے فروغ کیلئے ان کی خدمات بھی قابل ستائش ہیں۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ تعلیم ہی کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور ان کی مشکلات کے حل کیلئے کردار ادا کرنا ان کی زندگی کا اہم مشن رہا ہے۔ وہ نوجوان نسل کو محض نصابی تعلیم ہی نہیں بلکہ کردار سازی، اخلاقیات اور قومی ذمہ داریوں کا شعور بھی دینے کے حامی ہیں۔ سابق صوبائی وزیر بلوچستان میر عامر رند بلوچستان کی سیاست میں ایک نمایاں اور بااثر نام ہیں۔ میر جمیل رند کے قریبی ساتھیوں اور مشیروں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ میر عامر رند نے اپنے سیاسی تدبر، عوامی روابط اور قبائلی بصیرت کے ذریعے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں عوامی خدمت کی ایک روشن مثال قائم کی ہے۔ ان کی شخصیت میں قائدانہ صلاحیتیں، دور اندیشی اور عوامی مسائل کے حل کا جذبہ نمایاں ہے۔ میر جمیل رند اور میر عامر رند کی قربت اور مشاورت نے متعدد اہم معاملات میں مثبت نتائج پیدا کیے ہیں۔ معروف قبائلی شخصیت میر ناصر خان رند بھی بلوچستان کے باوقار اور قابل احترام قبائلی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی سنجیدگی، معاملہ فہمی اور قبائلی روایات پر گہری دسترس انہیں دیگر شخصیات سے ممتاز بناتی ہے۔ میر جمیل رند کے ساتھ ان کی دیرینہ رفاقت اور باہمی اعتماد مختلف سماجی اور قبائلی معاملات میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ میر ناصر خان رند کی موجودگی ہر جرگے اور مشاورتی نشست کو مزید وقار اور وزن عطا کرتی ہے۔میر بابل جان رند ایک متحرک، باشعور اور عوام دوست شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ نوجوان نسل اور قبائلی روایات کے درمیان ایک مضبوط پل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی صلاحیتیں، معاملہ فہمی اور سماجی روابط انہیں رند قبیلے کے مؤثر نمائندوں میں شامل کرتے ہیں۔ میر جمیل رند کے قریبی حلقہ احباب میں ان کا شمار ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اجتماعی دانش اور مشاورت کے عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ماسٹر سمیع اللہ رند علمی، تعلیمی اور سماجی حلقوں میں ایک محترم نام ہیں۔ وہ علم و شعور کی روشنی پھیلانے اور نوجوانوں کی فکری تربیت کیلئے مسلسل سرگرم عمل رہتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں تدبر، سنجیدگی اور علمی بصیرت نمایاں ہے۔ میر جمیل رند کے ساتھ ان کا تعلق محض دوستی تک محدود نہیں بلکہ ایک فکری اور سماجی اشتراک کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ نوجوانوں کی رہنمائی اور تعلیم کے فروغ کے حوالے سے دونوں شخصیات کی سوچ میں گہری ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ میر جمیل رند کی پوری زندگی خدمت خلق، انصاف، رواداری، قبائلی وقار اور عوامی فلاح کے اصولوں کے گرد گھومتی ہے۔ وہ ان معدودے چند شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے وقت کے ساتھ اپنی عزت، وقار اور عوامی اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔ ان کی شخصیت بلوچ روایات، قبائلی دانش، سماجی خدمت اور انسانی ہمدردی کا حسین امتزاج ہے۔ بلوچستان کے قبائلی معاشرے میں ان کا نام احترام، اعتماد اور انصاف کی علامت سمجھا جاتا ہے۔آج بھی ان کا وتاخ لوگوں کیلئے امید، اعتماد اور بھائی چارے کا مرکز ہے جبکہ ان کی شخصیت آنے والی نسلوں کیلئے خدمت، اخلاص اور انسان دوستی کی ایک روشن مثال کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ ہم نے میر جمیل رند سے تفصیلی نشست کا اہتمام کیا۔جس کے دوران اُنھوں نے کہا کہ بلوچستان سمیت پورا ملک بے شمار چیلنجز اور مشکلات سے دوچار ہے اور عام آدمی کی زندگی پہلے کے مقابلے میں زیادہ دشوار ہوچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو درپیش مسائل میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے جبکہ حکومتی دعوؤں اور زمینی حقائق میں واضح فرق دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی نے متوسط اور غریب طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، روزمرہ استعمال کی اشیاء، آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں، گوشت، ادویات، پٹرولیم مصنوعات اور بجلی و گیس کے نرخ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ ایک مزدور جو صبح سے شام تک محنت کرتا ہے وہ بھی اپنے بچوں کیلئے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عوامی مشکلات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایک عظیم تہذیب، تاریخ اور ثقافت کا حامل صوبہ ہے جہاں بلوچ اور پشتون صدیوں سے بھائیوں کی طرح آباد ہیں۔ ہمارے درمیان صرف ہمسائیگی کا تعلق نہیں بلکہ بے شمار خونی رشتے، خاندانی تعلقات، مشترکہ روایات، مشترکہ رسم و رواج، خوشی اور غم میں شرکت اور باہمی احترام کا ایک طویل سلسلہ موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچ اور پشتون اقوام نے ہمیشہ ایک دوسرے کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھا ہے اور مشکل ترین حالات میں بھی ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کی تاریخ میں دونوں اقوام کا اتحاد ایک روشن مثال کے طور پر موجود ہے۔ میر جمیل رند نے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ عناصر وقتاً فوقتاً بلوچ اور پشتون قبائل کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے اور نفرت کی فضا قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر نہ بلوچستان کے خیرخواہ ہیں اور نہ ہی کسی قوم کے دوست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نفرت اور تعصب کا بیج بونے والے عناصر دراصل بلوچستان کے امن، ترقی اور استحکام کے دشمن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ اور پشتون نوجوانوں کو خاص طور پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ کسی اشتعال انگیزی، پروپیگنڈے یا سازش کا حصہ نہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی مشترکہ تاریخ، مشترکہ قربانیوں اور مشترکہ مفادات کو سامنے رکھ کر اتحاد و اتفاق کو مزید مضبوط بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے قبائلی عمائدین، سیاسی رہنماؤں، دانشوروں اور سماجی شخصیات پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قوموں کے درمیان بھائی چارے کو فروغ دیں اور اختلافات کو بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کو ایک پرامن بلوچستان دینا ہے تو ہمیں نفرت کی سیاست کے بجائے محبت، برداشت اور رواداری کو فروغ دینا ہوگا۔ میر جمیل رند نے کہا کہ کوئٹہ شہر اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں بنیادی سہولیات کی صورتحال انتہائی افسوسناک ہے۔ گیس کی لوڈشیڈنگ نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ موسم سرما میں لوگ گیس کی عدم دستیابی کے باعث پریشان رہتے ہیں جبکہ گرمیوں میں بھی گیس کے کم پریشر کا مسئلہ برقرار رہتا ہے۔ اسی طرح بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور کم وولٹیج کے مسائل نے شہری زندگی کو متاثر کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار تباہ ہورہے ہیں، طلبہ کی تعلیم متاثر ہورہی ہے اور گھریلو زندگی مشکلات کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کا مسئلہ کوئٹہ اور مضافاتی علاقوں کا سب سے بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جاچکی ہے جبکہ شہریوں کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام مہنگے داموں ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ کئی علاقوں میں لوگ آج بھی بنیادی پانی کی سہولت سے محروم ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر اس مسئلے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ صفائی کی ناقص صورتحال بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ کوئٹہ اور اس کے مضافاتی علاقوں میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر موجود ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف ماحول خراب ہورہا ہے بلکہ مختلف بیماریاں بھی جنم لے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک صحت مند معاشرے کیلئے صفائی کے نظام کو بہتر بنانا انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اسٹریٹ کرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات نے شہریوں کے اندر خوف اور عدم تحفظ پیدا کر دیا ہے۔ موبائل فون چھیننے، موٹر سائیکل چوری، راہزنی اور دیگر جرائم میں اضافہ تشویشناک ہے۔ عوام دن رات محنت کرکے جو کچھ کماتے ہیں وہ چند لمحوں میں جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں ضائع ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ میر جمیل رند نے مشرقی بائپاس کے علاقوں کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقے کئی دہائیوں سے بنیادی سہولیات کے فقدان کا شکار ہیں۔ رند گڑھ، بیلوزئی کالونی، صالح آباد، بنگلزئی اسٹاپ، مری ٹاؤن اور دیگر ملحقہ آبادیاں آج بھی ترقی کے ثمرات سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، سیوریج کا نظام ناکافی ہے، گیس اور پانی کے مسائل برقرار ہیں جبکہ صحت اور تعلیم کی سہولیات بھی آبادی کے تناسب سے موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرقی بائپاس کے عوام بھی اسی ملک کے شہری ہیں اور انہیں بھی وہی سہولیات ملنی چاہئیں جو دیگر علاقوں کے عوام کو حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل کسی تصادم یا محاذ آرائی میں نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، دانشمندی، مکالمے اور امن کے راستے میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں سیاسی مسائل سیاسی عمل کے ذریعے حل کیے جاتے ہیں اور بلوچستان بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی قوتوں، قبائلی رہنماؤں، مذہبی شخصیات اور ریاستی اداروں کو مل بیٹھ کر بلوچستان کے دیرینہ مسائل کے حل کیلئے مشترکہ حکمت عملی اپنانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بلوچ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ ہزاروں نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود روزگار سے محروم ہیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب نوجوانوں کو روزگار کے مواقع نہیں ملتے تو ان میں مایوسی، بے چینی اور احساس محرومی پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور اگر ان کے مستقبل کو محفوظ نہ بنایا جائے تو پوری قوم کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے لیکن یہاں کے نوجوان آج بھی روزگار کیلئے دربدر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو صنعتی شعبے کی ترقی، نئی سرمایہ کاری، فنی تربیت کے اداروں کے قیام اور روزگار کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دینی چاہیے تاکہ نوجوانوں کو باعزت روزگار میسر آسکے۔ میر جمیل رند نے بارڈر ٹریڈ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی سرحدی تجارت صوبے کی معیشت کیلئے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ چمن، نوشکی، تفتان اور دیگر سرحدی علاقوں کے ہزاروں خاندانوں کا روزگار بارڈر ٹریڈ سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی تجارت پر غیر ضروری پابندیاں لگانے سے مقامی معیشت متاثر ہوتی ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر ٹریڈ کو جدید تقاضوں کے مطابق منظم اور آسان بنایا جانا چاہیے تاکہ مقامی آبادی کو زیادہ سے زیادہ معاشی فوائد حاصل ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی صرف سڑکیں بنانے یا عمارتیں تعمیر کرنے کا نام نہیں بلکہ حقیقی ترقی وہ ہے جس میں عوام کی زندگی آسان ہو، نوجوانوں کو روزگار ملے، کسان خوشحال ہوں، تاجروں کو سہولتیں میسر ہوں، تعلیم اور صحت کے شعبے مضبوط ہوں اور عام آدمی خود کو محفوظ اور باعزت محسوس کرے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام محب وطن، باصلاحیت اور پرامن لوگ ہیں، انہیں صرف مواقع، انصاف اور توجہ کی ضرورت ہے۔ میر جمیل رند نے کہا کہ بلوچستان کے تمام مسائل کے باوجود وہ مستقبل کے حوالے سے پرامید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی قیادت، قبائلی عمائدین، نوجوان، دانشور اور عوام مل کر صوبے کی بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کریں تو بلوچستان ترقی، امن، خوشحالی اور استحکام کی نئی منزلیں طے کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نفرت، تقسیم اور انتشار کے بجائے اتحاد، بھائی چارے، محبت اور سیاسی شعور کو فروغ دینا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے اور یہی راستہ بلوچستان کے روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔

عوام کے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے، میر جمیل رند

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us