Banner

نسلوں کے درمیان پل: رہنمائی، شعور اور بااختیار خواتین کا خواب

Share

Share This Post

or copy the link

منشا قاضی
حسبِ منشا

زمانہ جب اپنی رفتار تیز کر لیتا ہے تو نسلوں کے درمیان فاصلے بھی بڑھنے لگتے ہیں۔ اقدار، ترجیحات، طرزِ فکر اور خوابوں کی تعبیر کے انداز بدل جاتے ہیں۔ ایسے میں معاشرے کو ان شخصیات کی ضرورت ہوتی ہے جو ماضی کی دانائی اور مستقبل کی امنگوں کے درمیان ایک مضبوط پل تعمیر کر سکیں۔ یہی کردار اُن افراد کا ہوتا ہے جو صرف کاروبار، انتظام یا قیادت تک محدود نہیں رہتے بلکہ فکری رہنمائی اور سماجی شعور کی آبیاری بھی اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

اسی تناظر میں Legacy Summit اور Learners Nexus کے اشتراک سے ایک فکری نشست کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں معزز شرکاء مہمانِانِ گرامی جنابِ محترم محسن بیگ، راویہ ادریس، ماہ نور سہیل، انجینیئر شائلہ صفوان ، جنت زاہد ، ایم سعید انور ، مسعود علی خان، حماد حسن خان لاشاری اور میمونہ سہیل نے ایک نہایت اہم اور عصری موضوع “How Millennials Empower Gen Z Women?” پر اظہارِ خیال کیا۔ یہ موضوع محض ایک سوال نہیں بلکہ عصرِ حاضر کے سماجی ارتقا، خواتین کی قیادت اور نسلوں کے درمیان تعاون کی ایک گہری داستان ہے۔

فضیلتِ مآب مسعود علی خان کا شمار اُن شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی عملی زندگی میں قیادت، وژن اور سماجی شعور کو یکجا کیا۔ بطور Founder & CEO, CTN Pakistan انہوں نے مختلف شعبوں میں نوجوانوں، دانشوروں، ادیبوں، ماہرینِ تعلیم اور سماجی کارکنوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی شخصیت اس حقیقت کی آئینہ دار ہے کہ کامیاب قیادت صرف ادارے بنانے کا نام نہیں بلکہ انسان سازی اور فکری تربیت کا عمل بھی ہے۔ مسعود علی خان نے
اپنے کلیدی خطاب میں اس نکتے پر زور دیا کہ Millennials ایک ایسی نسل ہے جس نے روایتی اور جدید دنیا دونوں کو قریب سے دیکھا ہے۔ انہوں نے خطوط سے لے کر سوشل میڈیا تک، محدود مواقع سے لے کر عالمی مواقع تک، اور روایتی معاشرت سے لے کر ڈیجیٹل دور تک کا سفر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہی تجربہ انہیں ایک ایسی پوزیشن فراہم کرتا ہے جہاں وہ Gen Z خواتین کی رہنمائی مؤثر انداز میں کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کا مطلب صرف انہیں ملازمت فراہم کرنا نہیں بلکہ ان میں خود اعتمادی، فیصلہ سازی کی صلاحیت، تخلیقی اظہار اور قیادت کا شعور پیدا کرنا ہے۔ جب ایک تجربہ کار فرد کسی نوجوان خاتون کی سرپرستی کرتا ہے، اس کے خوابوں کو سنجیدگی سے سنتا ہے اور اسے اپنی صلاحیتوں پر یقین دلانے میں مدد دیتا ہے تو دراصل وہ مستقبل کی ایک رہنما شخصیت کی تعمیر کر رہا ہوتا ہے۔
مسعود علی خان نے Mentorship کو ترقی کا سب سے مؤثر ذریعہ قرار دیا۔ ان کے مطابق رہنمائی کا عمل محض مشورے دینے تک محدود نہیں بلکہ یہ اعتماد منتقل کرنے کا نام ہے۔ ایک اچھا mentor نوجوان نسل کو صرف راستہ نہیں دکھاتا بلکہ انہیں اپنی منزل خود تلاش کرنے کا حوصلہ بھی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں کامیاب خواتین رہنماؤں کے پیچھے کسی نہ کسی صورت میں ایک مضبوط mentor یا رہنمائی کا نظام موجود ہوتا ہے۔
انہوں نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ Gen Z خواتین علم، ٹیکنالوجی اور تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں۔ انہیں صرف ایسے مواقع درکار ہیں جہاں ان کی صلاحیتوں کو پہچانا جائے اور انہیں اظہار کا مناسب پلیٹ فارم فراہم کیا جائے۔ مسعود علی خان نے کہا کہ معاشرے کی ترقی اس وقت ممکن ہے جب خواتین محض ترقی کے عمل کا حصہ نہ ہوں بلکہ اس کی قیادت بھی کریں۔
فلسفیانہ اعتبار سے دیکھا جائے تو ہر نسل اپنے بعد آنے والی نسل کی امین ہوتی ہے۔ اگر بزرگ نسلیں اپنی دانائی، تجربات اور اقدار کو نئی نسل تک منتقل نہ کریں تو تاریخ کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔ اسی طرح اگر نئی نسل اپنے خوابوں، جدت اور توانائی کے ذریعے معاشرے میں نئی روح نہ پھونکے تو ترقی کا سفر رک جاتا ہے۔ لہٰذا Millennials اور Gen Z کے درمیان تعلق دراصل تجربے اور امکان، حکمت اور تخلیق، روایت اور جدت کے حسین امتزاج کا نام ہے۔
گفتگو کے دوران اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ خواتین کی قیادت کسی معاشرے پر احسان نہیں بلکہ اس کی فطری ضرورت ہے۔ ایک تعلیم یافتہ، بااعتماد اور بااختیار خاتون نہ صرف اپنی ذات بلکہ اپنے خاندان، ادارے اور پورے معاشرے کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ جب خواتین آگے بڑھتی ہیں تو قومیں ترقی کرتی ہیں اور جب ان کے لیئے مواقع کے دروازے کھلتے ہیں تو معاشرے میں امید، توازن اور خوشحالی جنم لیتی ہے۔
یہ نشست محض ایک تقریب نہیں تھی بلکہ ایک فکری مکالمہ تھی جس نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ مستقبل کی تعمیر صرف ٹیکنالوجی یا سرمایہ سے نہیں بلکہ انسانوں کی تربیت، رہنمائی اور باہمی تعاون سے ہوتی ہے۔ مسعود علی خان کا خطاب اس یقین کی تجدید تھا کہ اگر تجربہ کار نسلیں نوجوان خواتین کی سرپرستی کریں، ان پر اعتماد کریں اور انہیں مواقع فراہم کریں تو آنے والا کل زیادہ روشن، زیادہ منصفانہ اور زیادہ بااختیار ہوگا۔ انجینئر شائلہ صفوان نے بڑی بصیرت افروز اور حیرت انگیز گفتگو کی ، جس نے سامعین کی آرزو کو جگا دیا ، شائلہ صفوان نے کہا کہ
درحقیقت نسلوں کا اصل ورثہ عمارتیں، عہدے یا کاروبار نہیں ہوتے؛ اصل ورثہ وہ شعور، اعتماد اور امید ہوتی ہے جو ایک نسل دوسری نسل کے دلوں میں منتقل کر جاتی ہے۔ اور یہی ورثہ آنے والے زمانوں کی سب سے قیمتی میراث بن جاتا ہے۔مہمانِ اعزاز ایم سعید انور کی سادگی میں قلبی آسودگی کا رنگ غالب تھا ۔ آج اس گئے گزرے دور میں ایسی شخصیات کا وجود کسی بھی معاشرے میں ایک روشن چراغ کیا درخت ہے ، مدت مدید کے بعد کوئی ایک ایسا انسان شہر میں نظر آیا جنہیں دیکھ کر بڑی روحانی مسرت محسوس ہوئی اور یہ حقیقت ہے کہ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے سے ان کے افعال میں بھی ان کے افعال کا رنگ پیدا ہو جاتا ہے ۔ آپ کی صرف ایک توجہ بلیغ اشارے سے کم نہیں تھی ۔ آپ تجربات کا ایک سکول ہیں جس میں اصول پڑھے جاتے ہیں ۔ حماد حسن خان لاشاری نے طوالت پر اختصار کو ترجیع دی ۔ میمونہ سہیل کی باتیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ۔ جنت زائد کا طرز بیاں جادو اثر تھا ۔ ماہ نور سہیل نے چاندنی بکھیر دی وہ نسلوں کی اصلوں کی فصلوں کو سیراب کر رہی تھی ۔ راویہ ادریس نے کہا کہ میری آرزو نہیں بلکہ تمہارا ارادہ ہی تمہیں بنائے شوپنہار نے کہا تھا ارادہ انسان کا جوہر ہے اسی لیئے زندگی کی تمام اشکال اور زندگی کا جوہر بھی ارادہ ہے ۔ ارادہ دراصل زندہ رہنے کا ارادہ ہے ، جس کی دشمن صرف موت ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ارادہ موت کو بھی شکست دے دے ۔ عرفان خان جو اس تقریب کے عقب میں موجود تھے ان کے خیالات کی بلندی اور افکار کی پاکیزگی دلوں میں آسودگی پیدا کر رہی تھی ۔ وہ پہلے تول رہے تھے پھر بول رہے تھے ان کا ہر بول اپنے بطن میں قولِ فیصل پیدا کر رہا تھا ۔ آخر میں موٹیویشنل سپیکر محسن بیگ نے اخوت و رواداری اور اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور انہوں نے نسلِ نو کے درمیان بزرگوں کے فاصلے کو کم کرنے کے لیئے بڑی کام کی باتیں کیں ، ان کی گفتگو میں نسلِ نو کو اپنے مستقبل کی جستجو محسوس ہوئی ۔ خیر مقدمی کلمات کا اعزاز، شرف اور سعادت راقم کو حاصل ہوئی اور راقم نے کہا کہ یہ نوجوان نسل میری استاد ہے اور حقیقت یہ ہے کہ آج کے 10 سال کے بچے کی 10 انگلیوں کی 10 پوروں پر پوری کائنات رقصاں ہے اس کا سینہ رازوں کا دفینہ ہے معلومات عامہ کا خزینہ ہے جناب سعید انور کا ساٹھ اِس کے آٹھ کو نہیں پہنچ سکتا اور حماد حسن خان لاشاری اور عرفان خان کا پچپن اس کے بچپن کو نہیں پہنچ سکتا، خاکسار نے کہا کاش یہ زندگی بڑھاپے سے شروع ہو کر جوانی اور بچپن کی طرف لوٹتی تو کیا ہوتا ؟

لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

نسلوں کے درمیان پل: رہنمائی، شعور اور بااختیار خواتین کا خواب

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us