Banner

واش روم میں ولادت اور سرکاری صحت کا بحران

Share

Share This Post

or copy the link


تحریر: محمد عُبیدالله میرانی

کراچی کے سب سے بڑے اسپتال جناح میں واش روم میں بچے کی پیدائش کا حالیہ تشویشناک واقعہ ایک بار پھر شہر کے سرکاری صحت کے نظام کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر گیا ہے واقعے کے بعد سامنے آنے والی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاتون رات ساڑھے نو بجے اسپتال پہنچی تاہم اسے فوری طبی امداد فراہم نہ ہو سکی رپورٹ میں الٹراساؤنڈ نہ کیے جانے اور بعض اہم طبی افسران کی ڈیوٹی سے غیر موجودگی کی نشاندہی بھی کی گئی ہے دوسری جانب اسپتال انتظامیہ نے بچے کہ اہل خانہ کے اپر ہی الزام عائد کردیئے کہا کہ یہ واقعہ ان کی غفلت سے پیش آیا ہے ہم تو ان کو بار بار چیک کر رہے تھے بچے کے والد نے اسپتال انتظامیہ کہ اپر جذباتی ہوگئے اور اسپتال انتظامیہ کی عدم توجہی کی شکایت کی بہرحال یہ بات تو اپنی جگہ زیر بحث ہے ہی اور اس کا نتیجہ کیا نکلے گا وہ بھی یقین سامنے آجائے گا مگر میں اس واقعے کو فلحال روک لیتا ہوں اور مان لیتے ہیں کہ یہ واقعہ اپنی جگہ ایک انفرادی سانحہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسا واقعہ پہلی بار ہوا ہے تو میں آپ کو بتادوں وہ بھی بدقسمتی سے کہ نہیں یہ واقعہ پہلا نہیں اور شاید آخری بھی نہیں آئیے اسی اسپتال کہ ماضی کہ کردار پر نظر ڈالتے ہیں سال 2020 میں بھی اسی جناح اسپتال میں مسجد کے اندر والے واش روم میں بچے کی پیدائش کا ایک واقعہ سامنے آیا تھا جس نے اس وقت بھی انتظامی نظام پر بحث چھیڑ دی تھی کیا یہ واقعہ بھی اہل خانہ کی غفلت سے ہوا اچھا مان یہ بھی ان کی وجہ سے ہوا اس کے علاوہ ماضی میں اسی اسپتال سے جڑے ایک اور واقعے میں ایک خاتون کے ہسپتال کے احاطے میں بچے کی ولادت کے بعد نومولود کی ہلاکت کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا تھا جس نے ایمرجنسی سہولیات اور بروقت طبی امداد کے نظام پر سنگین سوالات اٹھائے تھے اب بتائیں کیا یہ بھی اہل خابہ کی غلفت تھی اور تو اور اسی طرح ایک اور واقعے میں سانس کے مرض میں مبتلا 17 سالہ نوجوان کی موت بھی سامنے آئی تھی جس کے بارے میں اہل خانہ اور مقامی حلقوں کی جانب سے طبی عملے کی مبینہ تاخیر اور سہولیات کی کمی کے الزامات سامنے آئے تھے اب ایسے سنگین واقعات مختلف اوقات میں مریضوں کے لواحقین کی جانب سے ایمرجنسی اور وارڈز میں بروقت علاج نہ ملنے تاخیر اور سہولیات کی کمی کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں اور بعض اوقات رات کے پہر میں بھی طبی عملے کی موجودگی سے متعلق سوالات بھی وقتاً فوقتاً اٹھتے رہے ہیں کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں ایک اور مسئلہ جو بار بار سامنے آتا ہے وہ مریضوں کا بڑھتا ہوا دباؤ ہے
بعض وارڈز میں مریضوں کی تعداد اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ ایک بستر پر ایک سے زیادہ مریضوں کو رکھا جاتا ہے اس صورتحال میں نہ صرف علاج متاثر ہوتا ہے بلکہ مریض اور لواحقین کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوتا ہے اسی طرح کراچی کہ اقتصادی ضلع کورنگی نمبر 5 پر قائم سرکاری اسپتال بھی روزانہ بڑی تعداد میں مریضوں کا بوجھ برداشت کرتا ہے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے مطابق وہاں بھی طویل انتظار عملے کی محدود دستیابی اور بعض اوقات بروقت طبی توجہ نہ ملنے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں یہ صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مسئلہ صرف ایک ادارے کا نہیں بلکہ مجموعی نظام کا ہے جناح اسپتال سول اسپتال عباسی شہید اسپتال اور لیاری جنرل اسپتال سمیت کراچی کے تمام بڑے سرکاری طبی مراکز نہ صرف شہر بلکہ سندھ کے مختلف اضلاع سے آنے والے مریضوں کا بوجھ بھی اٹھاتے ہیں آبادی میں مسلسل اضافہ اور وسائل کی محدود فراہمی نے ان اداروں پر دباؤ بڑھا دیا ہے جس کے اثرات براہ راست مریضوں تک پہنچتے ہیں رات کی شفٹوں سے متعلق شکایات بھی نئی نہیں ہیں مختلف اسپتالوں میں آنے والے مریضوں کے مطابق بعض اوقات رات کے اوقات میں عملے کی موجودگی کم محسوس ہوتی ہے جس کے باعث ایمرجنسی صورتحال میں تاخیر کا خدشہ پیدا ہوتا ہے سندھ حکومت ہر سال صحت کے شعبے کے لیے بھاری بجٹ مختص کرتی ہے نئے منصوبوں اور اصلاحات کے اعلانات بھی سامنے آتے ہیں لیکن زمینی صورتحال میں بہتری کے حوالے سے سوالات برقرار ہیں عوام کے لیے اصل پیمانہ اعداد و شمار نہیں بلکہ اسپتالوں میں ملنے والی سہولت اور بروقت علاج ہے قابل غور بات یہ ہے کہ آخر اتنے بڑے بجٹ اور دعوؤں کے باوجود ایسے واقعات بار بار کیوں سامنے آتے ہیں یہ معاملہ بالآخر سندھ کے محکمہ صحت تک پہنچتا ہے جس کی سربراہی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کر رہی ہیں صحت کے شعبے میں حکومتی اقدامات اور پالیسیز اپنی جگہ اہم ہیں لیکن اسپتالوں کی اصل تصویر وہی ہوتی ہے جو مریض اور ان کے لواحقین دیکھتے ہیں کراچی میں صحت کے شعبے سے وابستہ حلقے جانتے ہیں کہ یہ پہلا واقعہ نہیں اور شاید آخری بھی نہیں ہر واقعے کے بعد ایک انکوائری بنتی ہے ایک رپورٹ تیار ہوتی ہے چند روز بحث ہوتی ہے اور پھر معاملہ وقت کے ساتھ پس منظر میں چلا جاتا ہے لیکن اسپتالوں کے وارڈز اور ایمرجنسی یونٹس میں مسائل برقرار رہتے ہیں ایک صحافی کے طور پر یہ مشاہدہ بار بار سامنے آیا ہے کہ اسپتالوں کے باہر روتے ہوئے لواحقین اسٹریچر کے انتظار میں کھڑے مریض اور علاج کے لیے پریشان خاندان اس نظام کی اصل تصویر پیش کرتے ہیں کراچی کے مشہور جناح اسپتال کا یہ واقعہ بھی محض ایک خبر نہیں بلکہ اس نظام کی خامیوں کی ایک اور جھلک ہے جہاں سوالات تو بہت ہیں لیکن جواب کم نظر آتے ہیں

واش روم میں ولادت اور سرکاری صحت کا بحران

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us