Banner

آخر ھم کب تک سوتے رھیں گئے ؟؟

Share

Share This Post

or copy the link

آخر ھم کب تک سوتے رھیں گئے ؟؟
تحریر ۔۔۔شہزاد بھٹہ
ایک چنگچی رکشہ پر چھوٹے چھوٹے بچے بچیاں بھیڑ بکریوں کی طرح خطرناک طریقے سے سوار سکول سے واپس گھروں کو جارھے ھیں جو کسی بھی وقت حادثے کا باعث بن سکتا ھے
اللہ نہ کرے اور اللہ تعالیٰ ھمارے بچوں کو ہمیشہ اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین
سوال یہ پیدا ھوتا ھے اس نااہلی اور لاقانونیت کا ذمہ دار کون ھے
بچوں کے والدین یا چنگچی کا ڈرائیور یا ٹریفک پولیس یا دیگر حکومتی ادارے یا حقوق انسانیت کی علمبردار این جی او یا ھمارے معاشرے کی بے حسی
ھماری سوسائٹی اور حکومتی اداروں اس وقت حرکت میں آتے ھیں جب کوئی حادثہ یا کوئی واقعی ھو جائے تو پھر ان کی پھرتیاں دیکھنے والی ھوتی ھیں کسی بھی حادثے سے پہلے سب کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے اپنی اپنی دنیا میں مست ھوتے ھیں کوئی بھی ادارہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں فیل ھو چکا ھے
بس ڈنگ ٹپاؤ نظام کے تحت ملک کا سارا نظام چل رھا ھے
ملک میں آئین موجود ھے قانون موجود ھے ادارے موجود ھیں مگر پھر بھی سارا سسٹم اللہ توکل چل رھا ھے
اس تصویر جیسی ھزاروں تصویریں ھم روز اپنے اردگرد دیکھتے ہیں جس میں قانون کا مزاق سر عام اٹھایا جاتا ھے مگر روکنے والا کوئی نہیں سب آنکھیں بند کئے زندگی کے دن پورے کرتے نظر آتے ھیں
اگر ٹریفک کی بات کریں تو ساری نظام ھی فیل ھو چکا ھے ھر بڑے شہر قصبے گاؤں میں ھزاروں لاکھوں کی تعداد میں چنگچی رکشہ سڑکوں پر نہایت تیز رفتار سے دوڑتے نظر آتے ھیں جن کو زیادہ تر کم عمر بچے چلا رھے ھوتے ھیں جن کے پاس کوئی لائسنس تک نہیں ھوتا نہ کوئی نمبر نہ کوئی رجسڑیشن سرٹیفکیٹ موجود ھے
یہ ایک حقیقت ھے کہ ملک میں روزگار میسر نہیں ھے غربت بہت زیادہ ھو چکی ھے پبلک ٹرانسپورٹ ختم ھو چکی ھے جس کی وجہ سے نوجوان چنگچی جیسی خطرناک سواری چلانے پر مجبور ھیں اور عوام بھی اس شیطانی چکر پر سفر کرنے پر مجبور ھیں
یاد رھے کہ کسی زمانے میں کراچی لاھور پشاور سمیت تمام شہروں میں محکمہ ٹرانسپورٹ کی ھزاروں سرکاری بسیں چلتی تھی لوگوں دور دراز جانے کے لیے سرکاری ٹرانسپورٹ کو ترجیح دیتے تھے
پھر وقت کے چکر نے تمام سرکاری ٹرانسپورٹ کو تباہ و برباد کردیا سرکاری بسیں ختم ھو گئیں بڑے بڑے بس اسٹینڈ فروخت کر دیئے گئے سرکار کی جگہ پرائیویٹ سیکٹر نے سڑکوں پر قبضہ کر لیا ایک بس والے بڑی بڑی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے مالک بن گئے اور سرکار کے صرف محکمے رہ گئے دیگر محکموں کی طرح محکمہ ٹرانسپورٹ بھی صرف دفتری معاملات چلانے کے لیے رہ گیا سروس ختم ھو گئی وزیر سیکرٹری سے لیکر نائب قاصد تک فوج در فوج تو موجود ھے تمام سہولیات سے لطف اندوز بھی ھو رھے ھیں مگر سرکاری بسیں کہیں غائب ھو گئیں اور عوام ٹریفک مافیا کے ھاتھوں ذلیل و رسواء ھو رھی ھے اور اسی میں خوش ھے یہی وجہ ھے کہ پاکستان میں سرکاری محکمہ جات ختم ھو گئے ھیں اور پرائیوٹ شعبہ دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرتا جارہا ھے
اگر ھم ٹریفک قوانین کی پاسداری کی بات کریں تو یہ کہیں نظر نہیں آتی تمام ٹریفک شتر بے مہار کی طرح سڑکوں پر رواں دواں رہتی ھے چنگچی رکشوں سے لیکر بڑی بڑی گاڑیوں چلانے والے ڈرائیور حضرات ٹریفک قوانین سے نابلد ھیں سوائے موٹر ویز پر کسی اور سڑک پر ٹریفک قوانین پر عمل درآمد نہیں ھوتا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں سے روزانہ سینکڑوں حادثات رونما ھوتے ھیں جن میں قیمتی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ گاڑیاں بھی تباہ وبرباد ھوتی ھیں جہاں تک ٹریفک پولیس کے تعلق ھے وہ کونے کھدروں میں چھُپے رہتے ہیں اور موٹر سائیکل سواروں کے صرف جرمانے پہ جرمانے کرتے نظر آتے ہیں ٹریفک خود رو سسٹم کے تحت چلتی رہتی ھے اور اوپر سے سگنل فری ٹریفک سسٹم نے بیٹرہ غرق کر رکھا ھے سگنل فری سسٹم سے لاھور و دیگر شہروں کی سڑکیں قاتل بن چکی ہیں ایک رپورٹ کے مطابق صرف لاھور کی سڑکوں پر روزانہ تین سو سے زیادہ ٹریفک حادثات ھو رھے ھیں
لاھور و دیگر شہروں میں فضائی آلودگی کا سب سے بڑا سبب لاکھوں چلتے ہوئے چنگچی رکشہ لوڈر رکشہ موٹر سائیکلز اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیاں ھیں اور حکومت پنجاب ماحولیاتی بہتری کے لیے صرف موٹر کاروں کو ٹوکن جاری کر رھی ھے
اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ھے کہ ھمارے سرکاری محکمے اپنی اپنی زمہ داریاں محسوس کریں اور ملکی و عوامی مفاد میں زیادہ سے زیادہ سرکاری بسیں فراہم کریں عوام کو زیادہ سے زیادہ سستی و آرام دہ ٹرانسپورٹ سہولیات کو یقینی بنائیں
سڑکوں پر ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کروایا جائے چنگچی رکشہ ڈرائیور سے لیکر بڑی بڑی گاڑیاں چلانے والوں کو ٹریفک قوانین کی پاسداری کرنے کے لیے خصوصی مہم چلائیں
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانے کئے جائیں اس سلسلے میں کوئی رعایت نہیں ھونی چاہیے غیر قانونی طور پر چلنے والے
چنگچی رکشہ سمیت تمام ٹرانسپورٹ کو باقاعدہ رجسٹر کیا جائے اور صرف 18 سال سے اوپر ٹریفک لائسنس رکھنے والے افراد ھی سڑک پر گاڑیاں چلانے کی اجازت ھونی چاہیے
لاھور و دیگر شہروں میں ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے لگائے گئے جدید ای چالان ٹریفک نظام کو فعال بنایا جائے لاھور میں لگائے گئے لاکھوں کیمروں کی مدد سے ٹریفک قوانین کی پاسداری کو یقینا بنایا جائے

آخر ھم کب تک سوتے رھیں گئے ؟؟

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us