Banner

ڈاکٹر سہیل خان: علم، قیادت اور خدمت کا روشن سفر — عالمی افق سے اپنی دھرتی تک واپسی

Share

Share This Post

or copy the link

رپورٹ: سمیرا راجپوت

کوئٹہ:

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں قائم آریا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز آج صحت کے شعبے میں ایک جدید، معتبر اور تیزی سے ابھرتا ہوا ادارہ بن چکا ہے۔ یہ صرف ایک ہسپتال نہیں بلکہ ایک ایسا وژن ہے جو علاج کے ساتھ ساتھ سماجی بہتری، روزگار کی فراہمی اور انسانی وقار کے فروغ سے جڑا ہوا ہے۔

اس کامیاب ادارے کے پیچھے ایک مخلص، باصلاحیت اور دوراندیش شخصیت ڈاکٹر سہیل خان ہیں، جن کا تعلق اسی سرزمین سے ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد کیڈٹ کالج کوہاٹ سے تربیت حاصل کی، پھر آغا خان یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں امریکہ میں طویل عرصہ پیشہ ورانہ خدمات انجام دیں اور ہارورڈ یونیورسٹی سے ہیلتھ کیئر مینجمنٹ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارا۔

بین الاقوامی سطح پر ایک کامیاب کیریئر کے باوجود ڈاکٹر سہیل خان نے 2021 میں وطن واپس آنے کا اہم فیصلہ کیا۔ ان کے نزدیک بلوچستان میں معیاری طبی سہولیات کی کمی ایک سنگین مسئلہ تھا، جہاں عام بیماریوں کے علاج کے لیے بھی لوگوں کو بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا تھا۔

انہوں نے آریا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے قیام کو ایک “سماجی کاروبار” (سوشل انٹرپرینیورشپ) کی عملی شکل قرار دیا—ایسا منصوبہ جس کا مقصد صرف منافع نہیں بلکہ معاشرے میں مثبت اور دیرپا تبدیلی لانا ہے۔ اس وقت اس ادارے میں تقریباً 700 مقامی نوجوان—مرد و خواتین—ملازمت کر رہے ہیں، جس سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوئے بلکہ مقامی معیشت کو بھی سہارا ملا ہے۔

ادارے میں جدید طبی سہولیات متعارف کروائی گئی ہیں جن میں ہسٹوپیتھالوجی، بایوپسی اور فروزن سیکشن جیسی جدید ٹیکنالوجی شامل ہیں، جو سرجری کے دوران فوری اور درست تشخیص ممکن بناتی ہیں۔ اس کے علاوہ گردے کی پیوندکاری، دل کے آپریشنز، اور خواتین و بچوں کے پیچیدہ امراض کا علاج بھی یہاں کامیابی سے کیا جا رہا ہے۔

یہ ادارہ صرف علاج تک محدود نہیں بلکہ ایک تعلیمی مرکز کی حیثیت بھی اختیار کر چکا ہے۔ کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان سے منظور شدہ تربیتی پروگرامز کے تحت نوجوان ڈاکٹروں کو جدید مہارتیں سکھائی جا رہی ہیں، جبکہ ایمرجنسی کیئر کے شعبے میں بھی نمایاں بہتری لائی گئی ہے۔

مستحق اور نادار مریضوں کے لیے فلاحی خدمات بھی اس ادارے کا اہم حصہ ہیں۔ مفت قرنیہ ٹرانسپلانٹ، بچوں کے دل کے علاج، اور زکوٰۃ و ویلفیئر فنڈز کے ذریعے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، تاکہ کوئی بھی مریض صرف مالی مشکلات کی وجہ سے علاج سے محروم نہ رہے۔

ادارے کی توسیع کے منصوبے بھی تیزی سے جاری ہیں۔ کوئٹہ میں آٹھ آؤٹ ریچ لیبارٹری سینٹرز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ لورالائی اور دالبندین میں نئی سہولیات پر کام جاری ہے۔ اس کے ساتھ نرسنگ کالج کے قیام پر پیش رفت ہو رہی ہے، اور یونیورسٹی آف یوٹاہ کے ساتھ تعلیمی و تحقیقی تعاون کے لیے معاہدہ بھی طے پا چکا ہے۔

اپنے پیغام میں ڈاکٹر سہیل خان نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو مایوسی کے بجائے امید، محنت اور مثبت سوچ کو اپنانا ہوگا۔ ان کے مطابق مسائل کا حل صرف شکایت میں نہیں بلکہ اجتماعی کوشش، ایمانداری اور ذاتی ذمہ داری میں پوشیدہ ہے۔

یہ ادارہ اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ اگر نیت خالص ہو، وژن واضح ہو اور محنت مسلسل ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی عالمی معیار کے منصوبے اپنی سرزمین پر کامیابی سے قائم کیے جا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر سہیل خان: علم، قیادت اور خدمت کا روشن سفر — عالمی افق سے اپنی دھرتی تک واپسی

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us