Banner

انسانیت کی تذلیل، جنگی جنون اور قید خانوں کے تاریک گوشے

Share

Share This Post

or copy the link

صحافت منظر نامہ

انسانیت کی تذلیل، جنگی جنون اور قید خانوں کے تاریک گوشے

قارئین صحافت ۔ موجودہ عالمی منظر نامہ انسانی تہذیب کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے جہاں ایک طرف ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے چرچے ہیں تو دوسری طرف دنیا کے مختلف حصوں میں جاری جنگیں اور انسانی حقوق کی پامالی نے جدید دور کے اخلاقی دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ غزہ سے لے کر یوکرین تک اور سوڈان سے لے کر کشمیر و برما تک معصوم انسانوں کا خون بہایا جا رہا ہے جس نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ عالمی طاقتیں اپنے مفادات کی خاطر ان انسانی المیوں پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ جنگی صورتحال نے نہ صرف معیشتوں کو تباہ کیا ہے بلکہ انسانیت کے خلاف ایسے جرائم کو جنم دیا ہے جن کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی۔ ان سب سے بڑھ کر دنیا بھر کے جیل خانوں اور حراستی مراکز میں قیدیوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا غیر انسانی سلوک ایک ایسا ناسور ہے جو تہذیب یافتہ دنیا کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ بن چکا ہے۔ بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق گوانتاناموبے سے لے کر ابو غریب اور دنیا کے مختلف خفیہ عقوبت خانوں میں قیدیوں کو وہ اذیتیں دی جاتی ہیں جن کا تصور بھی روح فرسا ہے جہاں نہ صرف جسمانی تشدد کیا جاتا ہے بلکہ نفسیاتی حربوں کے ذریعے قیدیوں کی انسانی جبلت اور عزت نفس کو کچلنے کی منظم کوشش کی جاتی ہے۔ قیدیوں کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھنا، طبی امداد نہ دینا، طویل عرصے تک تنہائی میں قید رکھنا اور مذہبی و لسانی بنیادوں پر تذلیل کرنا وہ عام حربے ہیں جو اکثر ریاستیں اپنے مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔غیر انسانی سلوک کی یہ لہر صرف جنگ زدہ علاقوں تک محدود نہیں بلکہ بڑے بڑے جمہوری ممالک میں بھی جیلوں کی حالت زار اور قیدیوں کے حقوق کی پامالی کے واقعات تواتر سے رپورٹ ہو رہے ہیں جہاں نظامِ انصاف کی سستی اور امتیازی رویوں نے لاکھوں بے گناہ انسانوں کو سلاخوں کے پیچھے سڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ قید خانوں میں گنجائش سے زیادہ افراد کو بھرنا، صفائی کے ناقص انتظامات اور قیدیوں کے درمیان تشدد کو شہ دینا بھی اسی غیر انسانی رویے کا حصہ ہے جو انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی جنگی جنون سر چڑھ کر بول رہا ہے وہاں سب سے پہلے انسانی اقدار ہی قربان ہوتی ہیں اور دشمن کے قیدیوں کو “انسانی جان” کے بجائے محض ایک “ہدف” سمجھا جاتا ہے جس کے نتیجے میں جنیوا کنونشنز جیسے عالمی معاہدے محض کاغذ کے ٹکڑے بن کر رہ گئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں صرف بیانات تک محدود رہنے کے بجائے ان ریاستوں اور گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کریں جو انسانیت کی تذلیل میں ملوث ہیں۔ قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کے قانونی و اخلاقی حقوق کی فراہمی کسی بھی معاشرے کے مہذب ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے لیکن موجودہ صورتحال یہ بتاتی ہے کہ دنیا ایک بار پھر وحشت اور بربریت کے دور کی طرف لوٹ رہی ہے جہاں طاقت ہی حق ہے اور کمزور کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے اس تشدد اور ناروا سلوک کے سدباب کے لیے بین المذاہب ہم آہنگی اور انسانیت کے عالمگیر فلسفے کو اجاگر کرنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلیں ایک ایسے پرامن جہاں میں سانس لے سکیں جہاں کسی انسان کو اس کے عقیدے، نسل یا سیاسی نظریے کی بنیاد پر غیر انسانی سلوک کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ جب تک قید خانوں کے اندھیروں میں چھپی سسکیاں عالمی ایوانوں میں ارتعاش پیدا نہیں کریں گی تب تک عالمی امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا کیونکہ انصاف کے بغیر امن کا تصور محض ایک سراب ہے۔

انسانیت کی تذلیل، جنگی جنون اور قید خانوں کے تاریک گوشے

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us