Banner

قلم کی ہچکی نظام کی سسکی

Share

Share This Post

or copy the link

قلم کی ہچکی نظام کی سسکی

تحریر: محمد عبیدالله میرانی
صدر کورنگی پریس کلب کراچی

سندھ میں تعلیم کا حال اب محض کوئی خبر نہیں رہا بلکہ یہ ایک ایسا ناسور بن چکا ہے جس کی ٹیسیں ہر حساس دل محسوس کر رہا ہے اور جب ہم کراچی جیسے شہر بے اماں کی بات کرتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے کہ جس شہر نے کبھی پورے ملک کو علم کی روشنی بانٹی آج وہاں کے سرکاری اسکولوں کی دیواریں سیاست کی بھینٹ چڑھ کر خستہ ہو چکی ہیں لہٰذا میرا مشاہدہ ہے کہ لاڑکانہ سے کراچی تک پھیلا ہوا یہ تعلیمی کھنڈر کسی سرکاری لالی پاپ یا نمائشی پروگراموں سے آباد نہیں ہونے والا کیونکہ جس صوبے میں تعلیمی سال کا سورج ہی درختوں کے قتل عام سے طلوع ہو جیسا کہ آج گلستان جوہر کے کالج میں کھڑے درختوں کو بیچ کھایا گیا وہاں ہم نئی پود کی آبیاری کا خواب کیسے دیکھ سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ارباب اختیار سے میرا سوال بڑا سادہ ہے کہ کراچی کے وہ اسکول جہاں کبھی ڈسپلن کی مثالیں دی جاتی تھیں آج وہاں نشئیوں کے ڈیرے کیوں ہیں اور فریئر ہال یا لیاقت لائبریری جیسی علمی پناہ گاہوں پر سناٹا کیوں راج کر رہا ہے جبکہ میرا دل اپنی ان معصوم بہنوں اور بھائیوں کو یاد کر کے بھر آتا ہے جو اس بے حس نظام کی سولی چڑھ گئے جن میں تازہ ترین مثال میری ہونہار بہن ڈاکٹر فہمیدہ لغاری کی ہے جس نے اساتذہ کی مبینہ ہراسگی اور ذہنی دباؤ سے تنگ آ کر زندگی کا خاتمہ کر لیا مگر کیا ہمیں اپنی بہنیں نمرتا چندانی اور نائلہ رند بھول گئیں جنہوں نے ہاسٹل کے کمروں میں انصاف نہ ملنے پر موت کو گلے لگا لیا تھا یا وہ نوجوان بھائی جو ڈگری ہاتھ میں لیے کراچی کی سڑکوں پر محض ایک موبائل کے پیچھے گولی کھا جاتے ہیں کیا میری بہنیں اور میرے جیسے نوجوان بھائی اب ان درسگاہوں میں بھی محفوظ نہیں جہاں انہیں تحفظ ملنا چاہیے تھا ستم ظریفی دیکھیے کہ اسکولوں میں کتابیں اور وردیاں بیچنے پر پابندی کے حکم نامے تو جاری ہوتے ہیں اور اب جبکہ انٹر کے امتحانات سر پر ہیں تو حکومت نے مراکز کے باہر دفعہ 144 لگا کر نقل روکنے کا اعلان بھی کر دیا ہے مگر میرا سوال ہے کہ آپ دفعہ 144 لگا کر نقل تو روک لیں گے مگر اس ذہنی قتل عام کو کب روکیں گے جو ہراسگی اور اقربا پروری کی صورت میں میری بہنوں اور بھائیوں کا پیچھا کر رہا ہے کیونکہ ایک طرف نئے اسکولوں کی تعمیر کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے تو دوسری طرف یہ تلخ حقیقت ہے کہ سندھ کے غریب کا بچہ ٹوٹی ہوئی تختی لیے آسمان کو تکتا ہے جبکہ اسی صوبے کے حکمرانوں کی اولادیں لندن اور دبئی کے شاہی محلوں میں پڑھ رہی ہیں یہ وہ تضاد ہے جس نے ہمارے بہترین دماغوں کو مایوس کر کے ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اب باتوں کا وقت گزر چکا اور سندھ حکومت کو فوٹو سیشن کی سیاست چھوڑ کر کراچی سمیت تمام شہروں میں سچی تعلیمی ایمرجنسی لگانی ہوگی ورنہ یاد رکھیے کہ جب قلم ٹوٹتا ہے تو پھر معاشرے میں وحشت جنم لیتی ہے اور اگر آج بھی ہماری آنکھیں نہ کھلیں تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی اور فہمیدہ لغاری نمرتا اور نائلہ جیسی بہنوں کا لہو ہمارے گریبانوں پر قرض رہے گا

قلم کی ہچکی نظام کی سسکی

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us