Banner

تقریبِ وصال میں سماج، علم اور رشتوں کی خوشبو

Share

Share This Post

or copy the link

تقریبِ وصال میں سماج، علم اور رشتوں کی خوشبو
تحریر : منشا قاضی

منڈی بہاؤالدین کی فضاؤں میں 18 اپریل 2026 کی شام ایک ایسی دلآویز اور یادگار محفل کے طور پر رقم ہوئی، جس نے محض ایک شادی کی تقریب ہونے کے باوجود اپنے اندر معاشرے کی بہت سی تہذیبی، علمی اور انسانی جہتوں کو سمو لیا۔ معروف کالم نگار، سماجی رہنما اور مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی کے داماد جناب ارشد شاہد کی بھتیجیوں کی شادی کی یہ تقریب روایتی خوشی، خاندانی محبت، سماجی احترام اور فکری وقار کا حسین امتزاج بن گئی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ایک ہی چھت کے نیچے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی روشن شخصیات جمع ہو کر زندگی کے رشتوں کو نہ صرف مبارک دے رہی ہیں بلکہ انسان دوستی، خلوص اور اجتماعیت کے اس فلسفے کو بھی تازہ کر رہی ہیں جو ہمارے معاشرتی وجود کی اصل بنیاد ہے۔

یہ تقریب اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک ایسے خوبصورت سنگم کی مانند تھی جہاں سیاست، بیوروکریسی، تعلیم، ادب، مذہب اور سماجی خدمت ایک دوسرے سے دست و گریباں نہیں بلکہ ہم آہنگ دکھائی دیتے تھے۔ عصرِ حاضر میں جب انسانیت کے رشتے اکثر مفاد کے گرد سمٹتے محسوس ہوتے ہیں، ایسی تقریبات اس بات کی یاد دہانی بن جاتی ہیں کہ معاشرہ صرف اداروں سے نہیں، دلوں کے ربط سے بھی زندہ رہتا ہے۔ ایک شادی کی تقریب میں اس قدر متنوع اور باوقار شخصیات کی موجودگی اس امر کی دلیل تھی کہ ہمارے سماجی ڈھانچے میں اب بھی تعلق، احترام اور باہمی قدر شناسی کی روایت پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔

تقریب میں وزیراعلیٰ پنجاب کے خصوصی مشیر جناب عمران صدیقی، سابق وفاقی وزیر و ایم این اے چوہدری ممتاز احمد تارڑ، سابق وفاقی وزیر و ایم این اے چوہدری نذر محمد گوندل، سابق وفاقی وزیر و چیئرمین کرتارپور بورڈ آف گورنرز اینڈ انٹرفیتھ ہارمونی سٹی شہزادہ عالمگیر جو خوبصورت عادتوں کے دلفریب انسان ہیں۔ ریاست، صنعت اور وقارِ شہزادہ عالمگیر قوموں کی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو محض اقتدار یا دولت کی علامت نہیں بنتے بلکہ ایک عہد کی فکری ساخت معاشی سمت اور قومی ترجیحات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ شہزادہ عالمگیر انہی شخصیات میں شامل ہیں جن کی زندگی صنعت و سیاست اور فلسفہء ریاست کے مابین ایک باوقار اور بامعنی مکالمہ دکھائی دیتی ہے۔ اسلام آباد سے ان کی آمد غیر معمولی تعلقِ خاطر کا پتہ دیتی ہے شہزادہ عالمگیر دوستی، رشتوں اور تعلقات کو نبھانے کے فن سے آشنا ہیں۔ ادیبوں، شاعروں، انشاء پردازوں سے ان کی محبت ضرب المثل ہے۔ وہ مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی کے دوستوں میں سے ہیں اور اج وہ مرحوم کے داماد ارشد شاہد کی دعوت پر تشریف لائے۔ سابق ایم پی اے چوہدری شفقت محمود گوندل بیشمار محاسن کا مجموعہ ہیں، سابق ایم پی اے چوہدری سکندر حیات گوندل، سابق ایم پی اے چوہدری لیاقت علی رانجھا، ایم پی اے حمیدہ وحید الدین جن کے والدِ گرامی کے ساتھ راقم کا صرف ایک یادگار واقع یاد ہے اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے شرکت کر کے اس بابرکت موقع کو مزید وقار عطا کیا۔ ان کی آمد محض رسمی شرکت نہ تھی بلکہ اس امر کا اظہار تھی کہ خوشی کے مواقع، جب خلوص کے ساتھ منائے جائیں، تو وہ رشتوں کی سیاست نہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی کی دعوت بن جاتے ہیں۔

اسی طرح اعلیٰ سرکاری حلقوں سے وابستہ نامور بیوروکریٹس کی شرکت نے تقریب کو ایک سنجیدہ اور مہذب وقار عطا کیا۔ سابق ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب فیاض احمد رانجھا جو تعلقات عامہ کے امام اور تعلقات خاصہ کے مجدد ہیں، سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب چوہدری محمد مقصود الحسن جو دلائل و براہین کی قوت سے فصاحت و بلاغت کو نذرِ آتش کر دیتے ہیں، ایئر کموڈور محمد ممتاز خان جسمانی طور پر بھی منتہائے خیال تک پرواز کر جاتے ہیں، ڈائریکٹر جنرل ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد ڈاکٹر امجد حسین، ڈائریکٹر جنرل این سی پی ڈاکٹر اسحاق احمد کا اخلاص، ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر نعمان صدیقی کا یقین ہمیں صدیق کا پتہ دیتا ہے۔ کیونکہ یقین ہمیشہ صدیق پیدا کرتا ہے شکوک و شبہات نے ابُو جہل پیدا کیئے ہیں۔ ڈائریکٹر رحمٰن فاؤنڈیشن لاہور کرنل اشفاق احمد عظیم باپ میاں محمد صدیق مرحوم کے عظیم بیٹے ہیں اگر ان کے ساتھ کسی کا بازو چُھو جائے تو وہ تادمِ زیست اس تعلق کو نبھانے کے لیئے ایثار اور قربانی کا سرتاپا بن جاتے ہیں، ڈائریکٹر انٹرفیتھ ہارمونی سٹی کرنل زاہد، ڈپٹی کمشنر مہر عباس ہرل، ڈائریکٹر لوکل اکاؤنٹس آفتاب احمد تارڑ، ڈپٹی چیف انجینئر ایس این جی پی ایل ملک محمد الیاس، ڈپٹی ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ محمد نعیم بخش تارڑ، ڈپٹی ڈائریکٹر پی سی ایس آئی آر حامد اقبال گوندل، اسسٹنٹ ڈائریکٹر این ایچ اے چوہدری عابد حسین کہوٹ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر واپڈا سرفراز احمد قریشی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر واپڈا جاوید بیگ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر این آئی سی ایل چوہدری محمد رشید گجر، نیشنل بینک آف پاکستان کے منیجرز، کیشئیرز اور جملہ افسران و سٹاف سمیت دیگر متعدد سرکاری اہلکاروں نے شرکت کر کے اس تقریب کو صرف ایک نجی خوشی کی محفل کے بجائے ایک عوامی احترام و تعلق کا منظر بنا دیا۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ سے انسپکٹر مسرت اقبال بوسال، انسپکٹر خضر حیات بوسال، انسپکٹر طاہر گورایا، انسپکٹر یاسر قریشی اور انسپکٹر اکرام اللہ نعیم کی شرکت نے بھی اس اجتماع کو نظم، اعتماد اور سماجی ذمہ داری کی علامت بنا دیا۔

شعبۂ تعلیم کی نمایاں شخصیات کی موجودگی اس تقریب کی سب سے معنی خیز جہتوں میں سے ایک تھی، کیونکہ تعلیم ہی وہ چراغ ہے جو نسلوں کے اندھیرے کم کرتا اور معاشروں کو فکر کی روشنی دیتا ہے۔ سابق پرنسپل گورنمنٹ کالج سرگودھا جناب محمد امیر خان رانجھا، فورٹ کالج آف ایکسیلنس گروپ سرگودھا کے چیئرمین حامد یونس اور پرنسپل و پروفیسر امتیاز حسین، النور گروپ آف سکولز اینڈ کالجز منڈی بہاؤالدین کے چیئرمین محمد بشیر حطار، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد سے پروفیسر ڈاکٹر مدثر اقبال، ایگریکلچر یونیورسٹی فیصل آباد سے پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن، اسلام آباد سے پروفیسر ڈاکٹر مجاہد عباس گوندل، بیکن ہاؤس سکول سسٹم کے چیئرمین پروفیسر منظور احمد گوندل، پروفیسر شاہد محمود، پروفیسر محمد اقبال اور دیگر اہلِ علم و دانش کی شمولیت نے گویا اس تقریب کو ایک فکری وقار عطا کیا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ علم اور محبت جب ایک ہی دائرے میں جمع ہو جائیں تو معاشرہ اپنی بہترین صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے۔
تقریب میں مشہور کالم نگار، ادیب و خطیب، مصنف اور ڈائریکٹر رحمٰن فاؤنڈیشن لاہور منشاء قاضی چیئرمین ڈاکٹر وقار احمد نیاز کی بھی نمائندگی کی اور اس عجوبہ روزگار معالج کے بارے میں وزیراعلی پنجاب کے مشیر جناب عمران صدیقی کو موصوف کی تحقیق کی صلاحیتوں کے بارے میں بتایا تو ان کی عقل دنگ رہ گئی اور اس سلسلے میں انہوں نے رحمٰن فاؤنڈیشن اپنی آمد کو یقینی بنانے کا بھی وعدہ کیا۔ مذہبی اسکالر علامہ اکرام اللہ ہرل، علامہ عطا اللہ ہرل، علامہ محمد اقبال، ڈائریکٹر فوڈز عبد الرؤف جنجوعہ، سی ای او لیور برادرز شاہ پور ملک عدیل احمد اور ڈائریکٹر ڈیفینس مشتاق احمد کی شرکت نے اس محفل کو فکری، ادبی اور روحانی رنگوں سے مزین کیا۔ ان شخصیات کی موجودگی اس حقیقت کی یاد دہانی تھی کہ انسان کی اصل عظمت نہ منصب میں ہے نہ نمود میں، بلکہ اس کے علم، کردار، خدمت اور اخلاق میں ہے۔ شادی جیسی مسرت کی گھڑی میں جب اہلِ فکر و نظر شریک ہوں تو محفل محض جشن نہیں رہتی، ایک سبق بن جاتی ہے کہ زندگی کی اصل خوبصورتی رشتوں کی نرمی، دعاؤں کی خوشبو اور باہمی احترام کے نور میں پنہاں ہے۔

نکاحِ مسنون کے اختتام پر معروف ڈاکٹر، مذہبی و سماجی رہنما و سکالر جناب ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا نے نئے بندھن میں بندھنے والے جوڑوں اور اہلِ خانہ جناب ارشد شاہد، سکندر حیات، نصر اللہ خان، شاہد محمود، اور مدثر علی کو مبارکباد دی اور خوشحالی، سکون اور برکت کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔ دعا کے یہ لمحات محفل کی روح بن گئے، گویا تمام رسمی اور سماجی رنگ ایک طرف، اور بندۂ مومن کے دل سے اٹھنے والی وہ عاجزانہ فریاد ایک طرف کہ اے ربِ کریم، ان رشتوں کو محبت، وفا، برداشت اور رحمت کے ساتھ استوار فرما۔ یہی نکاح کی اصل روح ہے کہ دو افراد کا ملاپ فقط جسمانی یا سماجی اتحاد نہیں، بلکہ دو دلوں، دو خاندانوں اور دو مستقبلوں کا ایسا مقدس رشتہ ہے جو دعا کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔

یہ تقریب اس لحاظ سے بھی یادگار رہی کہ اس نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ معاشرہ صرف خبروں سے نہیں بنتا، تجربات اور تعلقات سے بنتا ہے؛ صرف طاقت سے نہیں، محبت اور دعا سے بنتا ہے؛ صرف عُہدوں سے نہیں، اقدار سے بنتا ہے۔ جب مختلف طبقاتِ زندگی کے لوگ ایک جگہ جمع ہوں، ایک دوسرے کی موجودگی کو عزت دیں، اور خوشی کے ایک موقع کو اجتماعی وقار کا ذریعہ بنا دیں، تو وہ محفل محض شادی کی تقریب نہیں رہتی بلکہ ایک تہذیبی بیان بن جاتی ہے۔ منڈی بہاؤالدین کی یہ تقریب بھی اسی نوعیت کا ایک روشن بیان تھی، جس میں انسان کی سماجی فطرت، خاندانی وابستگی، علمی شائستگی اور روحانی وابستگی سب ایک دوسرے سے ہم آغوش نظر آئے۔
آخرکار یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایسے مواقع زندگی کے بے شمار شور میں ایک نرم، روشن اور باوقار وقفہ ہوتے ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ دنیا کی اصل خوبصورتی تعلق میں ہے، دعا میں ہے، احترام میں ہے، اور اس لمحے میں ہے جب لوگ اپنی مصروفیات سے نکل کر کسی اور کے خوشی کے دن کو بھی اپنی خوشی سمجھ لیں۔ منڈی بہاؤالدین کی اس بابرکت تقریب نے اسی روایت کو تازہ کیا اور ایک ایسا یادگار منظر تخلیق کیا جس میں سیاست کی سنجیدگی، علم کی روشنی، خدمت کی خوشبو اور رشتوں کی حرارت ایک ساتھ جلوہ گر نظر آئی۔ خوبصورت زندگی طلوع افتاب سے پہلے بری خبر سے پرہیز کر کے اچھے لوگوں کے متعلق سوچنا دل و دماغ کو خوبصورت خوشیوں سے بھر دیتا ہے خوبصورت چہرے خوبصورت خیالات خوبصورت لوگ ہمارے معاشرے کی جبین بے نیاز پر کیپشن کی طرح دمکتے ہوئے وہ ستارے ہیں جن کی لو مستقبل کی منزلوں کا پتہ دیتی ہے اور اج ہم سب اپنے قلم قبیلے کے سماجی شخصیت جناب ارشد شاہد کے ممنون احسان ہیں جنہوں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ بلایا اور ان کی دعوت میں خلوص پر اختصاص پایا جاتا تھا اور انہوں نے بڑی محبت سے تمام انے والے مہمانوں کو ارادت و عقیدت کے چراغوں کی روشنی کی لو میں جس طرح ان کا خیر مقدم کیا اس نے ان کی شخصیت کو اور زیادہ پُرکشش بنا دیا۔ وہ صرف یہی کہہ رہے تھے:

آپ آ جائیں تو کوئی تمنا نہ رہے
دل میں حسرت نہ رہے لب پہ تقاضا نہ رہے

تقریبِ وصال میں سماج، علم اور رشتوں کی خوشبو

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us