Banner

عالمی حالات و واقعات رسہ کشی اور انسانیت کا بحران

Share

Share This Post

or copy the link

صحافت منظر نامہ
عالمی حالات و واقعات رسہ کشی اور انسانیت کا بحران

قارئین صحافت ۔ موجودہ عالمی منظر نامہ کسی بھی طور پر استحکام اور امن کی نوید نہیں دے رہا بلکہ یہ ایک ایسی پیچیدہ واقعات میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں طاقتور ممالک کے مفادات نے کمزور ریاستوں کے وجود کو داؤ پر لگا دیا ہے، جس کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد جس “نیو ورلڈ آرڈر” کا خواب دکھایا گیا تھا وہ اب مکمل طور پر بکھر چکا ہے اور دنیا ایک بار پھر بلاک پولیٹکس کی بھینٹ چڑھ چکی ہے۔ تاریخی حقائق شاہد ہیں کہ جب بھی عالمی طاقتوں نے اپنے معاشی تسلط کو برقرار رکھنے کے لیے توانائی کی گزرگاہوں اور معدنی ذخائر پر قبضے کی تگ و دو کی، اس کا نتیجہ ہمیشہ انسانی المیوں کی صورت میں نکلا ہے، جیسا کہ ہم مشرقِ وسطیٰ میں دہائیوں سے جاری سازشوں اور حالیہ فلسطینی و لبنانی بحرانوں میں دیکھ رہے ہیں جہاں عالمی اداروں کی خاموشی نے انصاف کے معیار کو مشکوک بنا دیا ہے۔ اس وقت دنیا کے ابھرتے ہوئے معاشی بلاکس، خاص طور پر برکس (BRICS) اور مغربی اتحاد کے درمیان جاری کھینچا تانی نے ڈالر کی بالادستی کو چیلنج کر دیا ہے، جس کے ردِعمل میں ایسی مالیاتی اور تزویراتی سازشیں جنم لے رہی ہیں جو ابھرتی ہوئی معیشتوں کو ڈیفالٹ کے دہانے پر لانے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔ یوکرین اور روس کے درمیان طویل جنگ نے نہ صرف یورپ کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا بلکہ خوراک اور توانائی کے عالمی بحران کو جنم دے کر یہ ثابت کر دیا کہ جدید دنیا آج بھی انیسویں صدی کے توسیع پسندانہ عزائم سے پیچھا نہیں چھڑا سکی ہے، جبکہ دوسری جانب بحیرہ جنوبی چین میں بننے والے نئے فوجی اتحاد ایشیاء پیسیفک خطے کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر رہے ہیں۔ ڈیجیٹل دور کی اس عالمی جنگ میں اب صرف ہتھیار نہیں بلکہ “ففتھ جنریشن وارفیئر” اور سائبر حملوں کے ذریعے ریاستوں کے نظریاتی ڈھانچے کو کمزور کیا جا رہا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا کے کنٹرول کو نئے ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے عوامی رائے عامہ کو یرغمال بنایا جا رہا ہے۔ یہ ایک کڑوی سچائی ہے کہ انسانی حقوق اور جمہوریت کے دعوے دار ممالک اکثر اپنے مفادات کی خاطر انہی اصولوں کی پامالی کرتے نظر آتے ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عالمی سیاست کا اصل محور اخلاقیات نہیں بلکہ صرف اور صرف مفاد پرستی ہے، جہاں کمزور قوموں کو صرف اپنی جغرافیائی اہمیت کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ آج کا عالمی منظر نامہ ایک ایسی خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے سنگین چیلنجز کو پسِ پشت ڈال کر صرف اسلحے کی دوڑ اور زمین کے ٹکڑوں پر قبضے کی جنگ لڑی جا رہی ہے، جو بالآخر پوری انسانیت کو ایک ایسی تباہی کی طرف دھکیل سکتی ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔

عالمی حالات و واقعات رسہ کشی اور انسانیت کا بحران

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us