Banner

خضدار کے نوجوانوں کا پراسرار قتل ، نشہ آور ادویات کو روکنا متعلقہ حکام کے لئے چیلنج بن گیا

Share

Share This Post

or copy the link

تحریر، وسیم انور

گزشتہ برس سے اب تک خضدار میں یکے بعد دیگرے نوجوانوں میں نشہ آور ادویات کا استعمال بڑھتا جارہا ہے جس میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، ان نشہ آور ادویات کے استعمال سے متاثر ہونے والے افراد کی زیادہ تر تعداد نوجوانوں کی ہیں جن کی عمریں 15 سے 30 سال تک ہیں ، گزشتہ برس نشہ آور ادویات استعمال کرنے سے کھٹان کے رہائشی ناصر ولد عبد الحق قوم محمدحسنی کا موت بھی اسی طرح پراسرار طور پر واقع ہوا ان کے خاندانی ذرائع نے بات کرتے ہوئے کہا کہ رات کو انہوں نے ان ادویات کا استعمال کیا اگلی صبح جب انہوں نے اٹھنے میں دیر کردی تو گھر والے پریشانی میں مبتلا ہوگئے جب ان کو جگانے کے لئے ان کے بستر پر گئے تو ان کی موت واقع ہوگئی تھی بعد ازاں جب ان کی موت کی سبب معلوم کی گئی تو ان کے موت کا سبب یہی نشہ آور ادویات کے استعمال سے ہی ہوئی ۔

اسی طرح خضدار کے ایک اور علاقے جو کہ ذندہ پیر ایریا کے نام سے منسوب ہے سے تعلق رکھنے والے دو کم سن نوجوان علی جان ولد محمد اسلم اور آفاق احمد ولد نثار احمد نے خضدار میں واقع ایک کمپلیکس کے میڈیکل سٹور سے نشہ آور ادویات خریدی تھیں ان دونوں نوجوانوں نے ایک ساتھ ان ادویات کا استعمال کیا جس سے دونوں نوجوانوں کی حالت ابتر ہوئی جنہیں فوراً ٹیچنگ ہسپتال خضدار منتقل کیا گیا جس سے وہ کافی دیر تک زندگی اور موت کے کشمکش میں مبتلا رہے بعد ازاں علی جان ولد محمد اسلم کی حالت ٹیچنگ ہسپتال خضدار میں بھی بہتر نہ ہوسکی جنہیں ٹیچنگ ہسپتال خضدار سے سی ایم ایچ ریفر کردیا گیا سی ایم ایچ لے جاتے ہوئے راستے میں وہ جان کی بازی ہارگئے جبکہ آفاق احمد ولد نثار احمد کے مضبوط اعصاب نے ان کا ساتھ دیا اور وہ صحت یاب ہوگئے ، بعد ازاں آفاق احمد سے ان کے خاندان کے افراد نے متعلقہ ممنوعہ ادویات کے خریداری سے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے اس میڈیکل سٹور کا پتہ دیا جس سے انہوں نے گولیاں خریدی تھیں معلومات حاصل کرنے کے بعد خاندان کے افراد نے ضلعی انتظامیہ کومتعلقہ میڈیکل سٹور کے ان غیر ذمے دارانہ خرید وفروخت سے متعلق بذریعہ درخواست آگاہ کیا انتظامیہ کی جانب سے کاروائی کرکے متعلقہ میڈیکل سٹور کو سیل کردیا گیا ، جبکہ علاقے کے قبائلی عمائدین اور ضلعی انتظامیہ نے اس مسئلہ کے سنگین نتائج کے پیش نظر مفاہمت کی راہ ہموار کرکے دونوں فریقین کے مابین صلح کے بعد اس مسئلہ کو ختم کر دیا ۔

حالیہ برس مارچ کے مہینے میں خضدار سے تعلق رکھنے والے اختر علی نتھوانی کا موت بھی ان کے خاندان کے افراد کے لیئے ایک المناک حادثے کی صورت اختیار کر گیا جب ان کو اس بات کا علم ہوا کہ ان کے گھر کے چراغ کو بآسانی نشہ آور ادویات کے ذریعے بجھا دیا گیا ہے مذکورہ بالا واقعات کے علاوہ ایسے متعدد واقعات اور بھی ہیں جن کے خاندان کے افراد اس شرمندگی سے ایسے واقعات کو رپورٹ کرنے سے اس لئے گریزاں ہیں کہ کہیں ان کے خاندان کا نام بدنام نہ ہو اور کئی ایسے واقعات ہیں جن کی رسائی متعلقہ حکام تک آسان نہیں ، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے واقعات کو روکنے میں متعلقہ حکام کامیاب کیوں نہ ہو سکے ؟ اس قسم کے ادویات کی خریدوفروخت میں مصروف عوامل کے متعلق تحقیقات کیوں نہیں کی گئی ؟ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لئے متعلقہ حکام نے کیا حکمت عملی اختیار کی ہے جس سے اس ناسور کا خاتمہ ہوسکے ؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات خضدار کے عوام لئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں لوگوں میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ کہیں اس ناسور کی جڑیں ہمارے نوجوان نسل میں سرایت کرکے خدانخواستہ ہمارے آنے والے نسلوں کے تباہی کا باعث نہ بنیں ، اس مسئلے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ حکام پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کے جڑوں تک پہنچ کر ان کے خلاف مؤثر کارروائی کریں تاکہ یہاں کے لوگوں کو اطمینان دلایا جاسکے ۔

خضدار کے نوجوانوں کا پراسرار قتل ، نشہ آور ادویات کو روکنا متعلقہ حکام کے لئے چیلنج بن گیا

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us