Banner

​خونی کھیل۔ افغان جہاد، امریکی مفادات اور مدرسہ حقانیہ کا کردار

featured
Share

Share This Post

or copy the link

احمدخان اچکزئی

​خونی کھیل۔ افغان جہاد، امریکی مفادات اور مدرسہ حقانیہ کا کردار

محترم قارئین ۔​افغانستان کی جدید تاریخ کا المیہ 1929 میں غازی امان اللہ خان کی ترقی پسند حکومت کے خلاف برطانوی سامراج کی ایماء پر اٹھنے والی مذہبی بغاوتوں سے شروع ہوا، جس نے اس خطے میں جدت پسندی کے دروازے بند کر دیے۔ تاہم، سرد جنگ کے عالمی تناظر میں امریکی مداخلت کا آغاز 1950 کی دہائی، بالخصوص 1955 میں ہوا، جب امریکی انٹیلیجنس نے نیشنل سیکورٹی آرکائیو کی دستاویزات کے مطابق افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا شروع کیا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان “پختونستان” اور “ڈیورنڈ لائن” کے تنازعات نے اس وقت شدت اختیار کی جب 1970 کی دہائی میں سردار داؤد خان برسرِ اقتدار آئے۔ اس کے جواب میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے، میجر جنرل نصیر اللہ بابر (جو اس وقت آئی جی ایف سی تھے) کی نگرانی میں، افغان حکومت کے مخالفین بشمول نوجوان گلبدین حکمتیار اور احمد شاہ مسعود کی سرپرستی شروع کی۔ 1973 میں جب داؤد خان نے بلوچ علیحدگی پسندوں کو پناہ دی، تو پاکستان نے چراٹ میں افغان باغیوں کے لیے تربیتی کیمپ قائم کیے۔ 1974 میں گلبدین حکمتیار پاکستان منتقل ہوئے جہاں جماعت اسلامی نے انہیں سیاسی اور لاجسٹک مدد فراہم کی۔ یہ وہ دور تھا جب مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے اساتذہ اور طلباء نے، جن میں مولوی محمد یونس خالص جیسے رہنما شامل تھے، کابل حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کی بنیاد رکھی۔​تاریخ کا ایک اہم موڑ 1976 میں آیا جب بھٹو نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف مقرر کیا، حالانکہ اسی سال بھٹو اور داؤد خان کے درمیان “عدم مداخلت” کے معاہدے طے پا چکے تھے اور افغانستان نے بلوچ شورش پسندوں کی مالی امداد بند کر دی تھی۔ لیکن 1977 کے مارشل لاء نے ان تمام سفارتی کوششوں کو دفن کر دیا۔ اپریل 1978 میں افغانستان میں کمیونسٹ “ثور انقلاب” کے بعد حالات نے نیا رخ لیا۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق، سوویت فوجوں کے داخلے سے پانچ ماہ قبل، 3 جولائی 1979 کو امریکی صدر جمی کارٹر نے آپریشن سائیکلون پر دستخط کیے، جس کا مقصد مجاہدین کے ذریعے سوویت یونین کو ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں دھکیلنا تھا۔ یہ تاثر غلط ہے کہ روس اپنی مرضی سے گرم پانیوں تک پہنچنے آیا تھا، بلکہ حقائق بتاتے ہیں کہ اسے افغان حکومت کی دعوت اور امریکی اشتعال انگیزی کے نتیجے میں مداخلت کرنا پڑی۔ جب دسمبر 1979 میں سوویت افواج کابل پہنچیں، تو جنرل ضیاء الحق نے امریکی ایماء اور سعودی فنڈنگ کے ذریعے اسے “مقدس جہاد” قرار دے دیا اور خیبر پختونخوا کے علاقوں بڈھ بیر، کوہاٹ، ہنگو، میران شاہ، باجوڑ اور بلوچستان کے علاقوں چمن، پشین اور ژوب میں عسکری تربیتی مراکز قائم کیے، جہاں بم سازی اور میزائل ٹیکنالوجی کی تربیت دی گئی۔​اس جنگ کو نظریاتی ایندھن فراہم کرنے کے لیے جنوری 1980 میں پشاور سے جمعیت علمائے اسلام کے مفتی محمود، جماعت اسلامی کے میاں طفیل محمد اور مدرسہ حقانیہ کے مولانا عبدالحق نے مشترکہ فتویٰ جاری کیا، جس نے امریکی سیاسی جنگ کو مذہبی تقدس عطا کر دیا۔ اسی دور میں یونیورسٹی آف نیبراسکا کو USAID کے ذریعے 51 ملین ڈالر فراہم کیے گئے تاکہ وہ ایسا “جہادی لٹریچر” تیار کرے جو افغان بچوں اور طلباء کے ذہنوں میں تشدد کو راسخ کر سکے۔ یہ کتب جماعت اسلامی کے نیٹ ورک کے ذریعے مدارس اور مہاجر کیمپوں میں تقسیم کی گئیں۔ اس عمل میں مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک نے “یونیورسٹی آف جہاد” کا خطاب پایا، کیونکہ یہاں سے جلال الدین حقانی، مولوی محمد یونس خالص، مولوی محمد نبی اور بعد ازاں ملا اختر منصور جیسے عسکری رہنما نکلے۔ جلال الدین حقانی نے فروری 1983 میں امریکہ کا دورہ کیا جہاں امریکی صدر نے انہیں “آزادی کا سپاہی” کہا۔ یہاں تک کہ طالبان کے بانی ملا محمد عمر کو بھی اسی مدرسے نے اعزازی ڈگری جاری کی۔
​اس نیٹ ورک میں کراچی کا بنوری ٹاؤن، دارالعلوم کورنگی، ملتان کا خیر المدارس، لاہور کا جامعہ اشرفیہ اور جامعہ مدنیہ، کوئٹہ کا جامعہ اسلامیہ، چمن کا جامعہ دارالرشاد، اور پشین کا جامعہ مخزن العلوم شامل تھے، جنہوں نے فکری ذہن سازی سے لے کر افرادی قوت کی فراہمی تک ہر محاذ پر کام کیا۔ آج افغانستان کی موجودہ حکومت کے اہم وزراء (داخلہ، خارجہ، مواصلات اور حج) اسی تعلیمی سلسلے کے فارغ التحصیل ہیں۔ حالیہ عرصہ (فروری 2026) میں سراج الحق اور مولانا فضل الرحمان کی افغان قیادت اور گلبدین حکمتیار سے ملاقاتیں اسی پرانے سیاسی و مذہبی گٹھ جوڑ کا تسلسل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ روس اور امریکہ کی ایک سامراجی جنگ تھی جسے مذہب کا لبادہ پہنایا گیا۔ جب بھی پختونخوا کے کسی رہنما، جیسے مولانا خان زیب یا دیگر دانشوروں نے اس تزویراتی بیانیے پر سوال اٹھایا، انہیں جبر کا سامنا کرنا پڑا یا شہید کر دیا گیا۔ اگرچہ جنرل مشرف، نصیر اللہ بابر اور خواجہ آصف جیسے کرداروں نے اعتراف کیا کہ یہ سب کچھ امریکی مفادات کے لیے کیا گیا، لیکن مذہبی قیادت اور مدارس کے بڑے حصوں نے تاحال اس تاریخی غلطی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی خونریزی پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور اپنی فکری سمت کی اصلاح نہیں کی۔

​خونی کھیل۔ افغان جہاد، امریکی مفادات اور مدرسہ حقانیہ کا کردار

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us