Banner

رشتۂ زوجیت کی بصیرت افروز رہنمائی ’’زوج (انتخاب سے نکاح تک)‘‘ کا علمی و ادبی جائزہ

featured
Share

Share This Post

or copy the link

رشتۂ زوجیت کی بصیرت افروز رہنمائی ’’زوج (انتخاب سے نکاح تک)‘‘ کا علمی و ادبی جائزہ
از قلم : زاہد اقبال بھیل
بانی و چئیرمین: بھیل انٹرنیشنل ادبی سنگت ننکانہ صاحب
بانی و چیف ایڈیٹر: سلسلے وار مجلہ قلم و قرطاس ننکانہ صاحب
’’زوج‘‘ عربی زبان کا ایک بامعنی لفظ ہے، جس کے معنی جوڑا یا شریکِ حیات کے ہیں۔ قرآنِ حکیم میں بھی ’’زوج‘‘ کا تصور انسان کی فطری تکمیل، سکونِ قلب اور باہمی ہم آہنگی کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ یہ محض دو افراد کا تعلق نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات کی بنیاد ہے، جس پر خاندان اور معاشرے کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ اسی اہم اور حساس موضوع کو ’’زوج‘‘ (انتخاب سے نکاح تک) میں نہایت جامع اور بصیرت افروز انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
اس کتاب کی مصنفہ بنت حوا شاہین اختر حسین راولپنڈی و اسلام آباد کی معروف قلمکار، ادیبہ اور سماجی شخصیت ہیں، جو بنت حوا فیملی کونسلنگ اینڈ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کی سی ای او بھی ہیں۔ ان کا عملی تجربہ اور سماجی مشاہدہ اس کتاب میں نمایاں طور پر جھلکتا ہے، جس کی بدولت یہ تصنیف محض نظری گفتگو نہیں بلکہ ایک عملی رہنمائی کا سرچشمہ بن جاتی ہے۔
موضوع کی وسعت اور جامعیت
’’زوج (انتخاب سے نکاح تک)‘‘ دراصل ازدواجی زندگی کے مختلف مراحل کا ایک مکمل اور مربوط مطالعہ ہے۔ مصنفہ نے خاندان کی ضرورت و اہمیت سے لے کر شریکِ حیات کے انتخاب، شادی کے بنیادی مقصد، شادی کی اقسام اور اس کے فوائد تک ہر پہلو کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
کتاب میں معاشرتی رسم و رواج، شادی کی مناسب عمر، مثبت و منفی رویے، منگنی، رشتہ تلاش کرنے کے مسائل اور کم و بیش عمری کی شادی جیسے اہم موضوعات پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ لڑکے اور لڑکی کی باہمی پسند، میل ملاقات، خاندانوں کی رضا مندی اور مذہبی عقائد کو بھی نہایت متوازن انداز میں زیرِ بحث لایا گیا ہے۔
عملی مسائل اور ان کا حل
مصنفہ نے نہایت جرأت مندی کے ساتھ ان مسائل کو بھی اجاگر کیا ہے جو عموماً ہمارے معاشرے میں نظر انداز کر دیے جاتے ہیں، جیسے جہیز، ذات برادری کا دباؤ، پیشے کا فرق، جائیداد کے معاملات اور مادی خواہشات۔ ان موضوعات پر ان کی گفتگو نہ صرف حقیقت پسندانہ ہے بلکہ اصلاحی پہلو بھی رکھتی ہے۔گھریلو رشتوں—ساس، سسر، دیور، جیٹھ کے تعلقات اور ان کے تقاضوں کو بھی بڑی حکمت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، جو نئی زندگی شروع کرنے والے افراد کے لیے نہایت مفید رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
نکاح اور اس کے تقاضے
کتاب میں نکاح کے مذہبی، سماجی اور قانونی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے، جن میں حق مہر، نکاح کا مسلکی پہلو، بارات اور سہرا بندی جیسے موضوعات شامل ہیں۔ یہ تمام مباحث اس کتاب کو ایک ہمہ جہت رہنمائی کا درجہ دیتے ہیں۔
اسلوب اور ادبی اہمیت
بنت حوا شاہین اختر حسین کا اسلوب سادہ، رواں اور دلنشین ہے۔ وہ پیچیدہ سماجی مسائل کو بھی آسان اور قابلِ فہم انداز میں بیان کرتی ہیں۔ ان کی تحریر میں اصلاح کا جذبہ، تجربے کی پختگی اور خلوص کی جھلک نمایاں ہے، جو قاری کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتی۔
اشاعتی معیار
159 صفحات پر مشتمل یہ کتاب جنوری 2025ء میں علم و عرفان پبلشرز (40 الحمد مارکیٹ، غزنی اسٹریٹ، اردو بازار لاہور) سے نہایت خوبصورت ٹائٹل اور معیاری کاغذ کے ساتھ شائع ہوئی ہے، جو اس کی ظاہری دلکشی کو بھی بڑھاتی ہے۔
انفرادیت اور افادیت
یہ کتاب اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک منفرد کاوش ہے، جو انتخابِ زوج سے لے کر نکاح تک کے تمام مراحل کو ایک جامع اور منظم انداز میں پیش کرتی ہے۔ یہ نہ صرف نوجوانوں بلکہ والدین اور خاندانوں کے لیے بھی یکساں طور پر مفید ہے۔
’’زوج (انتخاب سے نکاح تک)‘‘ ایک ایسی وقیع تصنیف ہے جو ازدواجی زندگی کے حساس اور اہم موضوعات پر متوازن، مدلل اور عملی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ بنت حوا شاہین اختر حسین کی یہ کاوش بلاشبہ معاشرتی اصلاح کی ایک اہم کڑی ہے، جو ایک مضبوط اور خوشحال خاندانی نظام کے قیام میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

رشتۂ زوجیت کی بصیرت افروز رہنمائی ’’زوج (انتخاب سے نکاح تک)‘‘ کا علمی و ادبی جائزہ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us