Banner

مشرقِ وسطیٰ کا بحران مفادات، تاوانِ جنگ اور عالمی معیشت

featured
Share

Share This Post

or copy the link

احمدخان اچکزئی

مشرقِ وسطیٰ کا بحران مفادات، تاوانِ جنگ اور عالمی معیشت

محترم قارئین! ابراہیم اچکزئی کی ایک سادہ مگر پرمغز حکایت میں ایک ایسی عالمی حقیقت پوشیدہ ہے جو دورِ حاضر کی جیو پولیٹکس کی مکمل تفہیم کرتی ہے۔ ابراہیم اچکزئی جب اپنے دوست کے ہمراہ سفر محمد کے شوروم پر تشریف لے گئے، تو وہاں ایک صاحب کو چابیوں کا گچھا گھماتے ہوئے یہ کہتے سنا کہ “مجھے اس گاڑی کی فروخت پر اللہ سے دو لاکھ روپے منافع چاہیے”۔ یہ سنتے ہی ابراہیم وہاں سے فوراً رخصت ہونے لگے اور اپنے حیران دوست کو، جو یہ سمجھ رہا تھا کہ منافع تو اللہ سے مانگا گیا ہے، ایک گہری منطق سمجھائی کہ اللہ کے پاس (مادی صورت میں) پیسے نہیں ہیں، وہ یہ رقم مجھ سے یا تم سے لے کر ہی اسے عطا کرے گا۔ کائنات کے مادی نظام میں وسائل کی منتقلی ہمیشہ موجودہ ذرائع سے ہی ممکن ہوتی ہے اور جب کوئی فریق بڑے فائدے یا “تاوانِ جنگ” کا مطالبہ کرتا ہے، تو وہ سرمایہ کسی غیبی خزانے سے نہیں بلکہ عالمی معیشت کے رگ و ریشہ سے نچوڑا جاتا ہے۔ آج ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور تاوانِ جنگ کے مطالبات کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جیو پولیٹکس محض نظریاتی جنگ نہیں، بلکہ ایک پیچیدہ معاشی گورکھ دھندہ ہے جہاں بڑی طاقتیں اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے بوجھ ہمیشہ تیسرے فریق پر ڈالتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امریکہ جیسے عالمی کھلاڑی کسی تنازعے میں فریق بنتے ہیں، تو ان کے جنگی اخراجات یا تلافی کی رقوم کا بوجھ براہِ راست یا بالواسطہ ان کے حلیف ممالک، بالخصوص تیل کی دولت سے مالا مال عرب ریاستوں پر پڑتا ہے۔ یہ ایک ایسی منڈی ہے جہاں اسلحے کی فروخت، سیکیورٹی کے نام پر تحفظ کی فراہم اور سفارتی سودے بازی کے ذریعے رقوم کا تبادلہ ہوتا ہے۔
ایران کی جانب سے حالیہ برسوں میں معاشی نقصانات کے ازالے کا جو مطالبہ کیا جاتا رہا ہے، اسے وہ اپنی معیشت پر لگی پابندیوں اور جنگی حالات کا نتیجہ قرار دیتا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ اپنی جیب سے یہ رقم ادا کرے گا؟ عالمی اقتصادیات کے ماہرین جانتے ہیں کہ امریکہ کا اپنا مالیاتی ڈھانچہ خسارے اور قرضوں پر کھڑا ہے، لہٰذا ابراہیم اچکزئی کی منطق یہاں بالکل صادق آتی ہے کہ اگر امریکہ کو ایران کو کچھ دینا ہے تو وہ یہ رقم اپنے “عرب گاہکوں” سے لے کر ہی دے گا۔ امریکہ ایک اسمارٹ بروکر کی طرح کام کرتا ہے؛ وہ ایک طرف ایران کے ساتھ ڈیل کی بات کرتا ہے تو دوسری طرف اسرائیل کی دفاعی ضروریات کا حوالہ دے کر عرب ممالک سے بھاری سرمایہ کاری اور اسلحے کے معاہدے حاصل کرتا ہے۔ یوں مشرقِ وسطیٰ کا سارا خطہ ایک ایسی شطرنج کی بنیاد بن چکا ہے جہاں مہرے مقامی ہیں لیکن چالیں عالمی طاقتیں چل رہی ہیں۔ اس عمل میں ایران کو ملنے والی ممکنہ رعایتیں یا اسرائیل کو ملنے والی فوجی امداد، درحقیقت اسی علاقائی دولت کا حصہ ہوتی ہے جو مختلف حیلوں بہانوں سے عالمی مالیاتی نظام میں گردش کرتی رہتی ہے۔ اسرائیل کو خطے میں ایک “فوجی چھاؤنی” کے طور پر استعمال کرتے ہوئے امریکہ نہ صرف عرب ممالک کو خوفزدہ رکھتا ہے بلکہ انہیں مسلسل دفاعی اخراجات پر مجبور بھی کرتا ہے۔ جب ایران کی جانب سے تلافی کا مطالبہ سامنے آتا ہے، تو امریکہ اسے توازن برقرار رکھنے کے اوزار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے عرب ریاستوں سے سرمایہ لیتا ہے، اس کا ایک حصہ خطے میں اپنی موجودگی پر خرچ کرتا ہے، کچھ اسرائیل کو دیتا ہے اور کچھ ایران کے منجمد اثاثوں کی ریلیف کی صورت میں ظاہر کرتا ہے۔عالمی سیاست کے اس کھیل میں کوئی بھی رقم مفت نہیں ملتی؛ ہر ڈالر کے پیچھے کسی نہ کسی ملک کی خودمختاری یا اس کے قدرتی وسائل کی قربانی شامل ہوتی ہے۔ عالمی نظامِ عدل میں ‘انصاف’ کا تصور محض طاقت کے توازن سے جڑا ہوا ہے۔ ابراہیم اچکزئی کی بصیرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ عالمی طاقتوں کے وعدے کبھی خلاء میں پورے نہیں ہوتے؛ اگر ایران تاوان مانگ رہا ہے اور امریکہ اسے دینے کی پوزیشن میں آ رہا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پسِ پردہ کسی تیسرے فریق کی جیب کٹنے والی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کی دولت کا بڑا حصہ ان مصنوعی تنازعات کی نذر ہو رہا ہے جو بڑی طاقتوں کے مفادات کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ جب تک خطے کے ممالک اپنے تنازعات خود حل کرنے اور بیرونی مداخلت کو کم کرنے کی کوشش نہیں کریں گے، وہ اسی طرح تاوان اور منافع کے چکر میں اپنی دولت سے محروم ہوتے رہیں گے۔ یہ ایک ایسا معاشی دائرہ ہے جس کا انجام صرف تب ہی بدلا جا سکتا ہے جب ہم اس حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ عالمی سیاست میں کوئی بھی اللہ واسطے فائدہ نہیں پہنچاتا، بلکہ ہر منافع کے پیچھے کسی دوسرے کا نقصان لازمی طور پر پوشیدہ ہوتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کا بحران مفادات، تاوانِ جنگ اور عالمی معیشت

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us