Banner

امنِ عالم یوٹوپیا سے حقیقت تک کا سفر

featured
Share

Share This Post

or copy the link

محمدنسیم رنزوریار

امنِ عالم یوٹوپیا سے حقیقت تک کا سفر

قارئین کرام ۔عالمی امن محض ایک خواب نہیں بلکہ بقائے باہمی کی وہ ناگزیر ضرورت ہے جس کے بغیر انسانی تہذیب کی عمارت کسی بھی وقت دھڑام سے گر سکتی ہے، تاریخ شاہد ہے کہ جنگوں نے ہمیشہ انسانیت کو نوحہ کناں کیا ہے مگر جدید دور میں ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی نے اس خطرے کو اجتماعی خودکشی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، عالمی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ معاشی عدم مساوات اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے جہاں دنیا کا ایک چھوٹا سا طبقہ تعیشات میں غرق ہے اور غالب اکثریت بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم ہے، جب تک طاقتور ممالک اپنی خارجہ پالیسیوں کو قوت ہی حق ہے کے فلسفے سے نکال کر انصاف ہی قوت ہے کے اصول پر استوار نہیں کریں گے تب تک پائیدار امن ایک سراب ہی رہے گا، اقوام متحدہ جیسے عالمی اداروں کو محض ایک مخصوص کلب کے مفادات کا نگران بننے کے بجائے کمزور قوموں کی ڈھال بننا ہوگا، ویٹو پاور جیسے غیر جمہوری تصورات نے عالمی انصاف کے گلے میں جو پھندہ ڈال رکھا ہے اسے کاٹے بغیر عالمی امن کا تصور محض ایک دیوانے کا خواب ہے، امن کے حصول کے لیے سب سے پہلے ہمیں ہم اور وہ کی اس مصنوعی خلیج کو پاٹنا ہوگا جو نسل، رنگ، مذہب اور جغرافیے کے نام پر انسانوں کے درمیان حائل کر دی گئی ہے، تعلیمی نصاب میں جنگی ہیروز کے بجائے امن کے علمبرداروں کو جگہ دینی ہوگی تاکہ آنے والی نسلیں بندوق سے زیادہ قلم اور نفرت سے زیادہ مکالمے کی اہمیت کو سمجھ سکیں، عالمی سطح پر ہتھیاروں کی دوڑ کو روکنے کے لیے ایک ایسا میکانزم بنانا ضروری ہے جہاں دفاعی بجٹ کا ایک بڑا حصہ تعلیم، صحت اور ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وقف کیا جائے، معاشی سامراجیت کا خاتمہ بھی امن کے لیے اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنی کہ سرحدی تنازعات کا حل کیونکہ بھوک اور افلاس انتہا پسندی کے لیے زرخیز زمین فراہم کرتے ہیں، مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کو ایک عالمی منشور کے طور پر اپنانا ہوگا تاکہ عقیدے کی بنیاد پر ہونے والے فسادات کا سدباب کیا جا سکے، ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں سوشل میڈیاء رابطوں کا ذریعہ ہے وہاں اسے نفرت انگیز بیانیے کے پھیلاؤ کا آلہ بننے سے روکنا ہوگا، عالمی امن تبھی ممکن ہوگا جب دنیا کا ہر فرد یہ محسوس کرے کہ اس کا وقار اور اس کے حقوق محفوظ ہیں، تنازعات کو حل کرنے کے لیے جنگ کے بجائے غیر مشروط مکالمے کی روایت کو فروغ دینا ہوگا کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ ہر بڑی جنگ کا خاتمہ بالآخر میز پر بیٹھ کر ہی ہوا ہے تو پھر کیوں نہ یہ کام خون خرابے سے پہلے ہی کر لیا جائے، انصاف کی وہ قسم جو صرف طاقتور کے لیے ہو دراصل وہ ناانصافی کی بدترین شکل ہے جس سے بغاوت جنم لیتی ہے، عالمی امن کا راستہ واشنگٹن، بیجنگ، ماسکو اور لندن کی راہداریوں سے نہیں بلکہ انسانیت کے اس مشترکہ درد سے نکلتا ہے جو سرحدوں کو نہیں مانتا، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک ملک کی بدحالی دوسرے ملک کی خوشحالی کو کھا جائے گی کیونکہ آج کی دنیا ایک عالمی گاؤں (Global Village) بن چکی ہے جہاں آگ ایک گھر میں لگے تو پورا محلہ اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے، امن کا قیام کسی ایک لیڈر یا ملک کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ کرہ ارض پر بسنے والے ہر انسان کا اخلاقی فریضہ ہے، جب تک ہم دوسروں کے لیے وہی نہیں چاہیں گے جو اپنے لیے چاہتے ہیں تب تک امن کی شمع نہیں جل سکتی، عالمی امن کی عمارت ان اینٹوں پر کھڑی ہوگی جن پر سچائی، ہمدردی، مساوات اور ایثار لکھا ہوگا، یہ محض ایک سیاسی عمل نہیں بلکہ ایک روحانی انقلاب ہے جس میں انا کے بت توڑ کر انسانیت کے پرچم کو سربلند کرنا ہوگا، اگر ہم واقعی اپنی نسلوں کو ایک محفوظ مستقبل دینا چاہتے ہیں تو ہمیں آج ہی نفرت کے سوداگروں کو مسترد کر کے امن کے پیامبروں کا ساتھ دینا ہوگا کیونکہ امن کی قیمت جنگ سے ہمیشہ کم ہوتی ہے اور اس کا ثمر ہمیشہ دائمی ہوتا ہے۔

امنِ عالم یوٹوپیا سے حقیقت تک کا سفر

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us