Banner

بارود کے سائے میں پاکستان کا فیصلہ

featured
Share

Share This Post

or copy the link

بارود کے سائے میں پاکستان کا فیصلہ
تحریر: محمد عبیدالله میرانی
صدر کورنگی پریس کلب کراچی

مشرقی وسطیٰ ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ہر گزرتا دن حالات کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے ایران اور عرب دنیا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اب صرف سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات عالمی سیاست معیشت اور سلامتی پر بھی واضح طور پر ظاہر ہونے لگے ہیں جنگ کے خدشات جو کچھ عرصہ قبل محض تجزیوں تک محدود تھے اب ایک حقیقی خطرے کی شکل اختیار کر چکے ہیں ایسے میں پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو اس خطے سے گہرا تعلق رکھتا ہے غیر فعال رہنا ممکن نہیں رہا حالیہ دنوں میں پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کا ردعمل اس صورتحال کی سنگینی کو واضح کرتا ہے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی جانب سے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت اور سعودی عوام سے اظہار یکجہتی ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم کی جانب سے سعودی ولی عہد سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے اسی موقف کی تائید کرنا سفارتی سطح پر پاکستان کی پوزیشن کو مزید مضبوط بناتا ہے یہ اقدامات محض رسمی بیانات نہیں بلکہ ایک واضح اسٹریٹجک سمت کی نشاندہی کرتے ہیں تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا کردار صرف بیانات تک محدود رہے گا یا وہ اس صورتحال میں ایک فعال اور مؤثر کردار ادا کرے گا سفارتکاری کا اصل مقصد صرف موقف دینا نہیں بلکہ نتائج حاصل کرنا ہوتا ہے پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے اس مؤقف کو عملی حکمت عملی میں تبدیل کرے پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اس صورتحال کو مزید حساس بناتی ہے ایک طرف ایران کے ساتھ طویل سرحد اور تاریخی تعلقات ہیں تو دوسری جانب سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ گہرے معاشی اور سفارتی روابط موجود ہیں یہ تمام عوامل پاکستان کو ایک نازک توازن برقرار رکھنے پر مجبور کرتے ہیں جہاں کسی ایک طرف جھکاؤ دوسرے محاذ پر نقصان کا باعث بن سکتا ہے اس کشیدگی کے اثرات معاشی میدان میں بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات پاکستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ملک کے لیے شدید خطرے کی گھنٹی ہیں پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ میں زندگی گزارنے والی عوام کے لیے توانائی ٹرانسپورٹ اور خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافہ ایک نئے بحران کو جنم دے سکتا ہے ایسی صورتحال میں معاشی استحکام برقرار رکھنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے اسی طرح پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار سمندری تجارت پر ہے مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی جنگی صورتحال یا کشیدگی تجارتی راستوں کو متاثر کر سکتی ہے جس کے نتیجے میں درآمدات اور برآمدات دونوں متاثر ہو سکتی ہیں بندرگاہوں کی سیکیورٹی بحری نگرانی اور تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے بروقت اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں سفارتکاری کا اصل امتحان ایسے ہی مواقع پر ہوتا ہے جب ایک ملک کو نہ صرف اپنے مفادات بلکہ خطے کے استحکام کو بھی مدنظر رکھنا پڑتا ہے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ محض ردعمل تک محدود نہ رہے بلکہ ایک فعال اور مثبت کردار ادا کرے عالمی فورمز پر مضبوط موقف اسلامی ممالک کے درمیان پل کا کردار اور تنازعات کے حل کے لیے سنجیدہ سفارتی کوششیں پاکستان کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کر سکتی ہیں اس تمام صورتحال میں داخلی استحکام کی اہمیت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی جب ملک کے اندر سیاسی عدم استحکام معاشی دباؤ اور ادارہ جاتی کمزوریاں موجود ہوں تو خارجہ محاذ پر مؤثر سفارتکاری کرنا مشکل ہو جاتا ہے اس لیے داخلی سطح پر اتحاد استحکام اور پالیسی میں تسلسل ناگزیر ہے تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کا موقف مضبوط ہو سکے یہ لمحہ پاکستان کے لیے محض ایک خطرہ نہیں بلکہ ایک موقع بھی ہے اگر پاکستان دانشمندی توازن اور جرات کے ساتھ فیصلے کرتا ہے تو وہ نہ صرف خود کو ممکنہ جنگی اثرات سے محفوظ رکھ سکتا ہے بلکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم کردار بھی ادا کر سکتا ہے بصورت دیگر اگر سفارتکاری صرف بیانات تک محدود رہی تو جنگ کے اثرات سرحدوں سے آگے بڑھ کر ملک کے اندر تک محسوس کیے جا سکتے ہیں پاکستان کے لیے اب فیصلہ کن وقت آ چکا ہے کیا وہ حالات کا محض تماشائی بن کر رہے گا یا ایک فعال اور بااثر کردار ادا کرتے ہوئے خطے میں امن کے لیے آگے بڑھے گا یہی فیصلہ آنے والے دنوں میں پاکستان کی سفارتکاری کی سمت اور اہمیت کا تعین کرے گا

بارود کے سائے میں پاکستان کا فیصلہ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us