Banner

بلوچ پشتون اتحاد تاریخ، بصیرت اور عصرِ حاضر کے تقاضے

featured
Share

Share This Post

or copy the link

رپورٹ ۔اے کے میڈیاء ٹیم

بلوچ پشتون اتحاد تاریخ، بصیرت اور عصرِ حاضر کے تقاضے۔

محترم قارئین! پشتون بیلٹ کی ممتاز علمی و سیاسی شخصیت، عصرِ حاضر میں فکرِ نو اور انسانی ہمدردی کے معتبر مثال، غیبی زئی قوم کے سربراہ، چیئرمین ۔احمد خان ایجوکیشن سسٹم، بانی( کاکا شہیدؒ) فاؤنڈیشن، عالمی مشاہد اور شہرہ آفاق تصنیف( دی گریٹ گیم کا خاتمہ) کے مصنف احمد خان اچکزئی کی شخصیت امن ۔علم، قلم اور قبائلی دانش کا ایک نادر بنیاد و مثال ہے۔ جس نے پسماندہ علاقوں میں تعلیمی انقلاب کی بنیاد رکھی، وہیں اپنے عظیم والد کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے انسانی ہمدردی اور قبائلی تنازعات کے پرامن تصفیے کے لیے خود کو وقف کر رکھا ہے۔ آپ محض ایک قبائلی سردار نہیں بلکہ بلوچ اور پشتون اتحاد کے وہ مخلص علمبردار ہیں جن کے مثبت تجزیے سوچ فکر و دانش قلم معاشرتی اصلاح اور کچلے ہوئے طبقات کی توانا آواز ہے۔ اسی فکرِ اتحاد کی کڑی کے طور پر حال ہی میں گلستان کی سرزمین پر ایک اہم قبائلی و سیاسی نشست کا انعقاد ہوا، جہاں غیبی زئی قوم کے سربراہ احمد خان اچکزئی کی جانب سے نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر احمد محمد شہی، سردار بابر خان موسیٰ خیل اور سردار شہزاد ترین کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا۔ اس موقع پر سید حسین شاہ، حاجی حسن جان محمد شہی، ملک طاہر آغا، حاجی گل خان غیبی زئی ، حاجی عمر خان غیبی زئی، میر عطاء الرحمن محمد شہی، ملک مقبول محمد شہی، سید عاصم شاہ، فضل الرحمن محمد شہی اور دیگر عمائدین کی موجودگی میں بلوچستان کے سیاسی و قبائلی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ رہنماؤں نے اس امر پر مکمل اتفاق کیا کہ بلوچستان کے دیرینہ مسائل کا حل بلوچ اور پشتون اکابرین کے مابین اشتراکِ عمل اور باہمی تعاون میں پوشیدہ ہے، کیونکہ اتحاد ہی وہ واحد راستہ ہے جو اس خطے کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔ اسی تناظر میں ہمیں ان سازشوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے جو ہمارے بھائی چارے کو سبوتاژ کرنے کے لیے رچائی جاتی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل قومی اسمبلی میں ایک شرارتی بوڑھے نے بلا ضرورت یہ اعلان کیا کہ “کوئٹہ پشتونوں کا ہے”، یہ غیر ذمہ دارانہ بیان مجھے گاؤں کے اس شیطان صفت بوڑھے کی یاد دلاتا ہے جو بچوں کو بہلا پھسلا کر آپس میں لڑا دیتا ہے تاکہ ان کی پُرامن دنیا میں اپنی ‘آسیبی چال’ سے گروہ بندی پیدا کر سکے۔ اس چال کو ان پراکسیز کے تناظر میں دیکھنا چاہیے جن کا مقصد بلوچستان کو خانہ جنگی میں دھکیلنا ہے تاکہ بلوچ اور پشتون دست و گریبان ہو کر اتنے کمزور ہو جائیں کہ کوئی تیسری قوت ہم پر حکمرانی کر سکے۔ تاریخ ہمیں سبق دیتی ہے کہ 2 اپریل 1979 کو جب راولپنڈی میں پشتونوں کا جرگہ ہوا اور جنرل ضیاء الحق نے الگ صوبے کے مطالبے کی ترغیب دی، تو میرے والد صاحب (کاکا شہیدؒ) نے اس کی بھرپور مخالفت کی تھی۔ ان کا موقف دو ٹوک تھا کہ ایسے مطالبات بلوچوں اور پشتونوں کے درمیان صرف دوریاں پیدا کریں گے۔ انہوں نے خان عبدالولی خان کے اس اندیشے کا بھی ذکر کیا تھا کہ تنازع کی صورت میں تصفیہ ہی بہترین راستہ ہے۔ چنانچہ اس وقت کے اکابرین نے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے الگ صوبے کا مطالبہ ترک کر کے تعلیم اور روزگار پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے مثبت اثرات مرتب ہوئے۔ حقیقت یہی ہے کہ پشتون اور بلوچ صدیوں سے اس سرزمین پر اخوت، رواداری اور قریبی رشتہ داریوں کے ساتھ آباد ہیں۔ ہمیں آج پھر اسی جذبے کی ضرورت ہے تاکہ دشمن کی ہر چال کو ناکام بنا کر ایک مستحکم اور متحد بلوچستان کی بنیاد رکھی جا سکے۔ کوئٹہ صرف کسی ایک کا نہیں بلکہ ہم سب کا مشترکہ گھر ہے اور اس کی بقاء ہمارے فولادی اتحاد میں ہے۔

بلوچ پشتون اتحاد تاریخ، بصیرت اور عصرِ حاضر کے تقاضے

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us