Banner

فکرِ احمد خان اچکزئی

featured
Share

Share This Post

or copy the link

تحریر اے کے میڈیا ٹیم پاکستان
فکرِ احمد خان اچکزئی

محترم قارئین! وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی تاریخ کے اوراق کو جذباتیت کی سیاہی کے بجائے بصیرت کے نور سے روشن کریں۔ پشتون قوم، جو اپنی شجاعت اور غیرت میں بے مثال رہی، آج مصنوعی سیاست اور مفاد پرست عناصر کی بچھائی ہوئی جالِ جہالت اور تعصب کے بھنور میں پھنسی ہوئی ہے۔ فکرِ احمد خان اچکزئی کا پہلا اور بنیادی مقصد اس مصنوعی قوم پرستی کا خاتمہ کرنا ہے جس نے پشتون قوم کو دیگر اقوام سے جدا کر کے نفرتوں کے زندان میں دھکیل دیا ہے۔ ہمیں ہر صورت اس داغ کو کسی سطحی نعرے سے نہیں، بلکہ علم، تعلیم اور ہنر کے شفاف پانی سے دھونا ہے۔ کلاشنکوف کلچر اور ان مصنوعی کمانڈروں کا راج، جنہوں نے پشتون نسلوں کے ہاتھوں سے کتاب چھین کر بارود تھما دیا، اب اپنے انجام کو پہنچنا چاہیے۔ اب وقت ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کے ہاتھ میں قلم دیں، کیونکہ قلم کی جنبش سے جو انقلاب آتا ہے وہ پائیدار بھی ہے اور مقدس بھی۔ فکرِ احمد خان اچکزئی کا دوسرا بڑا ہدف ان قبائلی رنجشوں اور صدیوں پرانی دشمنیوں کا خاتمہ ہے جو پشتون قوم کے وجود کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔ یہ فکر پکار پکار کر کہتی ہے کہ ان خونی دشمنیوں کو بھائی چارگی اور دوستی میں بدلنا ہی ہماری بقاء کا واحد راستہ ہے۔ ہمیں ایک ایسی فضاء قائم کرنی ہے جہاں انتقام کی جگہ عفو و درگزر اور نفرت کی جگہ محبت کا راج ہو۔ فکرِ احمد خان. اچکزئی صرف پشتون بیلٹ تک محدود نہیں، بلکہ اس پورے خطے میں انسانیت کے خلاف ہونے والے ہر جبر اور ظلم کے خلاف ایک توانا آواز بننا ہے۔ انسانیت کا درد کسی نسل یا زبان کا محتاج نہیں ہوتا، ہمیں اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنا ہے جو انسان کو انسان کے خلاف کھڑا کرتا ہے۔ علم کی شمع روشن کرنا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور غریب و بے کس طبقے کے ساتھ ہمدردی کا رویہ اختیار کرنا ہی وہ حقیقی “پشتون ولی” ہے جس کا درس ہمارے اسلاف نے دیا تھا۔ ہمدردی اور نیکی کا یہ سفر کسی سیاسی لالچ یا دنیاوی مفاد کے لیے نہیں، بلکہ خالصتاً انسانی بنیادوں پر محیط ہے۔ فکرِ احمد خان اچکزئی کا ایک اہم ہدف ہے کہ کراچی، سندھ یا لاہور میں پشتونوں کے خلاف پیدا ہونے والے مسائل کا حل دیواروں پر چاکنگ کرنے یا نفرت انگیز نعروں میں نہیں، بلکہ بین الاقوامی اور بین الصوبائی ہم آہنگی میں پوشیدہ ہے۔ پشتون مشران پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بلوچ، سندھی، پنجابی، سرائیکی اور ہزارہ برادری کے اکابرین کے ساتھ اپنے مراسم کو وسعت دیں۔ دشمنیاں جنگ سے نہیں، بلکہ مکالمے اور باہمی احترام سے ختم ہوتی ہیں۔ جب مشران کے درمیان دلوں کے راستے کھلیں گے تو عوام کے درمیان حائل دیواریں خود بخود گر جائیں گی۔ روزِ اول سے اسی عزم اور فکر پر قائم رہتے ہوئے فکرِ احمد خان اچکزئی کے دروازے صرف پشتونوں کے لیے نہیں، بلکہ ہر اس انسان کے لیے دن رات کھلے ہیں جو امن اور ترقی کا خواہاں ہے۔ اس فکر میں یہ عہد شامل ہے کہ جب تک دم میں دم ہے، بلا تفریقِ رنگ و نسل اور بلا کسی لالچ کے انسانیت کی خدمت ہمارا شعار رہے گی۔ ہماری طاقت اتحاد میں ہے، اور ہمارا مستقبل ایک تعلیم یافتہ، ہنرمند اور پرامن معاشرے کی تشکیل میں پوشیدہ ہے۔ آئیے، ہم مل کر ایک ایسی صبح کا استقبال کریں جہاں بندوق خاموش ہو اور قلم کی روشنی ہر گھر کو منور کر دے۔

فکرِ احمد خان اچکزئی

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us