Banner

ہُرمُز کی ہلاکت سے عالمی آثارِ کفر کے سحر تک۔

featured
Share

Share This Post

or copy the link

محمدنسیم رنزوریار

ہُرمُز کی ہلاکت سے عالمی آثارِ کفر کے سحر تک۔

قارئین کرام! تاریخِ عالم گواہ ہے کہ حق اور باطل کی جنگ ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گی، جس میں ایک طرف اللہ کے سپاہی توحید کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں اور دوسری طرف باطل قوتیں اپنے مادی وسائل، تکبر اور فنِ تعمیر کے شاہکاروں کے ذریعے انسانیت کو مرعوب کرنے کی کوشش کرتی آئی ہیں۔ جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو “ہرمز” نامی کردار نمایاں ہوتا ہے جو ساسانی سلطنت کا ایک انتہائی مغرور اور ظالم گورنر تھا، جس کی ہلاکت کی داستان جرات و بہادری کا استعارہ ہے۔ بعض روایات اور تاریخی کتب میں ہرمز کا ذکر خالد بن ولیدؓ کے ہاتھوں جنگِ سلاسل (Battle of Chains) میں ملتا ہے، جہاں اس مغرور جرنیل نے اپنی فوج کو زنجیروں سے باندھ رکھا تھا تاکہ وہ فرار نہ ہو سکیں، لیکن اللہ کے شیروں کے سامنے اس کی تمام مادی تدبیریں خاک میں مل گئیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شجاعت کے حوالے سے بھی ایسے کئی معرکے تاریخ کا حصہ ہیں جہاں آپ نے بڑے بڑے سورماؤں اور کفر کے ستونوں کو پاش پاش کیا، کیونکہ اس عہد میں ہرمز جیسے القابات فارسی امراء کے لیے عام تھے جو اپنی خدائی کا دعویٰ کرتے اور عوام کو غلام بنائے رکھتے تھے۔ ہرمز کی ہلاکت محض ایک فرد کا خاتمہ نہیں تھا بلکہ یہ اس نظامِ کفر کا خاتمہ تھا جو انسان کو انسان کی بندگی پر مجبور کرتا تھا۔عالمِ اسلام کے قلب، یعنی سعودی عرب، عراق، اور پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک میں آج بھی ایسے کئی آثار اور تعمیرات موجود ہیں جو ماضی میں کفار، یہود یا مشرکین کی شوکت کا نشان رہے ہیں۔ سعودی عرب میں “مدائن صالح” (الھجر) کے آثار قومِ ثمود کی سرکشی اور ان کی فنِ تعمیر میں مہارت کی گواہی دیتے ہیں، جہاں پہاڑوں کو تراش کر بنائے گئے عظیم الشان محلات آج بھی انسانی آنکھ کو خیرہ کرتے ہیں، لیکن اسلامی عقیدہ ہمیں بتاتا ہے کہ یہ مقامات عبرت کے لیے ہیں نہ کہ سیاحت و تفریح کے لیے، کیونکہ یہاں اللہ کا عذاب نازل ہوا تھا۔ اسی طرح عراق کی سر زمین بابل و نینوا کے آثار سے بھری پڑی ہے جہاں نمرود جیسے ظالموں نے ایسے مینار اور قلعے تعمیر کیے تھے جو آسمانوں کو چھونے کی کوشش کرتے تھے، اور ان تعمیرات کو آج بھی تاریخ دان کفار کی عظمتِ رفتہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ پاکستان میں موہنجوداڑو، ہڑپہ اور ٹیکسلا کے آثار بدھ مت اور ہندو تہذیب کے عروج کی داستانیں سناتے ہیں، جو کہ درحقیقت اس دور کے کفر و شرک کے مراکز تھے۔ یہ تعمیرات محض اینٹ پتھر کا ڈھیر نہیں ہیں بلکہ یہ اس ذہنی سازش کا حصہ ہیں جو آج بھی “ورلڈ ہیریٹیج” کے نام پر مسلمانوں کے دلوں میں ان باطل تہذیبوں کی عظمت بٹھانے کی کوشش کرتی ہے۔مغرب اور عالمی طاقتوں کی یہ ایک گہری سازش رہی ہے کہ وہ دنیا بھر کے جزیروں اور ممالک میں اپنی تعمیرات کو ایسے ناموں سے منسوب کریں جو کفر کی بالادستی کو ظاہر کریں۔ مثال کے طور پر “اسٹیچو آف لبرٹی” یا یورپ کے قدیم گوتھک گرجا گھر اور میسنک (Masonic) فنِ تعمیر پر مبنی عمارتیں محض فن پارے نہیں بلکہ ان میں مخصوص علامات چھپی ہوتی ہیں جو دجالی فتنے اور صیہونی سازشوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان تعمیرات کے ذریعے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ دنیا کی باگ ڈور ہمیشہ سے ان طاقتوں کے ہاتھ میں رہی ہے، حالانکہ قرآنِ کریم واضح طور پر فرماتا ہے کہ فرعون، ہامان اور قارون جیسے کرداروں نے بھی زمین پر سرکشی کی اور اپنی بلند و بالا عمارات پر ناز کیا، لیکن جب اللہ کی پکڑ آئی تو ان کا نام و نشان مٹ گیا۔ آج بھی مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک میں جدید تعمیرات کے نام پر ایسی علامات (Obelisks) کھڑی کی جا رہی ہیں جو قدیم مشرکانہ مذاہب اور شیطانی نظریات سے منسوب ہیں، اور یہ سب کچھ ایک عالمی ایجنڈے کے تحت ہو رہا ہے تاکہ مسلم معاشروں سے اسلامی تشخص کو ختم کر کے انہیں عالمی کفر کے رنگ میں رنگا جا سکے۔کفار کی ان سازشوں کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ تاریخی مقامات کی کھدائی اور تحفظ کے نام پر مسلمانوں کو ان کی اصل بنیادوں سے دور کرنا چاہتے ہیں۔ جب ایک مسلمان اپنے ملک میں کسی عظیم الشان قدیم مندر یا مشرکانہ یادگار کو دیکھتا ہے اور اسے “قومی اثاثہ” قرار دیا جاتا ہے، تو غیر محسوس طریقے سے اس کے عقیدہ توحید کی وہ شدت کم ہونے لگتی ہے جو کفر سے بیزاری کا تقاضا کرتی ہے۔ ہرمز جیسے کرداروں کو شکست دینے والے صحابہ کرامؓ کا جذبہ یہ تھا کہ وہ ہر اس بت کو گرا دینا چاہتے تھے جو اللہ کی بندگی میں حائل ہو، خواہ وہ مٹی کا بت ہو یا پتھر کی کوئی عظیم الشان عمارت۔ آج کے دور میں یہ “بت” نظریاتی اور ثقافتی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ دنیا بھر کے جزائر، جی…

ہُرمُز کی ہلاکت سے عالمی آثارِ کفر کے سحر تک۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us