Banner
Daily Sahafat Quetta
July 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
موسیٰ خیل: 4 کلومیٹر سڑک کی تعمیر و مرمت کا 5.97 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئےموسیٰ خیل: 4 کلومیٹر سڑک کی تعمیر و مرمت کا 5.97 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئے

نائن الیون کے بعد خطے کی یلغار اور معاشرتی شکست

نائن الیون کے بعد خطے کی یلغار اور معاشرتی شکست
محمدنسیم رنزوریار

قارئین! نائن الیون کے بعد جب امریکی قدم افغانستان کی سرزمین پر پڑے تو یہ محض ایک عسکری مداخلت نہیں تھی بلکہ ایک ہمہ گیر تہذیبی اور فکری یلغار تھی جس نے پاک افغان خطے کے صدیوں پرانے سماجی ڈھانچے کو جڑوں سے ہلا کر رکھ دیا۔ ڈالر کی ریل پیل نے جہاں معیشت کے نئے دریچے کھولے وہیں ضمیروں کی خرید و فروخت کا ایک ایسا بازار گرم کیا جس میں قلم کاروں نے حقائق کو مسخ کر کے بیرونی ایجنڈے کو روشن خیالی کا نام دے کر پیش کیا۔ اس دور میں تصنیف و تالیف کا مقصد سچ کی تلاش کے بجائے غیر ملکی آقاؤں کی خوشنودی قرار پایا جس سے فکری گراوٹ کا وہ سلسلہ شروع ہوا جس نے نئی نسل کو اپنے ہی اسلاف کی اقدار سے بیگانہ کر دیا۔ تجارتی سطح پر لاجسٹک اور ٹرانسپورٹ کی صنعت کو وقتی عروج تو ملا لیکن اس نے مقامی معیشت کو بیرونی امداد کا ایسا بیساکھی بنا دیا جس نے خود انحصاری کا تصور ہی ختم کر دیا۔ تعلیمی نصاب میں خاموش تبدیلیاں لائی گئیں تاکہ جہاد اور غیرت ایمانی کے تصورات کو نکال کر ایک ایسا اذہان سازی کا نظام رائج کیا جائے جو مغرب کے فکری غلبے کو تسلیم کر سکے۔اس نظریاتی تبدیلی کے اثرات معاشرتی رویوں پر انتہائی تلخ ثابت ہوئے جہاں آزادی کے نام پر بے پردگی اور حیا سوزی کو فروغ ملا جس سے خاندانی نظام کی وحدت پاش پاش ہو گئی۔ عقائد کی سطح پر ایسی گمراہ کن تعبیرات متعارف کرائی گئیں جنہوں نے عام آدمی کو حق اور سچ کی تمیز سے محروم کر دیا اور معاشرہ مادہ پرستی کی اس دلدل میں دھنس گیا جہاں انسانی جان کی قیمت ڈالر کے ترازو میں تولی جانے لگی۔ امریکہ نے ان تبدیلیوں کو پائیدار بنانے کے لیے ایک ایسا طبقہ پیدا کیا جو ذہنی طور پر ان کا غلام تھا اور اپنی ہی ملت کے خلاف ان کے مفادات کا محافظ بن کر کھڑا ہو گیا۔ یہ طبقہ میڈیاء، سیاست اور سماجی تنظیموں کے ذریعے رات دن اس پروپیگنڈے میں مصروف رہا کہ غیر ملکی مداخلت ہی اس خطے کی بقاء کا واحد راستہ ہے، حالانکہ اس عمل میں قبائلی روایات کا جنازہ نکل گیا اور سیاسی استحکام کی جگہ دائمی انتشار نے لے لی۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس دور میں ہونے والی تبدیلیاں کوئی فطری ارتقاء نہیں تھیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت انسانی رویوں کو مسخ کرنے کی کوشش تھی جس کے زخم آج بھی اس خطے کے جسم پر تازہ ہیں۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *