Banner

سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک

featured
Share

Share This Post

or copy the link

سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک

تحریر، ازڈاکٹرفریداحمد پراچہ

عزم، کردار اور جدوجہد کی درخشاں داستان

”سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک” محترم عبدالغفور چوہدری کی خود نوشت سوانح عمری ہے، جو محض ایک فرد کی زندگی کا بیان نہیں بلکہ عزم، محنت، دیانت اور اصول پسندی کی ایسی روشن مثال ہے جو قاری کے اندر ایک نئی روح پھونک دیتی ہے۔ یہ کتاب دراصل ایک ایسے انسان کی کہانی ہے جس نے نامساعد حالات کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ اپنی طاقت بنایا اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے اپنے لیے کامیابی کی نئی راہیں ہموار کیں۔

عبدالغفور چوہدری صاحب کا تعلق ضلع قصور کے ایک دور افتادہ گاؤں ”کوٹ آرائیاں والا” سے ہے۔ ایک ایسے ماحول میں آنکھ کھولنا جہاں بنیادی سہولیات بھی ناپید ہوں، اور پھر وہاں سے اٹھ کر اعلیٰ انتظامی عہدوں تک پہنچنا، بذاتِ خود ایک غیر معمولی کارنامہ ہے۔ وہ ایک محنت کش گھرانے میں پیدا ہوئے اور اپنے خاندان میں تعلیم حاصل کرنے والے پہلے فرد بنے۔ یہ حقیقت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ ان کی کامیابی صرف ذاتی نہیں بلکہ ایک سماجی انقلاب کی نمائندہ بھی ہے۔

کتاب کے ابتدائی ابواب میں مصنف نے اپنے بچپن کی زندگی نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں بیان کی ہے۔ چھ چھ کلو میٹر پیدل چل کر تعلیم حاصل کرنا، وسائل کی کمی کے باوجود علم کی پیاس بجھانے کا عزم، اور مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا—یہ تمام عناصر قاری کو نہ صرف متاثر کرتے ہیں بلکہ اس کے اندر بھی ایک نئی امنگ پیدا کرتے ہیں۔ آج کے دور میں جب نوجوان معمولی رکاوٹوں سے گھبرا جاتے ہیں، یہ واقعات ان کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

زندگی کے ایک اہم موڑ پر ایک مقدمے کی وجہ سے انہیں فوج میں جانا پڑا۔ بظاہر یہ ایک مجبوری تھی، مگر انہوں نے اسے اپنی تقدیر کا موڑ بنا دیا۔ بطور سپاہی فوج میں شمولیت اختیار کرنا اور وہاں سے ترقی کرتے ہوئے تعلیمی شعبے میں انسٹرکٹر بننا اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر انسان میں لگن ہو تو کوئی بھی میدان اس کے لیے محدود نہیں رہتا۔ انہوں نے دورانِ ملازمت اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا، جو ان کی علمی پیاس اور خودسازی کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔

فوج میں خدمات انجام دیتے ہوئے انہوں نے مقابلے کے امتحان کی تیاری کا آغاز کیا۔ یہ مرحلہ ان کی زندگی کا سب سے کٹھن مگر فیصلہ کن مرحلہ تھا۔ وسائل کی کمی، وقت کی قلت، اور دیگر مشکلات کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور بالآخر کامیابی حاصل کر کے سول سروس میں شامل ہو گئے۔ اسسٹنٹ کمشنر سے لے کر ڈپٹی کمشنر کے عہدے تک پہنچنے کا سفر کسی خواب سے کم نہیں، مگر اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیے جو قربانیاں انہوں نے دیں، وہ اس کتاب کا اصل حسن ہیں۔

کتاب کا سب سے نمایاں پہلو مصنف کی اصول پسندی اور دیانت داری ہے۔ انہوں نے اپنی ملازمت کے دوران کبھی کسی سیاسی دباؤ کو قبول نہیں کیا۔ نہ کسی ایم این اے، نہ ایم پی اے، نہ کسی وزیر یا حکومتی شخصیت کے سامنے جھکے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ سرکاری ملازمت میں رہتے ہوئے بھی اصولوں پر قائم رہا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں بار بار تبادلوں کا سامنا کرنا پڑا، انہیں اذیتیں دی گئیں، حتیٰ کہ نیب کے کیسز میں بھی گھسیٹا گیا، مگر انہوں نے کبھی اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔

یہ پہلو اس کتاب کو محض ایک سوانح عمری نہیں بلکہ ایک اخلاقی دستاویز بنا دیتا ہے۔ آج کے دور میں جب کرپشن اور مفاد پرستی عام ہو چکی ہے، عبدالغفور چوہدری صاحب کی یہ داستان ایک امید کی کرن ہے کہ ایمانداری اور اصول پسندی اب بھی زندہ ہے اور کامیابی کی ضمانت بھی بن سکتی ہے۔

کتاب میں شامل واقعات نہایت دلچسپ اور سبق آموز ہیں۔ اگرچہ مصنف نے بعض مقامات پر تفصیل سے واقعات بیان کیے ہیں، جو بعض قارئین کے لیے طویل محسوس ہو سکتے ہیں، مگر یہی تفصیل اس کتاب کو ایک مستند تاریخی دستاویز بھی بناتی ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے اتنے واقعات کو اس قدر باریکی سے کیسے محفوظ رکھا۔ یہ ان کی غیر معمولی یادداشت اور تحریری مہارت کا ثبوت ہے۔

کتاب کا آخری حصہ خاص طور پر نوجوانوں کے لیے نہایت اہم ہے، جہاں مصنف نے مقابلے کے امتحان کی تیاری کے حوالے سے اپنی رہنمائی پیش کی ہے۔ یہ حصہ دراصل اس کتاب کو ایک عملی گائیڈ بک بنا دیتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے تجربات بیان کیے بلکہ ایک واضح لائحہ عمل بھی دیا ہے کہ کس طرح ایک عام نوجوان محنت، نظم و ضبط اور مستقل مزاجی کے ذریعے اعلیٰ مقاصد حاصل کر سکتا ہے۔

یہ کتاب ان نوجوانوں کے لیے ایک نعمت ہے جو مایوسی کا شکار ہیں، جو اپنے حالات سے تنگ آ کر خودکشی جیسے انتہائی اقدامات کی طرف مائل ہو جاتے ہیں، یا جو ملک چھوڑنے کو ہی واحد حل سمجھتے ہیں۔ ”سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک” ان سب کو یہ پیغام دیتی ہے کہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، اگر انسان ہمت نہ ہارے تو کامیابی اس کا مقدر بن سکتی ہے۔

مصنف کی شخصیت کے ساتھ ساتھ اس کتاب کے پبلشر، علامہ عبدالستار عاصم اور ان کا ادارہ ”قلم فاؤنڈیشن” بھی قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے نہ صرف اس اہم کتاب کو شائع کیا بلکہ ایک ایسے پیغام کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کیا جو معاشرے کی اصلاح میں اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ قلم فاؤنڈیشن ہمیشہ سے معیاری اور بامقصد کتب کی اشاعت میں پیش پیش رہا ہے، اور یہ کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک درخشاں کڑی ہے۔

علامہ عبدالستار عاصم کی علمی و ادبی خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ انہوں نے نہ صرف ایک بہترین ناشر کے طور پر اپنی پہچان بنائی بلکہ ایسے موضوعات کو فروغ دیا جو معاشرتی بہتری اور فکری ارتقاء میں مددگار ہیں۔ ”سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک” جیسی کتاب کی اشاعت ان کے وژن اور ادبی ذوق کی عکاس ہے۔

مجموعی طور پر یہ کتاب ایک مکمل پیکج ہے—اس میں کہانی بھی ہے، سبق بھی، رہنمائی بھی اور حوصلہ افزائی بھی۔ یہ ایک ایسی داستان ہے جو قاری کو ابتدا سے آخر تک اپنے ساتھ باندھے رکھتی ہے اور ہر صفحے پر ایک نیا سبق دیتی ہے۔ عبدالغفور چوہدری صاحب نے اپنی زندگی کے تجربات کو جس سادگی، خلوص اور دیانت داری کے ساتھ بیان کیا ہے، وہ قابلِ داد ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ”سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک” صرف ایک کتاب نہیں بلکہ ایک تحریک ہے—ایک دعوت ہے کہ ہم اپنے حالات کا رونا رونے کے بجائے ان کا مقابلہ کریں، اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے جدوجہد کریں۔ یہ کتاب ہر نوجوان، ہر طالب علم، اور ہر اس شخص کے لیے لازمی مطالعہ ہے جو اپنی زندگی میں کچھ بڑا کرنا چاہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ عبدالغفور چوہدری صاحب کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنائے۔ آمین۔

سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us