Banner

مفاد کی جنگ اور دھوکے کی سیاست

featured
Share

Share This Post

or copy the link

محمدنسیم رنزوریار

مفاد کی جنگ اور دھوکے کی سیاست

قارئین کرام ۔پاکستان کے سیاسی افق پر نظر دوڑائی جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ یہاں سیاست خدمتِ خلق کا ذریعہ نہیں بلکہ ذاتی مفادات کے تحفظ اور ہوسِ اقتدار کی تسکین کا ایک منافع بخش کاروبار بن چکی ہے۔ وفاقی دارالحکومت سے لے کر صوبوں کی گلیوں تک، اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے عوامی نمائندے ایک ایسی شطرنج کی بساط بچھائے ہوئے ہیں جہاں مہرے تو عوام ہیں، لیکن جیت ہمیشہ اشرافیہ کی ہوتی ہے۔ ہمارے پارلیمانی نظام میں ایم این اے (MNA) اور ایم پی اے (MPA) کا منصب ایک مقدس امانت ہونے کے بجائے مراعات حاصل کرنے کا لائسنس بن گیا ہے۔ ہر پانچ سال بعد ایک ہی ڈرامہ نئے کرداروں کے ساتھ دہرایا جاتا ہے، جہاں بلند بانگ دعوے، سبز باغ اور جذباتی نعروں کے ذریعے غریب عوام کے ووٹوں کی نیلامی ہوتی ہے، اور اقتدار ملتے ہی وہ خادمِ اعلیٰ اپنے ہی ووٹرز کے لیے ایک ناقابلِ رسائی شخصیت بن جاتے ہیں۔مرکزی اور صوبائی سطح پر فنڈز کے نام پر جو تماشا لگایا جاتا ہے، وہ کرپشن کی ایک ایسی داستان ہے جس کا کوئی سرا نہیں ملتا۔ ہر حلقے کے لیے مختص کروڑوں، اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز کاغذات کی حد تک تو سڑکوں، سکولوں اور ہسپتالوں پر خرچ ہوتے دکھائی دیتے ہیں، مگر زمین پر ان کا وجود محض ناقص میٹریل اور ادھورے منصوبوں کی صورت میں نظر آتا ہے۔ یہ فنڈز درحقیقت سیاسی وفاداریاں خریدنے اور اپنے منظورِ نظر ٹھیکیداروں کو نوازنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جس کا ایک بڑا حصہ کمیشن کی صورت میں دوبارہ انہی نمائندوں کی تجوریوں میں چلا جاتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب، عام آدمی بنیادی ضروریاتِ زندگی، جیسے صاف پانی، علاج اور معیاری تعلیم کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے۔
ان عوامی نمائندوں کو حاصل مراعات اور ان کے پرتعیش طرزِ زندگی کا موازنہ اگر ایک غریب مزدور کی حالتِ زار سے کیا جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ایک طرف وہ طبقہ ہے جو مفت بجلی، بھاری تنخواہیں، پروٹوکول کی لمبی قطاریں، بیرونِ ملک علاج اور سرکاری رہائش گاہوں کے مزے لوٹ رہا ہے، اور دوسری طرف وہ کسان اور دیہاڑی دار طبقہ ہے جو مہنگائی کے طوفان میں اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی پورا کرنے سے قاصر ہے۔ یہ تضاد پاکستانی سیاست کا وہ بدنما داغ ہے جسے جمہوریت کے لبادے میں چھپانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔ اسمبلیوں کے اندر بیٹھ کر قانون سازی کے بجائے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا اور ذاتی حملے کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ بن چکا ہے، جبکہ عوام کی فلاح و بہبود سے متعلق بل برسوں تک گرد چاٹتے رہتے ہیں۔دھوکے کی اس سیاست میں سب سے بڑا ہتھیار عوامی لاعلمی کو بنایا جاتا ہے۔ غربت اور جہالت کے پسِ پردہ ان نمائندوں نے اپنے حلقوں میں ایک ایسا جاگیردارانہ اور وڈیرانہ نظام قائم کر رکھا ہے جہاں سوال کرنا گناہ سمجھا جاتا ہے۔ پانچ سال تک غریب عوام کی حالتِ زار سے بے خبر رہنے والے یہ سیاستدان عین انتخابات کے قریب دوبارہ نمودار ہوتے ہیں، تھوڑی سی خیرات اور جھوٹی ہمدردی کا لیپ کر کے دوبارہ پانچ سال کا پروانہ حاصل کر لیتے ہیں۔ یہ مفاد کی جنگ اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں نظریہ نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی، پارٹیاں بدلنا اور وفاداریاں بیچنا ایک معمول بن گیا ہے، جس کا واحد مقصد صرف اور صرف اقتدار کے دسترخوان تک رسائی حاصل کرنا ہے۔ جب تک ریاست کے ستون اور عوام خود اس مفاداتی سیاست کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے، یہ نظام اسی طرح غریب کا خون چوستا رہے گا۔ ہمیں ایک ایسے سیاسی کلچر کی ضرورت ہے جہاں احتساب صرف کاغذوں میں نہ ہو بلکہ عملی طور پر ہر ایم این اے اور ایم پی اے اپنے فنڈز کے ایک ایک روپے کا جوابدہ ہو، اور جہاں سیاست کا محور ذاتی مفاد کے بجائے قومی بقا ہو۔

مفاد کی جنگ اور دھوکے کی سیاست

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us