Banner
Daily Sahafat Quetta
October 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
انصاف لائرز فورم آئین کی بالادستی کےلئے جدوجہد جاری رکھے گا، عبدالحکیم زرینذوق، شوق اور تجسس زندگی کے تین چراغعبیرہ ضیاء نے پیرس میں گلوبل یوتھ فیسٹیول 2026 میں پاکستان کی نمائندگی کیINVITATION FOR BIDS: DAB/AB NO.491/30-10-2026گھر گرانے کے نوٹس کے بعد گارڈ روم مسمار کرنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں، کامران مرتضیٰکوئٹہ پولیس نے کم عمر لڑکوں کو بلیک میل کرنے والے 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا31 اکتوبر کو سریاب میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوگی، جمعیت علماء اسلاماسلام کے عادلانہ نظام کا نفاذ قومی و عالمی چیلنجز کا حل ہے، مولانا عبدالقادر لونیجمعیت علماء اسلام نظریاتی کے اختر آباد، بروری زون کے تنظیمی انتخابات مکملپولیو ویکسینیشن مہم میں بھرپور شرکت کی اپیل، صحت مند بچے اور محفوظ مستقبل ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، صفدر خان باغیانصاف لائرز فورم آئین کی بالادستی کےلئے جدوجہد جاری رکھے گا، عبدالحکیم زرینذوق، شوق اور تجسس زندگی کے تین چراغعبیرہ ضیاء نے پیرس میں گلوبل یوتھ فیسٹیول 2026 میں پاکستان کی نمائندگی کیINVITATION FOR BIDS: DAB/AB NO.491/30-10-2026گھر گرانے کے نوٹس کے بعد گارڈ روم مسمار کرنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں، کامران مرتضیٰکوئٹہ پولیس نے کم عمر لڑکوں کو بلیک میل کرنے والے 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا31 اکتوبر کو سریاب میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوگی، جمعیت علماء اسلاماسلام کے عادلانہ نظام کا نفاذ قومی و عالمی چیلنجز کا حل ہے، مولانا عبدالقادر لونیجمعیت علماء اسلام نظریاتی کے اختر آباد، بروری زون کے تنظیمی انتخابات مکملپولیو ویکسینیشن مہم میں بھرپور شرکت کی اپیل، صحت مند بچے اور محفوظ مستقبل ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، صفدر خان باغی

کیا اعتکاف کے دوران ضرورت کے تحت باہر نکلا جاسکتا ہے؟

مسنون اعتکاف کے دوران بغیر شرعی یا طبعی ضرورت کے مسجد سے باہر نکلنا جائز نہیں اور ایسا کرنے سے اعتکاف فاسد ہو جاتا ہے۔

دلیل کے طور پر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ اعتکاف کرتے تھے تو مسجد میں رہتے اور اپنا سر مبارک حجرے میں کرتے تھے، لیکن بغیر حاجت کے مسجد سے باہر نہیں نکلتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ﷺ کے سر مبارک دھو کر کنگھی کرتی تھیں، مگر حضور ﷺ صرف انسانی حاجت (قضائے حاجت) کی ضرورت کے تحت ہی مسجد سے باہر جاتے تھے (صحیح بخاری و صحیح مسلم)۔

سنن ابی داؤد اور دیگر کتبِ ستہ میں بھی یہ روایت ہے کہ معتکف نہ بیمار کی عیادت کرے، نہ جنازے میں جائے، نہ بیوی سے شہوت کے تعلقات کرے اور شدید ضروری تقاضوں کے بغیر اپنی جگہ سے باہر نہ نکلے۔

اگر معتکف بغیر ضرورت کے باہر نکل جائے تو اس کا اعتکاف فاسد ہو جائے گا، اور اس کی قضا کرنا ضروری ہوگی۔ قضا اعتکاف کا طریقہ یہ ہے کہ مغرب سے پہلے مسجد میں داخل ہو کر اگلے دن مغرب تک مسجد میں رہے اور ساتھ روزہ بھی رکھے۔ رمضان کے دنوں میں اگر اعتکاف فاسد ہو جائے تو اسی رمضان میں قضا کرنا ضروری ہے۔

حاصلِ کلام: مسنون اعتکاف کے دوران صرف طبعی یا شرعی ضرورت کے لیے ہی مسجد سے باہر نکلنا جائز ہے، ورنہ اعتکاف فاسد ہوگا اور اس کی قضا کرنا ہوگی۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *