Banner

کیا اعتکاف کے دوران ضرورت کے تحت باہر نکلا جاسکتا ہے؟

featured
Share

Share This Post

or copy the link

مسنون اعتکاف کے دوران بغیر شرعی یا طبعی ضرورت کے مسجد سے باہر نکلنا جائز نہیں اور ایسا کرنے سے اعتکاف فاسد ہو جاتا ہے۔

دلیل کے طور پر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ اعتکاف کرتے تھے تو مسجد میں رہتے اور اپنا سر مبارک حجرے میں کرتے تھے، لیکن بغیر حاجت کے مسجد سے باہر نہیں نکلتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ﷺ کے سر مبارک دھو کر کنگھی کرتی تھیں، مگر حضور ﷺ صرف انسانی حاجت (قضائے حاجت) کی ضرورت کے تحت ہی مسجد سے باہر جاتے تھے (صحیح بخاری و صحیح مسلم)۔

سنن ابی داؤد اور دیگر کتبِ ستہ میں بھی یہ روایت ہے کہ معتکف نہ بیمار کی عیادت کرے، نہ جنازے میں جائے، نہ بیوی سے شہوت کے تعلقات کرے اور شدید ضروری تقاضوں کے بغیر اپنی جگہ سے باہر نہ نکلے۔

اگر معتکف بغیر ضرورت کے باہر نکل جائے تو اس کا اعتکاف فاسد ہو جائے گا، اور اس کی قضا کرنا ضروری ہوگی۔ قضا اعتکاف کا طریقہ یہ ہے کہ مغرب سے پہلے مسجد میں داخل ہو کر اگلے دن مغرب تک مسجد میں رہے اور ساتھ روزہ بھی رکھے۔ رمضان کے دنوں میں اگر اعتکاف فاسد ہو جائے تو اسی رمضان میں قضا کرنا ضروری ہے۔

حاصلِ کلام: مسنون اعتکاف کے دوران صرف طبعی یا شرعی ضرورت کے لیے ہی مسجد سے باہر نکلنا جائز ہے، ورنہ اعتکاف فاسد ہوگا اور اس کی قضا کرنا ہوگی۔

کیا اعتکاف کے دوران ضرورت کے تحت باہر نکلا جاسکتا ہے؟

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us