خیانت کے سائے ڈالروں کی چمک ضمیرفروشوں کی نیٹ ورک اور اپنوں کی غداری

featured
Share

Share This Post

or copy the link

احمدخان اچکزئی

خیانت کے سائے ڈالروں کی چمک ضمیرفروشوں کی نیٹ ورک اور اپنوں کی غداری

محترم قارئین! عالمِ اسلام کے موجودہ سیاسی و جغرافیائی منظرنامے پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ خلیجی ریاستوں کی چکا چوند، بلند و بالا عمارات اور پرتعیش طرزِ زندگی کے پیچھے ایک خوفناک اور تلخ حقیقت پوشیدہ ہے، یہ عالیشان ڈھانچے محض اینٹ اور گارے کا مجموعہ نہیں بلکہ وہ اسٹریٹجک مراکز ہیں جہاں غیر ملکی آقاؤں کو پناہ فراہم کی گئی ہے اور وہیں سے پورے خطے کی تقدیر کے فیصلے صادر ہوتے ہیں۔ بحرین کے چھوٹے سے جزیرے میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے (5th Fleet) اور برطانوی بحریہ کے اڈوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہاں کی زمین اپنے ہی باشندوں کے لیے اجنبی اور غیر ملکی میرینز کے لیے “گھر” بن چکی ہے جہاں مقامی قوانین کی کوئی حیثیت نہیں رہتی، اسی طرح قطر کا العدید ایئر بیس ہو یا دبئی کے وہ ساحل جو امریکی فوجیوں کی تھکن اتارنے کے اڈے بن چکے ہیں، یہ سب اس المیے کی عکاسی کرتے ہیں کہ مسلم دنیا نے اپنی معیشت اور بقاء کو امریکی مفادات کے ساتھ اس طرح نتھی کر لیا ہے کہ وہ اپنی ہی سرزمین پر محض کرائے دار یا سہولت کار بن کر رہ گئے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان، فلسطین، عراق اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگیں صرف ان کی اپنی طاقت کے بل بوتے پر نہیں جیتی گئیں بلکہ ان کے پیچھے ان ضمیر فروشوں اور جاسوسوں کا ایک طویل لشکر رہا ہے جنہوں نے چند ڈالروں اور اقتدار کی ہوس میں اپنی قوم، اپنی قیادت اور اپنے نظریات کا نیلام کیا، سی آئی اے، موساد اور ایم آئی سکس کے ان مہروں نے اپنے ہی ملک کے دفاعی حصار کو تارتار کیا جس کی سب سے بڑی مثال عراق میں ‘احمد چلبی’ جیسے کرداروں کی ہے جنہوں نے صدام حسین کے خلاف تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی جھوٹی انٹیلی جنس فراہم کر کے پورے ملک کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا اور خود امریکی ٹینکوں پر سوار ہو کر بغداد کے تخت تک پہنچے۔ افغانستان کی بیس سالہ طویل جنگ میں ایسے بے شمار ‘سہولت کار’ اور ‘مخبر’ پیدا ہوئے جنہوں نے ڈالروں کے عوض مجاہدین کی قیادت کے خفیہ ٹھکانوں کی نشاندہی کی، ڈرون حملوں کے لیے جی پی ایس چپس لگائیں اور امریکی لاجسٹک سپلائی لائن کو بحال رکھنے کے لیے اپنے ہی بھائیوں کا خون بہایا، یہ وہ بدبخت تھے جو دن کو افغان حکومت کا حصہ ہوتے اور رات کو سی آئی اے کے سیف ہاؤسز میں بریفنگ دیتے تھے۔ ایران کے ایٹمی پروگرام کو سبوتاژ کرنے کے لیے موساد نے جن ایرانی سائنسدانوں اور اعلیٰ حکام کو لالچ دے کر اپنا آلہ کار بنایا، ان کی غداری کے نتیجے میں ہی محسن فخری زادہ جیسے جید سائنسدانوں کو نشانہ بنانا ممکن ہوا کیونکہ یہ غدار اپنے ہی ملک کے حساس ترین مقامات کے نقشے اور ٹارگٹ لوکیشنز دشمن کے حوالے کرتے رہے تاکہ وہ اسرائیل سے اپنی وفاداری کا صلہ پا سکیں۔ فلسطین میں محمد دحلان جیسے کرداروں پر حماس اور دیگر مزاحمتی گروہوں کی جانب سے ہمیشہ یہ الزام رہا کہ انہوں نے اسرائیلی سیکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر فلسطینی مجاہدین کے خلاف کریک ڈاؤن کیا اور ان کی خفیہ سرگرمیوں کی اطلاع فراہم کی تاکہ اپنی سیاسی بقا کو یقینی بنا سکیں، اسی طرح لیبیا میں معمر قذافی کے قریبی ساتھیوں کی غداری ہو یا شام میں باغی گروہوں کے روپ میں کام کرنے والے غیر ملکی ایجنٹ، ان سب کا مقصد ایک ہی تھا کہ بیرونی طاقتوں سے ڈالر وصول کیے جائیں اور اپنے ہی ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے۔یہ جاسوسی نیٹ ورک صرف انفرادی سطح تک محدود نہیں بلکہ اس میں پوری کی پوری سیاسی قیادتیں اور بیوروکریسی کے وہ مہرے شامل ہیں جو امریکہ سے ملنے والی ایڈ یا امداد کے بدلے اپنے ملک کی خارجہ پالیسی اور دفاعی رازوں کو گروی رکھ دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمِ اسلام کی کھربوں ڈالر کی دولت واپس امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کے بینک اکاؤنٹس میں چلی جاتی ہے، خلیجی ممالک کی جانب سے امریکی جنگوں کی مالی معاونت اور ان کی معیشت کو سہارا دینا اس نوآبادیاتی ذہنیت کا تسلسل ہے جہاں مسلمان حکمران اپنی عوام سے زیادہ واشنگٹن کی خوشنودی کو اپنی بقا کی ضمانت سمجھتے ہیں۔ اس تمام کھیل میں اسرائیل کا کردار ایک فرنٹ اسٹیٹ کا ہے جسے امریکہ نے اب تک 260 ارب ڈالر سے زائد کی امداد مختلف مراحل میں فراہم کی ہے، اسرائیل کا کام صرف دھونس دھمکی اور فلسطین پر بمباری کرنا ہے تاکہ عرب ممالک خوفزدہ ہو کر امریکہ سے امن کی بھیک مانگنے واشنگٹن پہنچیں اور وہاں سے کئی سو ارب ڈالر کے دفاعی سودے کریں جن کا ایک بڑا حصہ بطور کمیشن اسرائیل اور امریکی لابیوں کو جاتا ہے، اس طرح اسرائیل نے اپنی قوم کو دہائیوں سے حالتِ جنگ میں رکھ کر پورے خطے کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ ان جاسوسوں اور مخبروں نے صرف ٹارگٹ لوکیشنز ہی فراہم نہیں کیں بلکہ انہوں نے مسلم معاشروں میں فکری انتشار پھیلا کر دشمن کے لیے زمین ہموار کی، جس کی وجہ سے آج فلسطین لہو لہو ہے، عراق کھنڈر بن چکا ہے اور افغانستان دو دہائیوں کی جنگ کے بعد بھی معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ ریمنڈ ڈیوس جیسے جاسوسوں کے آپریشنز ہوں یا بلیک واٹر جیسی نجی فوجوں کی دراندازی، ان سب کو مقامی سطح پر ایسے ہی سہولت کار میسر رہے جنہوں نے ڈالروں کی چمک کے سامنے اپنے ضمیر کا سودا کیا، یہ شرمناک صورتحال سبق دیتی ہے کہ جب تک مسلم دنیا کے اندر موجود یہ آستین کے سانپ اور ڈالروں کے پجاری بے نقاب نہیں ہوں گے، تب تک کوئی بھی بیرونی دشمن اپنی سازشوں میں کامیاب نہیں ہو سکتا کیونکہ گھر کا بھیدی ہی لنکا ڈھاتا ہے اور ان غداروں نے ثابت کیا کہ وہ اپنی ہی ملت کی بیخ بینی میں امریکہ، اسرائیل اور بھارت (را) کے سب سے بڑے دست و بازو ہیں۔

خیانت کے سائے ڈالروں کی چمک ضمیرفروشوں کی نیٹ ورک اور اپنوں کی غداری

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us