استقبالِ رمضان
تحریر:ڈاکٹر فضلیت بانو
استقبالِ رمضان
رمضان المبارک اسلامی سال کا وہ مقدس مہینہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے عبادت، تقویٰ اور روحانی تربیت کے لیے منتخب فرمایا۔ اس مہینے کا استقبال محض ظاہری تیاری کا نام نہیں بلکہ قلب و باطن کی اصلاح، نیت کی درستی اور عملی منصوبہ بندی کا تقاضا کرتا ہے۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبوی ﷺ میں رمضان کی فضیلت، اس کی برکتوں اور اس سے صحیح طور پر فائدہ اٹھانے کے اصول واضح طور پر بیان ہوئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
> “يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ”
(البقرہ: 183)
اس آیت میں روزے ک بنیادی مقصد تقویٰ قرار دیا گیا ہے۔ گویا رمضان کا استقبال اس نیت سے ہونا چاہیے کہ ہم اپنے اندر اللہ کا خوف، جواب دہی کا احساس اور گناہوں سے بچنے کی قوت پیدا کریں۔
مزید فرمایا:
> “شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ”
(البقرہ: 185)
یہ وہ مہینہ ہے جس می قرآن نازل ہوا۔ اس لیے رمضان دراصل قرآن سے تعلق مضبوط کرنے کا مہینہ ہے۔ استقبالِ رمضان کا اہم پہلو یہ ہے کہ ہم قرآن فہمی، تلاوت اور تدبر کا عملی منصوبہ بنائیں۔
احادیثِ نبوی ﷺ میں رمضان کی فضیلت اس طرح بیان کی گئی ہے
Sahih al-Bukhari اور Sahih Muslim میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
> “جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔”
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان رحمتوں اور مغفرت کا خصوصی موسم ہے۔ اس کا استقبال خوشی، شکر اور امید کے ساتھ کرنا چاہیے۔
ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
> “جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔”
یہاں “ایمان و احتساب” اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رمضان کی عبادات محض رسم نہیں بلکہ اخلاص اور اجر کی امید کے ساتھ ہونی چاہئیں۔
استقبالِ رمضان کے عملی تقاضے یہ ہیں کہ
رمضان سے قبل اپنے گناہوں پر سچی توبہ کرنا اور دل کو کینہ، حسد اور بغض سے پاک کرنا ضروری ہے۔ صاف دل کے ساتھ رمضان میں داخل ہونا ہی اصل تیاری ہے۔
نبی کریم ﷺ شعبان میں کثرتِ روزہ رکھتے تھے تاکہ رمضان کی تیاری ہو سکے۔ اس سے سبق ملتا ہے کہ ہمیں بھی عبادات کا تسلسل پہلے سے شروع کر دینا چاہیے۔
رمضان میں قرآن کی تلاوت، ترجمہ اور تفسیر کا اہتمام کیا جائے۔ کوشش ہو کہ روزانہ مخصوص وقت مقرر کر کے باقاعدگی اختیار کی جائے۔
تراویح اور تہجد کا اہتمام رمضان کی نمایاں عبادات میں شامل ہے۔ گھر اور مسجد دونوں جگہ خشوع و خضوع کے ساتھ قیام کیا جائے۔
رمضان ہمدردی اور ایثار کا مہینہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ اس مہینے میں سب سے زیادہ سخی ہو جاتے تھے۔ لہٰذا محتاجوں، یتیموں اور ضرورت مندوں کی مدد کو ترجیح دی جائے۔
رمضان فرد کی اصلاح کے ساتھ معاشرتی اصلاح کا بھی ذریعہ ہے۔ روزہ ہمیں صبر، برداشت اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا سکھاتا ہے۔ اگر ہم جھوٹ، غیبت اور بد اخلاقی سے نہ بچیں تو روزے کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ حدیث میں ہے:
> “جس نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔”
یہ تعلیم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ استقبالِ رمضان اخلاقی اصلاح کے عزم کے ساتھ ہونا چاہیے۔
رمضان میں خواتین گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ عبادت کا خصوصی اہتمام کرتی ہیں۔ ضروری ہے کہ وہ اپنی عبادت کے لیے بھی وقت مقرر کریں اور گھر کے افراد باہمی تعاون کا ماحول پیدا کریں تاکہ سب اس مہینے کی برکتوں سے مستفید ہو سکیں۔
استقبالِ رمضان دراصل دل کی بیداری، نیت کی درستی اور عمل کی تیاری کا نام ہے۔ یہ مہینہ سال میں ایک بار آتا ہے اور کامیاب وہی ہیں جو اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کا صحیح استقبال کرنے، اس کی قدر کرنے اور اس کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



