زندگی کا مفہوم اور اس کا مقصد
سی ٹی این گلبرگ میں فکری و علمی نشست کا انعقاد
منشاقاضی
حسبِ منشا
سی ٹی این، گلبرگ لاہور کے خوشگوار اور علمی ماحول میں ایک بامقصد و بصیرت افروز نشست بعنوان The Meaning & Purpose of Life “زندگی کا مفہوم اور اس کا مقصد” منعقد ہوئی، جس میں شہر کے اہلِ فکر، دانشوروں، ماہرینِ نفسیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ یہ نشست نہ صرف ایک فکری مکالمہ ثابت ہوئی بلکہ حاضرین کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ دینے والی روحانی و نفسیاتی جستجو کی آرزو بھی بنی۔
تقریب کا آغاز سیکرٹری جنرل سے ٹی این نے نقیب محفل کے تعارفی کلمات سے کیا ۔ علی خواجہ کا تعارف اور ان کی نقابت شاندار کامیاب اور موْثر رہی ۔ علی خواجہ نے مائیک سنبھالا اور انہیں توقیر احمد شریفی کی حوصلہ افزائی نے مسیحائی کا کام دیا ۔ علی خواجہ نے چیئرمین سی ٹی این فورم اور سابق منیجنگ ڈائریکٹر پی ٹی ڈی سی، جناب مسعود علی خان کو خطبہ ء استقبالیہ کے لیئے بلایا تو مسعود علی خان کی دلفریب شخصیت کے سحر میں سامعین ڈوب گئے اور آپ کے ساتھ خوش ہو کر تالیاں بجاتے رہے ۔ مسعود علی خان کے ولولہ انگیز استقبالیہ کلمات نے ماحول میں ایک امید افزا یقین کی لہر دوڑا دی ۔ انہوں نے حاضرین کو خوش آمدید کہتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ زندگی محض سانسوں کی آمد و رفت کا نام نہیں بلکہ ایک شعوری سفر ہے، جس میں مقصد کا تعین ہی انسان کو باوقار اور باکردار بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی نشستیں معاشرے میں فکری بالیدگی اور مثبت سوچ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی، ممتاز دانشور اور سینئر ماہرِ نفسیات مقبول بابری نے اپنے کلیدی خطاب میں زندگی کے مفہوم کو نفسیاتی، روحانی اور سماجی تناظر میں نہایت جامع انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسان کی اصل کامیابی اس کی خود آگاہی میں مضمر ہے۔ جب تک انسان اپنی ذات، اپنی صلاحیتوں اور اپنی ذمہ داریوں کو نہیں پہچانتا، وہ زندگی کے حقیقی مقصد تک نہیں پہنچ سکتا۔ انہوں نے مختلف عملی مثالوں اور تحقیقی نکات کے ذریعے واضح کیا کہ مقصدیت انسان کو ذہنی سکون، استحکام اور معاشرتی ہم آہنگی عطا کرتی ہے۔ اور کہا کہ ایک متوازن دماغ صرف دوسروں پر ہی اثر نہیں کرتا بلکہ وہ آپ کو بہت سی پریشانیوں سے بچا لیتا ہے یہ آپ کو گھبراہٹ اور غم کے اثرات سے نجات دلاتا ہے ۔ جان ملٹن نے کہا تھا کہ دماغ چاہے تو جنت کو دوزخ اور دوزخ کو جنت میں تبدیل کر سکتا ہے اگر دماغ مطمئن ہے تو زندگی میں اطمینان ہے اور اگر دماغ منتشر ہے تو زندگی میں انتشار ہی انتشار ہے ۔ ہم سب کے دل و دماغ میں بہت سی طاقتیں ہوتی ہیں جن کو ہمدردی اور حوصلہ کا ایک لفظ جگا سکتا ہے
نشست کی نظامت کے فرائض علی خواجہ نے نہایت سلیقے اور فکری گہرائی کے ساتھ انجام دیئے۔ انہوں نے سوال و جواب کے سیشن کو مربوط اور بامعنی رکھا، جس سے گفتگو میں تسلسل اور معنویت برقرار رہی۔ ان کی مدلل گفتگو اور برجستہ انداز نے محفل کو مزید جاندار بنا دیا۔ علی خواجہ نے اندازِ بیان سریع الاثر تھا ۔
نشست کے دوران شرکاء نے بھی گرمجوشی سے اظہارِ خیال کیا۔ مختلف سوالات، آراء اور ذاتی تجربات کے تبادلے نے اس نشست کو ایک بھرپور مکالمے کی صورت دے دی، جہاں ہر آواز کو توجہ اور احترام ملا۔ مقررین اور سامعین کے مابین فکری ہم آہنگی اس بات کی عکاس تھی کہ معاشرہ آج بھی سنجیدہ موضوعات پر غور و فکر کا متلاشی ہے۔
تقریب کے اختتام پر میجر (ر) مجیب آفتاب نے تمام مہمانوں، مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سی ٹی این فورم مستقبل میں بھی ایسے علمی و فکری پروگرامز کا انعقاد جاری رکھے گا تاکہ معاشرے میں مثبت سوچ اور بامقصد زندگی کے شعور کو فروغ دیا جا سکے۔ میجر مجیب آفتاب نے کہا کہ زندگی تجسس کے بغیر بےکار ہے زندگی کا ہر ایک دن آپ کی تاریخ کا ورق ہے اور زندگی کی مالا میں ائر کموڈور خالد چشتی ۔ توقیر احمد شریفی ۔ شعیب بن عزیز ۔ برگیڈیئر عرفان علی خان ۔جواں سال ماہر تعلیم فہد عباس ۔ علی خواجہ ۔ نعمان رانا جیسے قیمتی موتی جمع کرو جن کی چمک سے سارے جہاں میں روشنی پھیل جائے اور زندگی کو یہ سمجھ کر بسر کریں کہ اس میں کچھ حصہ دوسروں کا بھی ہے زندگی کے چند لمحے دوسروں کی بھلائی کے لیئے وقف کر دینا بہت بڑی نیکی ہے جس طرح سی ٹی این فورم کے چیئرمین مسعود علی خان نے اپنی زندگی دوسروں کے لیئے وقف کر رکھی یے۔ چار سال وہ فنونِ لطیفہ کی ہر اصناف سے انصاف کر رہے ہیں۔ تقریب میں سپین ۔ پرتگال کے اعزازی قونصلیٹ جرل فیروز افتخار اور ٹیکسٹائل انڈسٹریز کے سربراہان خاص طور پر سامعین کے درمیان موجود تھے ۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ کارٹونسٹ جاوید اقبال ۔ ہائیکر اینڈ بائیکر عادل وحید ۔ ڈاکٹر مدیحہ بتول شیخ ۔ صبا اور لاھور قلعہ کے سابق ڈائریکٹر ارشاد احمد سومرو اور پیام کی پوری ٹیم ہمہ تن گوش تھی ۔ ثقلین شاہ حاکم علی اور طیبہ کے انتظامات کا عکسِ جمیل ماحول میں چاندنی بکھیر رہا تھا ۔ فردوس نثار اور رابعہ رحمٰن کی معذرت آ گئی تھی ۔ شائلہ صفوان کو مسلسل یاد رکھا جا رہا ہے ۔
نشست کے اختتام پر حسب سابق پرتکلف ہائی ٹی کا اہتمام کیا گیا، جہاں شرکاء نے باہمی تبادلۂ خیال کے ساتھ اس یادگار محفل کو خوشگوار انداز میں سمیٹا۔ یوں یہ نشست علم و آگہی کی ایک روشن کرن ثابت ہوئی، جس نے حاضرین کے دلوں میں زندگی کے مفہوم کو نئے زاویوں سے سمجھنے کی ایک تازہ امنگ پیدا کر دی۔ ڈاکٹر شمیلہ ارم پر اللہ کا کرم ہے وہ حالات کی نزاکت اور ماحول کے ساتھ چلنے کا ہنر جانتی ہے ۔ڈاکٹر شمیلہ ارم کے توسط اور تعلق سے مختلف یونیورسٹیز کے طلبا و طالبات نے اس سیشن سے بہت کچھ سیکھا اور انہوں نے بہت کچھ سیکھا کن فیکون مائنڈ کئر جس کی سربراہ ڈاکٹر شمیلہ ارم ہیں اور سی ٹی این کے تعاون سے سرٹیفکیٹ بھی پیش کیے گئے ۔ طلبا و طالبات نے بہت سی زندگی کے بارے میں نئی چیزیں سیکھیں مقبول بابری صاحب کے تجربات سے اور مسعود علی خان کے تجربات سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا اور اس سے مستفید ہوئے۔ میں نے پہلی بار اس انداز و اسلوب کے گفتگو طراز کو سنا ہے ۔ائر کموڈور خالد چشتی کو سنتا ہوں تو دل میں بصیرت افروز کیفیت اور دماغ روشن ہو جاتا ہے ۔ مقبول بابری صاحب کو بار بار سننا پڑے گا ۔ ان کی گفتگو پر ان کے بلیغ اشارے غالب تھے ۔ ویسے بھی بقول سیف
سیف اندازِ بیاں رنگ بدل دیتا ہے
ورنہ اس دنیا میں کوئی بات نہیں نئی بات نہیں



