بنگلہ دیش ایئر فورس کے سربراہ کے حالیہ دورہِ پاکستان کے موقع پر ایئر چیف مارشل حسن محمود خان نے پاکستان سے جے ایف-17 بلاک تھری لڑاکا طیاروں کی ’خریداری میں دلچسپی‘ کا اظہار کیا ہے۔
جے ایف 17 تھنڈر بلاک تھری ایک ایکٹو الیکٹرونکلی سکینڈ ایرے (اے ای ایس اے) ریڈار اور لانگ رینج بی وی آر سے لیس 4.5 جنریشن کا ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے جو مختلف قسم کے جنگی مشنز میں حصے لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان نے چین کی مدد سے ان طیاروں کو بنانے کی صلاحیت حاصل کی ہے اور دفاعی ماہرین کے مطابق یہ لڑاکا طیارہ ایک ہمہ جہت، کم وزن، فورتھ جنریشن ملٹی رول ایئر کرافٹ ہے جس نے انڈیا کے ساتھ 2019 اور مئی 2024 کی کشیدگی کے دنوں میں اپنی کارکردگی ثابت کی ہے۔
پاکستان اب تک آذربائیجان، میانمار اور نائجریا کو یہ طیارے فروخت کر چکا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ عراق اور لیبیا سمیت کئی ممالک کے ساتھ اس طیارے کی فروخت کے معاہدے طے پا چکے ہیں۔
پاکستانی فضائیہ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ بنگلہ دیش کے ساتھ ابھی تک اس طیارے کی فروخت کے حوالے سے کوئی معاہدہ طے نہیں پایا تاہم ’انھوں نے اس کی خریداری میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور اس حوالے سے ہماری تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔‘
منگل کے دن ہونے والی ملاقات میں پاکستان فضائیہ کے مطابق ’پاکستان کے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے سپر مشاق تربیتی طیاروں کی تیز رفتار فراہمی کے ساتھ مکمل تربیتی نظام اور طویل المدتی تکنیکی معاونت کی یقین دہانی بھی کرائی۔‘



