Banner
Daily Sahafat Quetta
September 25, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ میں پہلی ادبی ورکشاپ اور عہدِ جون ایلیاء مشاعرہچادرِ حیا اتارنے کی عالمی سازش اور امت مسلمہانسانی وجود، الہیٰ انجینئرنگ کا نقطۂ کمالپاکستان میں دراندازی کرنیوالے خوارج میں 70 فیصد دہشتگردوں کا تعلق افغانستان سے ہے: سکیورٹی ذرائعسعودیہ پر حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ فوجی حکام کا ہنگامی اجلاس طلبآئی ایم ایف شرائط، پارلیمنٹ میں 174 ترامیم پیش کی جائیں گیبلوچستان میڈیا فورم امید کی کرن بن چکا ہے،گووندا راہیجہکوئٹہ میں دل دہلا دینے والا واقعہ، دو کمسن بچے جاں بحقکوئٹہ پولیس اہلکاروں کے یونیفارم میں ٹک ٹاک بنانے پر پابندیسمندری وسائل اور بلوچستان کے تجارتی راستےکوئٹہ میں پہلی ادبی ورکشاپ اور عہدِ جون ایلیاء مشاعرہچادرِ حیا اتارنے کی عالمی سازش اور امت مسلمہانسانی وجود، الہیٰ انجینئرنگ کا نقطۂ کمالپاکستان میں دراندازی کرنیوالے خوارج میں 70 فیصد دہشتگردوں کا تعلق افغانستان سے ہے: سکیورٹی ذرائعسعودیہ پر حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ فوجی حکام کا ہنگامی اجلاس طلبآئی ایم ایف شرائط، پارلیمنٹ میں 174 ترامیم پیش کی جائیں گیبلوچستان میڈیا فورم امید کی کرن بن چکا ہے،گووندا راہیجہکوئٹہ میں دل دہلا دینے والا واقعہ، دو کمسن بچے جاں بحقکوئٹہ پولیس اہلکاروں کے یونیفارم میں ٹک ٹاک بنانے پر پابندیسمندری وسائل اور بلوچستان کے تجارتی راستے

انسانی وجود، الہیٰ انجینئرنگ کا نقطۂ کمال

احمدخان اچکزئی

انسانی وجود، الہیٰ انجینئرنگ کا نقطۂ کمال

محترم قارئین، انسانی جسم کی خلقت ایک ایسا بے مثال معجزہ ہے جس کے سامنے جدید سائنس اور تمام تر بشری علوم کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اگر اس حیرت انگیز وجود کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کائنات کی سب سے پیچیدہ اور منظم مشینری ہے۔ اگر انسان کو کسی دنیاوی انجینئر نے تخلیق کیا ہوتا تو عالمِ انسائیکلوپیڈیا اور تمام عالمی یونیورسٹیاں اس کے تخلیق کار کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیتیں۔ مکینیکل انجینئرنگ کی نظر سے دیکھا جائے تو انسانی ڈھانچہ 206 ہڈیوں پر مشتمل ایک ایسا نظام ہے جو وزن میں لوہے سے ہلکا مگر مضبوطی میں اسٹیل سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر ران کی ہڈی (فیمر) ایک ٹن کا بھاری بھرکم وزن برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ جڑے 640 مسلز بغیر کسی بیٹری یا ایکسٹرنل موٹر کے صرف پروٹین کی رسیوں پر مشتمل ہیں، جو انسانی زندگی کے 70 سے 80 سال تک بغیر کسی سروس یا متبادل پرزے کے مسلسل کام کرتے ہیں۔ اسی طرح انسانی دل ایک ایسا خودکار پمپ ہے جو ایک اوسط عمر میں تقریباً 2.5 ارب بار دھڑکتا ہے اور روزانہ 7,500 لیٹر خون کو تمام جسم میں گشت کرواتا ہے، اور وہ بھی بغیر ایک سیکنڈ کا وقفہ لیے۔ گھٹنے کا جوڑ چار پیچیدہ لیگامینٹس، کارٹیلیج اور سائنوویل فلوئڈ کا ایک ایسا خودکار لبریکیٹنگ شاہکار ہے جو دنیا کے بہترین مکینیکل سسٹمز کو بھی پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔
الیکٹریکل اور الیکٹرانکس انجینئرنگ کے تناظر میں انسانی دماغ کائنات کا عظیم ترین نیورل نیٹ ورک ہے۔ 86 ارب نیورونز اور ان میں سے ہر ایک کے 10,000 کنکشنز مل کر 100 ٹریلین وائرنگ کا نظام بناتے ہیں۔ یہ دنیا کا عظیم ترین سپر کمپیوٹر ہے جو محض 20 واٹ (ایک عام بلب کی برابر) بجلی پر چلتا ہے اور انسانی سوچ و شعور کی ایسی جہتیں روشن کرتا ہے جو بڑے سے بڑے ڈیٹا سینٹر کے بس کی بات نہیں کنٹرول پر مبنی اعصابی نظام 72 کلومیٹر طویل نسوں کے ذریعے 120 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سگنلز کی نقل و حرکت ممکن بناتا ہے، جس کی بدولت کسی بھی درد یا لمس کا احساس محض 0.1 سیکنڈ میں دماغ تک پہنچ جاتا ہے۔ انسانی آنکھ 576 میگا پکسل کے ایک ایسے خودکار کیمرے کی مانند ہے جو 0.3 سیکنڈ میں آٹو فوکس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کا ISO لیول تاریک ترین راتوں میں بھی باریک بین بصارت فراہم کرتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ کیمرہ بجلی سے نہیں بلکہ روشنی کی شعاعوں کو الیکٹریکل سگنلز میں بدل کر کام کرتا ہے۔ دل کا اپنا ذاتی پاور ہاؤس خون کی گردش کا الیکٹریکل کرنٹ خود پیدا کرتا ہے، اور اگر دماغی رابطہ منقطع بھی ہو جائے تو بھی یہ نظام کچھ دیر تک مستقل طور پر کام کرنے کی حیران کن صلاحیت رکھتا ہے۔کیمیکل اور ہائیڈرولک انجینئرنگ کے میدان میں انسانی گردے، جگر اور خون کا نظام ایک بے مثال مواصلاتی اور تصفیاتی نمونہ ہیں۔ انسان کے دونوں گردے مٹھی کے برابر سائز رکھنے کے باوجود روزانہ 180 لیٹر خون کو فلٹر کرتے ہیں، جس سے 1.5 لیٹر فضلاٹ کا اخراج ہوتا ہے اور 99 فیصد کارآمد مائع واپس جسمانی نظام کا حصہ بن جاتا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی ریورس اسموسس (RO) پلانٹ اس قدر ایفی شینسی پیش نہیں کر سکتا۔ دوسری جانب جگر کو 500 کیمیائی فیکٹریوں کا ایک مجموعہ کہا جا سکتا ہے، جو خون کی صفائی، سموم کے اخراج، نشاستے کے نظم اور بائل کی پیدائش جیسے 500 پیچیدہ افعال ایک ساتھ سرانجام دیتا ہے۔ جگر کی سب سے بڑی حیرت یہ ہے کہ اگر اس کا 70 فیصد حصہ کاٹ بھی دیا جائے تو یہ خود کو دوبارہ اگا لیتا ہے۔یہ کرۂ ارض پر واحد فیکٹری ہے جو خودکار طور پر اپنی مرمت کرتی ہے۔ انسانی رگوں میں دوڑتا 5 لیٹر خون کوئی سادہ مائع نہیں بلکہ ایک مربوط رسد کا نظام ہے، جس میں 25 ٹریلین لال خلیات (RBCs) آکسیجن کے ٹرک، سفید خلیات (WBCs) محافظ پولیس اور پلیٹلیٹس کسی بھی شریان کے کٹنے پر فوری مرمت کرنے والے مستری کا کام کرتے ہیں۔سافٹ ویئر انجینئرنگ کے زاویے سے جائزہ لیا جائے تو انسان کا ڈی این اے (DNA) وہ حتمی کوڈنگ ہے جسے آج تک کوئی پروگرامر یا ہیکر مات نہیں دے سکا۔ ہر انسانی سیل میں 3 ارب پر مشتمل کوڈز محفوظ ہیں اور صرف ایک گرام ڈی این اے میں 700 ٹیرا بائٹ ڈیٹا سما سکتا ہے؛ یعنی اگر دنیا کا پورا digital ڈیٹا ایک جگہ جمع کیا جائے تو وہ ڈی این اے کے چند قطرے جتنا ہوگا۔ اسی طرح انسان کا مدافعتی نظام (Immunity) ایک ایسا خودکار اینٹی وائرس سافٹ ویئر ہے جو ہر لمحہ اپ ڈیٹ ہوتا رہتا ہے اور کسی بھی نئے وائرس یا بیکٹیریا کے حملے کے بعد محض 7 دنوں میں اس کے خلاف مخصوص بائیولوجیکل ہتھیار تیار کر لیتا ہے۔ یہ تمام نظام اس حقیقت پر شاہد ہیں جو قرآنِ پاک میں بیان کی گئی ہے۔(ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر بنایا)۔ جہاں مکینیکل اور الیکٹریکل انجینئرز اس ساخت کو ایک نا قابلِ یقین ناممکن مشین قرار دیتے ہیں، وہاں ربِ ذوالجلال کے ایک حرفِ امرسے یہ لازوال شاہکار وجود میں آ کر ربوبیت اور تکوینِ الٰہیہ کا سب سے بڑا ثبوت بن جاتا ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *