Banner
Daily Sahafat Quetta
September 1, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر الیکشن کمیشن نے 2 جماعتیں ڈی لسٹ کردیںعالمی مارکیٹ کے بعد پاکستان میں بھی سونے کے دام گر گئے: فی تولہ قیمت کہاں تک آن پہنچی؟’’اقبال کا فن: نورِ تحقیق کے آئینے میں‘‘ نئے زاویۂ نظر سے ایک جامع تعارفلاہور ہائیکورٹ کا خلع، حق مہر، جہیز اور گھر کی ملکیت سے متعلق اہم فیصلہ جاریراولپنڈی اسلام آباد میں شدید بارش سے نظام زندگی درہم برہم، عام تعطیل کا اعلان، فوج اسٹینڈ بائیسندھ کابینہ کا بڑا فیصلہ؛ پاسکو سے 2 لاکھ 23 ہزار ٹن سے زائد گندم خریدنے کی منظوریGen Alpha کے بچے ،ہماری آنے والی نسل کیسی ہوگی؟عمر کے افق پر ابنِ سینا کی روشنی ڈاکٹر کمال آیدن کا علمی و انسانی سفرسندھ طاس معاہدہ برقرار، عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی کامیابی ہے،وزیراعلیٰ بلوچستانزیارت کراس پر مسلح افراد کا حملہ، فائرنگ کے بعد کسٹم ویئر ہاؤس میں آتشزدگی، 5 اہلکار جاں بحقانٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے پر الیکشن کمیشن نے 2 جماعتیں ڈی لسٹ کردیںعالمی مارکیٹ کے بعد پاکستان میں بھی سونے کے دام گر گئے: فی تولہ قیمت کہاں تک آن پہنچی؟’’اقبال کا فن: نورِ تحقیق کے آئینے میں‘‘ نئے زاویۂ نظر سے ایک جامع تعارفلاہور ہائیکورٹ کا خلع، حق مہر، جہیز اور گھر کی ملکیت سے متعلق اہم فیصلہ جاریراولپنڈی اسلام آباد میں شدید بارش سے نظام زندگی درہم برہم، عام تعطیل کا اعلان، فوج اسٹینڈ بائیسندھ کابینہ کا بڑا فیصلہ؛ پاسکو سے 2 لاکھ 23 ہزار ٹن سے زائد گندم خریدنے کی منظوریGen Alpha کے بچے ،ہماری آنے والی نسل کیسی ہوگی؟عمر کے افق پر ابنِ سینا کی روشنی ڈاکٹر کمال آیدن کا علمی و انسانی سفرسندھ طاس معاہدہ برقرار، عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی کامیابی ہے،وزیراعلیٰ بلوچستانزیارت کراس پر مسلح افراد کا حملہ، فائرنگ کے بعد کسٹم ویئر ہاؤس میں آتشزدگی، 5 اہلکار جاں بحق

’’اقبال کا فن: نورِ تحقیق کے آئینے میں‘‘ نئے زاویۂ نظر سے ایک جامع تعارف

’’اقبال کا فن: نورِ تحقیق کے آئینے میں‘‘ نئے زاویۂ نظر سے ایک جامع تعارف

تحریر:
ڈاکٹر فضیلت بانو

اردو ادب میں علامہ محمد اقبالؒ کی شخصیت اور فن پر اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ اقبال شناسی ایک مستقل علمی و تحقیقی شعبے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ اقبال کی فکر، فلسفہ، شاعری، اسلوب، علامتوں، استعارات، تصوراتِ خودی و بے خودی، تصورِ انسان، تصورِ ملت، قرآنی فکر اور تہذیبی شعور پر بے شمار کتابیں اور تحقیقی مقالات منظرِ عام پر آ چکے ہیں۔ تاہم اقبال کے فن کو نئے تحقیقی زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت آج بھی باقی ہے۔ زیرِ نظر کتاب ’’اقبال کا فن: نورِ تحقیق کے آئینے میں‘‘ اسی ضرورت کا ایک سنجیدہ اور قابلِ توجہ جواب محسوس ہوتی ہے۔یہ کتاب محض اقبال کے شعری فن کی عمومی تعریف یا مدح پر مبنی نہیں بلکہ اس میں اقبال کے فن اور فکر کو تحقیقی شعور، تنقیدی بصیرت اور مختلف علمی حوالوں کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کتاب کے سرورق اور ابتدائی صفحات سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ایک باقاعدہ تحقیقی کاوش ہے جس کی تدوین و ترتیب علمی اصولوں کو پیشِ نظر رکھ کر کی گئی ہے۔ کتاب کا سنِ اشاعت 2025ء درج ہے، ISBN بھی موجود ہے، اور اسے لائل پور پبلشرز سے شائع کیا گیا ہے۔’’اقبال کا فن: نورِ تحقیق کے آئینے میں‘‘ کا بنیادی موضوع اقبال کے فن کا تحقیقی اور تنقیدی مطالعہ ہے۔ یہاں ’’فن‘‘ سے مراد محض شاعرانہ حسن، الفاظ کی دلکشی یا اسلوب کی ندرت نہیں بلکہ اقبال کے تخلیقی شعور کے ان تمام پہلوؤں کا جائزہ ہے جو ان کی شاعری کو ایک منفرد فکری اور جمالیاتی تجربہ بناتے ہیں۔اقبال کی شاعری میں فلسفہ اور شعریت، فکر اور جذبہ، فرد اور ملت، ماضی اور مستقبل، مشرق اور مغرب، عقل اور عشق، خودی اور بے خودی، حرکت اور عمل جیسے متعدد ثنائی تصورات باہم مربوط نظر آتے ہیں۔ اس لیے اقبال کے فن کو سمجھنے کے لیے صرف شعری متن کا مطالعہ کافی نہیں؛ اس کے پس منظر، فکری سرچشموں، تہذیبی تجربے اور عصری حالات کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ زیرِ نظر کتاب کی تحقیقی سمت اسی وسیع تناظر کی طرف اشارہ کرتی ہے۔اس کتاب کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا تحقیقی مزاج ہے۔ فہرستِ مضامین سے معلوم ہوتا ہے کہ کتاب میں اقبال کے فن کے مختلف پہلوؤں کو الگ الگ عنوانات کے تحت زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ کتاب تقریباً دو سو صفحات سے زائد پر مشتمل ہے اور اس میں اقبال کے فن، فکر، شعری خصوصیات، مختلف ادبی و فکری حوالوں اور اقبال شناسی کے متنوع مباحث کو جگہ دی گئی ہے۔کتاب کے ابتدائی حصے میں تحقیقی سرگرمیوں اور اقبال شناسی سے متعلق متعدد مطالعات، مقالات اور علمی حوالوں کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف نے اقبال کے فن کو کسی محدود دائرے میں قید کرنے کے بجائے وسیع تحقیقی منظرنامے میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔اقبال کی شاعری بنیادی طور پر ایک زندہ اور متحرک شعری کائنات ہے۔ ان کے ہاں شعر محض جذبات کی ترجمانی نہیں کرتا بلکہ قاری کو سوچنے، سوال کرنے اور عمل کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ان کی شاعری میں فکری گہرائی کے ساتھ ساتھ شعری پیکر، علامت، استعارہ، تشبیہ، تلمیح، مکالمہ اور خطیبانہ آہنگ بھی نمایاں ہیں۔’’اقبال کا فن: نورِ تحقیق کے آئینے میں‘‘ کی اہمیت اس اعتبار سے بڑھ جاتی ہے کہ اس میں اقبال کے فن کو صرف فلسفیانہ افکار کی ترسیل کا وسیلہ سمجھنے کے بجائے اس کی ادبی اور فنی ساخت کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔ اقبال کے یہاں خیال شعر کا حصہ بن کر آتا ہے اور شعر خیال کو جمالیاتی تاثیر عطا کرتا ہے۔ یہی امتزاج ان کی شاعری کو منفرد بناتا ہے۔اقبال کی شاعری میں فکر اور فن ایک دوسرے سے الگ نہیں۔ ان کا فلسفہ جب شعری تجربے میں ڈھلتا ہے تو ’’خودی‘‘ محض ایک فلسفیانہ اصطلاح نہیں رہتی بلکہ ایک مکمل تخلیقی تصور بن جاتی ہے۔ اسی طرح عشق، مردِ مومن، شاہین، حرکت، عمل، حریت، ملت اور حیات جیسے تصورات اقبال کے شعری نظام میں علامتی اور جمالیاتی معنی بھی پیدا کرتے ہیں۔کتاب کا تحقیقی زاویہ اس حقیقت کو سامنے لاتا ہے کہ اقبال کو سمجھنے کے لیے ان کے الفاظ کے ساتھ ان کے پس منظر، فکری رشتوں اور تہذیبی تجربے کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ کتاب میں اقبال کے فکری مباحث کے ساتھ مغربی اور مشرقی علمی حوالوں کا استعمال بھی دکھائی دیتا ہے۔ حوالہ جاتی مواد میں انگریزی علمی کتب اور انسائیکلوپیڈیائی ماخذ بھی شامل ہیں، جس سے تحقیق کے وسیع دائرۂ کار کا اندازہ ہوتا ہے۔اقبال کی فکر کی تشکیل میں قرآن بنیادی سرچشمے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اقبال کے ہاں اسلام محض ایک مذہبی تصور نہیں بلکہ ایک زندہ تہذیبی، اخلاقی اور اجتماعی نظام کی صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ ان کی شاعری میں قرآنی تصورات، پیغمبرانہ اسوہ، اسلامی تاریخ اور ملتِ اسلامیہ کا شعور بار بار سامنے آتا ہے۔کتاب میں اقبال کی فکر کے اس پہلو کی طرف بھی تحقیقی توجہ نظر آتی ہے۔ ایک مقام پر انسانی وحدت اور قرآن کے تصورِ اجتماع کے حوالے سے بحث سامنے آتی ہے، جہاں قرآن کے مشترک انسانی اصولوں پر اجتماع کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔یہ پہلو اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ اقبال کے فنی مطالعے کو ان کے مذہبی اور تہذیبی شعور سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔اقبال کی علمی شخصیت کی تشکیل مشرقی اور مغربی دونوں علمی روایتوں کے تعامل سے ہوئی۔ انہوں نے مغربی فلسفے کا گہرا مطالعہ کیا، اس کے مثبت پہلوؤں سے استفادہ کیا اور جہاں ضرورت محسوس ہوئی وہاں اس پر تنقیدی نظر بھی ڈالی۔کتاب میں اقبال کے حوالے سے مغربی علمی ماخذوں سے استفادہ اس بات کی علامت ہے کہ مصنف نے اقبال کی فکر کو صرف داخلی یا روایتی حوالوں تک محدود نہیں رکھا۔ اقبال کے تصورِ حیات، انسان، خودی اور تخلیقی قوت کو وسیع فکری تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔یہی تقابلی زاویہ اقبال شناسی کو ایک نئی معنویت عطا کرتا ہے، کیونکہ اقبال کی فکر خود مشرق و مغرب کے فکری مکالمے کا ایک اہم نمونہ ہے۔اقبال کی شاعری میں فکری گہرائی کے ساتھ جمالیاتی حسن بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اقبال کے یہاں الفاظ محض خیالات کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنی صوتی، تصویری اور معنوی قوت کے ساتھ ایک جمالیاتی فضا تشکیل دیتے ہیں۔اقبال کی شعری زبان میں فارسی تراکیب، عربی الفاظ، قرآنی تلمیحات، تاریخی حوالوں اور علامتی پیکروں کا استعمال ایک مخصوص شعری آہنگ پیدا کرتا ہے۔ ان کی نظموں میں منظر نگاری، مکالمہ، خطاب، تمثیل اور قصہ گوئی جیسے فنی عناصر بھی نمایاں ہیں۔کتاب کے تحقیقی تناظر میں یہ بات اہم ہے کہ فن کو صرف ’’پیغام‘‘ کا تابع نہیں سمجھا گیا بلکہ ادبی فن کی اپنی خود مختار اقدار کی طرف بھی توجہ مبذول ہوتی ہے۔ کتاب میں فن اور اس کے داخلی معیار کے حوالے سے مغربی جمالیاتی مباحث سے استفادہ بھی نظر آتا ہے۔
اقبال پر تحقیق کی ایک طویل روایت موجود ہے۔ ابتدائی اقبال شناسوں سے لے کر موجودہ عہد کے محققین تک مختلف اہلِ علم نے اقبال کے فن و فکر کے نئے گوشے دریافت کیے ہیں۔ زیرِ نظر کتاب کی اہمیت یہ ہے کہ یہ اسی تحقیقی روایت میں ایک نئے مطالعے کا اضافہ کرتی ہے۔کتاب کے ابتدائی مباحث میں اقبال کے فن اور فکر سے متعلق مختلف تحقیقی مطالعات، مقالات اور علمی سرگرمیوں کا حوالہ ملتا ہے۔ مختلف برسوں میں ہونے والی تحقیق کا اندراج اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اقبال شناسی ایک مسلسل جاری رہنے والا علمی عمل ہے۔یہ کتاب اسی تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے اقبال کے فن کو ’’تحقیق کے آئینے‘‘ میں دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ ’’نورِ تحقیق‘‘ کی ترکیب بھی معنی خیز ہے؛ تحقیق یہاں محض معلومات جمع کرنے کا عمل نہیں بلکہ متن کے پوشیدہ معنوی اور فنی امکانات کو روشن کرنے کا وسیلہ بنتی ہے۔کسی بھی تحقیقی کتاب کی قدر و قیمت کا ایک اہم پیمانہ اس کا حوالہ جاتی نظام ہوتا ہے۔ زیرِ نظر کتاب میں اردو کے ساتھ انگریزی علمی ماخذوں سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ حوالہ جات میں اقبال کے حوالے سے بنیادی اور ثانوی مطالعات کے علاوہ فلسفہ، جمالیات اور شعریات سے متعلق علمی کتب کا ذکر بھی موجود ہے۔اس طرزِ تحقیق سے کتاب کے علمی دائرے میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور اقبال کے فن کو محض ایک ادبی شخصیت کے مطالعے کے بجائے بین العلومی تناظر میں دیکھنے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔کتاب کی فہرست سے اندازہ ہوتا ہے کہ مختلف موضوعات کو الگ الگ ابواب یا مباحث میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس ترتیب سے قاری کو اقبال کے فن کے مختلف پہلوؤں تک مرحلہ وار رسائی حاصل ہوتی ہے۔ فہرست میں اقبال کے فن، فکر، شعری اسلوب، مختلف فکری و فنی جہات اور اقبال شناسی سے متعلق متعدد عنوانات شامل ہیں۔
یہ موضوعاتی تقسیم کتاب کو ایک ایسی تحقیقی دستاویز بنا دیتی ہے جسے اقبال کے فن پر مزید تحقیق کرنے والے طلبہ اور محققین بھی معاون ماخذ کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔آج کا انسان علمی ترقی، سائنسی انقلاب، مادیت، تہذیبی کشمکش، شناخت کے بحران اور سماجی تبدیلیوں کے ایک پیچیدہ دور سے گزر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اقبال کی شاعری کی معنویت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اقبال انسان کو محض حالات کا تابع بننے کے بجائے اپنے اندر موجود تخلیقی قوت کو پہچاننے، عمل اختیار کرنے اور اپنی اجتماعی ذمہ داری کو سمجھنے کی دعوت دیتے ہیں۔
اسی لیے اقبال کے فن پر نئی تحقیق صرف ماضی کی ادبی شخصیت کا مطالعہ نہیں بلکہ موجودہ عہد کے فکری مسائل کو سمجھنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ ’’اقبال کا فن: نورِ تحقیق کے آئینے میں‘‘ اسی اعتبار سے ایک اہم علمی کاوش قرار پاتی ہے کہ یہ اقبال کو ایک جامد تاریخی شخصیت کے بجائے ایک زندہ فکری و فنی حوالہ سمجھنے کی راہ دکھاتی ہے۔اس کتاب کی نمایاں خصوصیات کو درج ذیل نکات میں سمیٹا جا سکتا ہے۔اقبال کے فن کو تحقیقی اور تنقیدی زاویے سے دیکھنے کی کوشش، اقبال کے فنی اور فکری پہلوؤں کو باہم مربوط انداز میں پیش کرنا،اقبال شناسی کی سابقہ روایت سے استفادہ، اردو کے ساتھ انگریزی علمی ماخذوں سے بھی رجوع،اقبال کے فن کو جمالیاتی اور فکری دونوں حوالوں سے دیکھنا، قرآن، اسلام، مشرقی تہذیب اور مغربی فکر کے ساتھ اقبال کے تعلق کو سمجھنے کی کوشش، مختلف موضوعات کو باقاعدہ ابواب اور مباحث میں تقسیم کرنا، اقبال کے شعری فن کو عصرِ حاضر کے فکری تناظر سے جوڑنے کا امکان۔’’اقبال کا فن: نورِ تحقیق کے آئینے میں‘‘ کی بنیادی قدر اس کے موضوع کے انتخاب میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ اقبال جیسے وسیع اور کثیرالجہات شاعر کو ’’تحقیق‘‘ کے آئینے میں دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اقبال پر عمومی نوعیت کی تحریروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، مگر سنجیدہ اقبال شناسی کا تقاضا ہے کہ ہر نئی تحقیق سابقہ نتائج کو دہرانے کے بجائے نئے سوالات پیدا کرے، نئے متنی شواہد سامنے لائے اور اقبال کے فن کی نئی معنوی جہتوں کو آشکار کرے۔
اس کتاب کو اسی تحقیقی تسلسل میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے صفحات میں اقبال کے فن سے متعلق متعدد علمی مباحث اور حوالہ جات کا اجتماع اسے محض تعارفی کتاب کے بجائے تحقیقی نوعیت کی تصنیف بناتا ہے۔
’’اقبال کا فن: نورِ تحقیق کے آئینے میں‘‘ اقبال شناسی کے وسیع منظرنامے میں ایک قابلِ توجہ تحقیقی کاوش ہے۔ یہ کتاب اقبال کے فن کو محض عقیدت کی نگاہ سے نہیں بلکہ تحقیق، مطالعے، تنقید اور علمی استدلال کے آئینے میں دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہی اس کی بنیادی معنویت ہے۔
اقبال کی شاعری ایک ایسی تخلیقی دنیا ہے جس میں فکر، جذبہ، فلسفہ، مذہب، تہذیب، تاریخ اور جمالیات ایک دوسرے سے مربوط ہو جاتے ہیں۔ اس لیے اقبال کے فن کی تفہیم بھی ایک کثیرالجہتی تحقیقی عمل کا تقاضا کرتی ہے۔ زیرِ نظر کتاب اسی عمل کو آگے بڑھاتی ہے اور قاری کو یہ احساس دلاتی ہے کہ اقبال کو سمجھنے کا سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔کتاب کا عنوان ’’اقبال کا فن: نورِ تحقیق کے آئینے میں‘‘ اپنے اندر پوری کتاب کے مزاج کی ترجمانی کرتا ہے۔ اقبال کا فن ایک وسیع آئینہ ہے اور تحقیق اس آئینے پر پڑنے والی وہ روشنی ہے جو اس کے مختلف رنگوں، پرتوں اور معنوی جہتوں کو نمایاں کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب اقبال کے طالب علم، محقق، استاد اور عام ذوق رکھنے والے قاری، سب کے لیے اقبال کے فنی مطالعے کی طرف ایک مفید پیش قدمی ثابت ہو سکتی ہے۔ “اقبال کا فن: نورِ تحقیق کے آئینے میں ” ایک نئے زاویۂ نظر کے مطالعہ کی متقاضی کتاب ہے۔اردو ادب کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے بارے میں جتنا لکھا جائے، ان کے فکری اور فنی وجود کے نئے گوشے اتنے ہی نمایاں ہوتے چلے جاتے ہیں۔ علامہ محمد اقبال بھی ایسی ہی ہمہ جہت شخصیت ہیں۔ وہ شاعر بھی ہیں، مفکر بھی؛ فلسفی بھی ہیں، مصلح بھی؛ تہذیبی شعور کے ترجمان بھی ہیں اور انسانی عظمت کے پیامبر بھی۔ ان کی شاعری اپنے عہد کی آواز ہونے کے ساتھ ساتھ آنے والے زمانوں کے لیے بھی فکری رہنمائی کا سامان رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال شناسی کا سفر ایک مسلسل جاری رہنے والا علمی عمل ہے۔’’اقبال کا فن: نورِ تحقیق کے آئینے میں‘‘ اسی مسلسل تحقیقی سفر کی ایک اہم کڑی ہے۔ یہ کتاب اقبال کے فن کو محض عقیدت یا رسمی تحسین کے زاویے سے نہیں دیکھتی بلکہ تحقیق، تنقید، مطالعے اور فکری تجزیے کے ذریعے اقبال کی شاعری کے مختلف پہلوؤں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ کتاب کا عنوان ہی اس کے بنیادی مزاج کی وضاحت کر دیتا ہے۔ ’’نورِ تحقیق‘‘ ایک ایسی روشنی کا استعارہ ہے جو متن کی ظاہری سطح سے آگے بڑھ کر اس کے اندر پوشیدہ معنوی جہتوں کو آشکار کرتی ہے۔اقبال کو صرف شاعر کہنا ان کے تخلیقی وجود کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ ان کی شاعری میں ایک پورا عہد سانس لیتا ہے۔ غلامی کا دکھ، آزادی کی آرزو، ملت کا تصور، فرد کی خود آگاہی، عشق کی قوت، عقل کی حدود، عمل کی ضرورت، روحانی بالیدگی اور انسانی وقار—یہ سب ان کے شعری نظام کا حصہ ہیں۔ان کے ہاں شعر محض الفاظ کا حسین امتزاج نہیں بلکہ ایک فکری تحریک بھی ہے۔ اقبال کا شعر قاری کو متاثر کرنے کے ساتھ اسے متحرک بھی کرتا ہے۔ یہی وصف ان کے فن کو دوسرے شعرا سے ممتاز کرتا ہے۔ ’’اقبال کا فن: نورِ تحقیق کے آئینے میں‘‘ اسی امتیاز کو مختلف علمی زاویوں سے سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔اس کتاب کی اہمیت اس لیے بھی نمایاں ہے کہ اقبال پر پہلے سے موجود وسیع تحقیقی سرمایہ اپنی جگہ ایک بڑا علمی ورثہ ہے۔ اقبال کی شخصیت اور شاعری کے بارے میں کئی نسلوں کے اہلِ علم نے اپنی آرا پیش کی ہیں۔ ایسے ماحول میں کوئی نئی کتاب اس وقت زیادہ اہم ہو جاتی ہے جب وہ محض سابقہ آرا کو دہرانے کے بجائے انہیں نئے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرے۔زیرِ نظر کتاب میں مختلف تحقیقی مباحث، علمی حوالوں اور اقبال شناسی سے متعلق مطالعات کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف نے اقبال کے فن کو ایک محدود ادبی موضوع کے طور پر نہیں بلکہ وسیع فکری اور تحقیقی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔کتاب کے عنوان میں ’’نور‘‘ اور ’’تحقیق‘‘ کا امتزاج نہایت معنی خیز ہے۔ تحقیق اگر صرف معلومات کا انبار بن جائے تو وہ قاری کو متن کی روح تک نہیں پہنچا سکتی۔ حقیقی تحقیق وہ ہے جو سوال پیدا کرے، متن کو نئے سرے سے پڑھے، مختلف امکانات کو سامنے لائے اور کسی ادبی تخلیق کی پوشیدہ معنویت کو روشن کرے۔اقبال کی شاعری چونکہ تہہ دار اور کثیرالمعنی ہے، اس لیے اس کی تفہیم بھی ایک ہی زاویے سے ممکن نہیں۔ ایک شعر میں فلسفیانہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے، روحانی اشارہ بھی، تاریخی پس منظر بھی اور جمالیاتی حسن بھی۔ اس کتاب کی تحقیقی اہمیت اسی وسیع مطالعے کے امکان میں پوشیدہ ہے۔اقبال کی شاعری کا سب سے نمایاں وصف فکر اور فن کا امتزاج ہے۔ ان کے یہاں فلسفہ خشک علمی بحث بن کر نہیں آتا بلکہ شعری تجربے میں ڈھل جاتا ہے۔ خودی، عشق، عمل، حریت، ملت اور مردِ مومن جیسے تصورات اقبال کے ہاں صرف نظری اصطلاحات نہیں رہتے بلکہ شعری علامتوں اور پیکروں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔اقبال کے فن کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے کہ ان کی فکر اور شاعری ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ فکر ان کے شعر کو معنوی گہرائی عطا کرتی ہے اور فن اس فکر کو اثر انگیز اور دل نشیں بنا دیتا ہے۔ یہی باہمی ربط اقبال کے شعری کمال کی بنیاد ہے۔اقبال کی شاعری کا ایک اہم مرکز ’’انسان‘‘ ہے۔ ان کے نزدیک انسان محض حالات کا بے اختیار تابع نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنی زندگی کی سمت متعین کر سکتا ہے۔ ان کا تصورِ خودی انسان کو خود شناسی، خود اعتمادی، عمل اور تخلیقی قوت کی طرف لے جاتا ہے۔اقبال کے ’’مردِ مومن‘‘ اور ’’شاہین‘‘ جیسے شعری پیکر بھی اسی تصورِ انسان کے مختلف پہلوؤں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ علامتیں بلند ہمتی، آزادی، حرکت، جستجو اور مسلسل جدوجہد کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
کتاب کے تنقیدی مطالعے میں اقبال کے فن کو سمجھنے کے لیے ایسے فکری تصورات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ اقبال کا فنی نظام ان کے تصورِ حیات سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
اقبال کی فکر کی بنیادوں میں قرآنی شعور کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ قرآن ان کے لیے صرف مذہبی مطالعے کا متن نہیں بلکہ زندگی، انسان، اخلاق، اجتماع اور تہذیب کو سمجھنے کا بنیادی سرچشمہ ہے۔
ان کی شاعری میں قرآنی تلمیحات، انبیائے کرامؑ کے واقعات، اسلامی تاریخ اور دینی تصورات بار بار جلوہ گر ہوتے ہیں۔ لیکن اقبال ان حوالوں کو محض تاریخی واقعات کے طور پر استعمال نہیں کرتے بلکہ انہیں عصرِ حاضر کے انسان سے مکالمے کا وسیلہ بنا دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اقبال کے فن کی تفہیم میں مذہبی اور تہذیبی شعور کو نظر انداز کرنا ان کی شاعری کے ایک بڑے حصے سے صرفِ نظر کرنے کے مترادف ہوگا۔
مشرق اور مغرب دونوں سے وابستہ ہے۔ انہوں نے مغربی فلسفے اور جدید فکری مباحث کا گہرا مطالعہ کیا، لیکن اندھی تقلید کے بجائے تنقیدی رویہ اختیار کیا۔ وہ مغرب کی علمی، سائنسی اور تحقیقی قوتوں سے متاثر ہوئے مگر اس کی مادہ پرستانہ ترجیحات پر سوال بھی اٹھاتے رہے۔
زیرِ نظر کتاب کے حوالہ جاتی مزاج میں بھی مشرقی اور مغربی علمی روایتوں سے استفادہ دکھائی دیتا ہے۔ اس سے اقبال کے فن کو وسیع عالمی فکری منظرنامے میں دیکھنے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔اقبال کی شاعری کی قوت صرف اس کے پیغام میں نہیں بلکہ اس کے اظہار میں بھی ہے۔ ان کی زبان میں فارسی اور عربی الفاظ و تراکیب کا حسین امتزاج، قرآنی تلمیحات، تاریخی اشارے، علامتی پیکر، مکالماتی انداز، خطیبانہ آہنگ اور موسیقیت ایک منفرد شعری فضا پیدا کرتے ہیں۔ان کی نظموں میں کہیں داستانی انداز ملتا ہے، کہیں مکالمہ، کہیں خطاب اور کہیں تمثیل۔ وہ ایک ہی فکری مضمون کو مختلف شعری پیکروں میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی فنی تنوع ان کے کلام کو بار بار پڑھنے کے قابل بناتا ہے۔اقبال کی شاعری علامتوں اور استعاروں سے مالا مال ہے۔ شاہین، مردِ مومن، صحرا، کوہ، دریا، ستارے، آسمان اور پرواز جیسے پیکر ان کے ہاں محض خارجی اشیا نہیں بلکہ وسیع فکری مفاہیم کے حامل ہیں۔
خصوصاً ’’شاہین‘‘ اقبال کے شعری نظام میں ایک ایسی علامت بن جاتا ہے جس میں آزادی، بلند پروازی، خود اعتمادی، حرکت اور جستجو کے متعدد مفاہیم سمٹ آتے ہیں۔اسی طرح ’’خودی‘‘ بھی محض ایک فلسفیانہ اصطلاح نہیں بلکہ اقبال کے پورے فکری اور فنی نظام کا مرکزی استعارہ بن جاتی ہے۔ کتاب کا تحقیقی زاویہ ایسے ہی فنی عناصر کو نئے معنیاتی تناظر میں دیکھنے کی راہ فراہم کرتا ہے۔عام طور پر فکری شاعری کے بارے میں یہ تصور پیدا ہو جاتا ہے کہ اس میں جمالیاتی حسن کم ہوتا ہے، لیکن اقبال اس تصور کی نفی کرتے ہیں۔ ان کے ہاں خیال کی بلندی اور اظہار کی خوب صورتی ساتھ ساتھ چلتی ہے۔اقبال کا شعر ذہن کو بھی متوجہ کرتا ہے اور احساس کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ان کے ہاں موسیقیت، پیکر تراشی، تشبیہ، استعارہ اور منظر نگاری فکر کو شعری حسن عطا کرتے ہیں۔ یوں ان کا فن محض فلسفے کی شاعرانہ ترجمانی نہیں رہتا بلکہ اپنی مستقل جمالیاتی قدر پیدا کرتا ہے۔اقبال کا مطالعہ صرف ماضی کی ادبی تاریخ کو سمجھنے کے لیے نہیں کیا جاتا۔ ان کے افکار آج بھی مختلف سطحوں پر سوالات پیدا کرتے ہیں۔ فرد کی ذمہ داری، اجتماعی شعور، اخلاقی تعمیر، خود اعتمادی، علم، عمل، تہذیبی شناخت اور انسانی آزادی جیسے موضوعات آج بھی اہم ہیں۔اس تناظر میں ’’اقبال کا فن: نورِ تحقیق کے آئینے میں‘‘ محض ایک تاریخی یا روایتی مطالعہ نہیں رہتی بلکہ موجودہ عہد میں اقبال کے فن کی معنویت پر غور کا وسیلہ بھی بنتی ہے۔کتاب کی ایک قابلِ ذکر خوبی یہ ہے کہ اس میں اقبال کو ایک ہی زاویے سے دیکھنے کے بجائے مختلف علمی امکانات کو سامنے رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں تحقیق، تنقید، شعریات، جمالیات، فلسفہ اور تہذیبی شعور کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔کتاب کے حوالہ جاتی مواد سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف نے مختلف نوعیت کے علمی ماخذوں سے استفادہ کیا ہے۔ اس طرح یہ کتاب اقبال کے طالب علم کے لیے محض مطالعے کا سامان نہیں بلکہ مزید تحقیق کے لیے بھی راستے کھولتی ہےتحقیق کا اصل حسن یہ ہے کہ وہ سوال کو زندہ رکھتی ہے۔ اقبال کے فن پر تحقیق کرنے والے ہر عہد کے محقق کے سامنے ایک نیا مسئلہ موجود رہتا ہے، کیونکہ اقبال کا متن ہر نئے دور میں نئے سوالات پیدا کرتا ہے۔اس کتاب کی معنویت بھی اسی حوالے سے سامنے آتی ہے کہ یہ اقبال کو ایک مکمل اور بند باب سمجھنے کے بجائے ایک زندہ ادبی و فکری حقیقت کے طور پر دیکھنے کا امکان فراہم کرتی ہے۔ اقبال کا فن جتنا پڑھا جاتا ہے، اتنی ہی نئی جہتیں سامنے آتی ہیں۔’’اقبال کا فن: نورِ تحقیق کے آئینے میں‘‘ کو اقبال شناسی کے موجودہ تحقیقی منظرنامے میں ایک سنجیدہ علمی کاوش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کتاب میں اقبال کے فن کو فکری، فنی، جمالیاتی اور تحقیقی زاویوں سے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ کتاب اس بنیادی حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ اقبال کی شاعری کو صرف اشعار کے مجموعے کے طور پر پڑھنا کافی نہیں۔ اس کے پس منظر، فکری ساخت، علامتی نظام، تہذیبی شعور، مذہبی بنیادوں اور فنی اظہار کو باہم ملا کر دیکھا جائے تو اقبال کی شعری شخصیت کی اصل وسعت سامنے آتی ہے۔اقبال کا فن ایک وسیع سمندر کی مانند ہے۔ اس میں فکر کی گہرائی بھی ہے، جذبے کی روانی بھی، تہذیب کی خوشبو بھی، تاریخ کی بازگشت بھی اور مستقبل کی امید بھی۔ ایسے فن کو سمجھنے کے لیے محض ذوق کافی نہیں؛ تحقیق کی روشنی، تنقیدی بصیرت اور گہرے مطالعے کی ضرورت ہوتی ہے۔’’اقبال کا فن: نورِ تحقیق کے آئینے میں‘‘ اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اقبال کے فنی وجود پر غور کا ایک علمی راستہ فراہم کرتی ہے۔ اس کتاب کی اصل اہمیت یہ ہے کہ یہ اقبال کے فن کو محض عقیدت کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے سوال، تحقیق اور تجزیے کی روشنی میں پرکھنے کی دعوت دیتی ہے۔اقبال کا کمال یہ ہے کہ وہ ہر دور میں نئے معنی پیدا کرتے ہیں، اور اقبال شناسی کا کمال یہ ہے کہ وہ ان نئے معنی تک پہنچنے کے لیے نئے راستے تلاش کرتی رہتی ہے۔ زیرِ نظر کتاب اسی تلاش، جستجو اور دریافت کے سفر کا ایک اہم پڑاؤ ہے۔ اس اعتبار سے یہ کتاب اقبال کے فن کے طالب علموں، اساتذہ، محققین اور سنجیدہ قارئین کے لیے قابلِ توجہ علمی سرمایہ بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *