Banner
Daily Sahafat Quetta
September 1, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
لاہور ہائیکورٹ کا خلع، حق مہر، جہیز اور گھر کی ملکیت سے متعلق اہم فیصلہ جاریراولپنڈی اسلام آباد میں شدید بارش سے نظام زندگی درہم برہم، عام تعطیل کا اعلان، فوج اسٹینڈ بائیسندھ کابینہ کا بڑا فیصلہ؛ پاسکو سے 2 لاکھ 23 ہزار ٹن سے زائد گندم خریدنے کی منظوریGen Alpha کے بچے ،ہماری آنے والی نسل کیسی ہوگی؟عمر کے افق پر ابنِ سینا کی روشنی ڈاکٹر کمال آیدن کا علمی و انسانی سفرسندھ طاس معاہدہ برقرار، عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی کامیابی ہے،وزیراعلیٰ بلوچستانزیارت کراس پر مسلح افراد کا حملہ، فائرنگ کے بعد کسٹم ویئر ہاؤس میں آتشزدگی، 5 اہلکار جاں بحقکشمیر کی پکار اور ہماری خاموشیTNDER NOTICE /dprq/prq No.1118/31-8-2026NOTICE INVITING TENDER Dprq/prq no.1106/31-08-2026لاہور ہائیکورٹ کا خلع، حق مہر، جہیز اور گھر کی ملکیت سے متعلق اہم فیصلہ جاریراولپنڈی اسلام آباد میں شدید بارش سے نظام زندگی درہم برہم، عام تعطیل کا اعلان، فوج اسٹینڈ بائیسندھ کابینہ کا بڑا فیصلہ؛ پاسکو سے 2 لاکھ 23 ہزار ٹن سے زائد گندم خریدنے کی منظوریGen Alpha کے بچے ،ہماری آنے والی نسل کیسی ہوگی؟عمر کے افق پر ابنِ سینا کی روشنی ڈاکٹر کمال آیدن کا علمی و انسانی سفرسندھ طاس معاہدہ برقرار، عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی کامیابی ہے،وزیراعلیٰ بلوچستانزیارت کراس پر مسلح افراد کا حملہ، فائرنگ کے بعد کسٹم ویئر ہاؤس میں آتشزدگی، 5 اہلکار جاں بحقکشمیر کی پکار اور ہماری خاموشیTNDER NOTICE /dprq/prq No.1118/31-8-2026NOTICE INVITING TENDER Dprq/prq no.1106/31-08-2026

عمر کے افق پر ابنِ سینا کی روشنی ڈاکٹر کمال آیدن کا علمی و انسانی سفر

عمر کے افق پر ابنِ سینا کی روشنی
ڈاکٹر کمال آیدن کا علمی و انسانی سفر

منشاقاضی
حسبِ منشا

انسانی زندگی کا سفر محض پیدائش سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے تک پہنچنے کا نام نہیں، بلکہ یہ تجربے، دانش، یادداشت اور انسانی وقار کی ایک مسلسل داستان ہے۔ عمر کا بڑھنا اگرچہ فطرت کا اٹل قانون ہے، مگر بڑھتی ہوئی عمر کو صحت، عزت، فعالیت اور خوش حالی کے ساتھ گزارنے کا حق ہر انسان کا بنیادی انسانی حق ہے۔ اسی وسیع اور انسان دوست تصور کو عالمی سطح پر علمی، تحقیقی اور عملی جہت دینے والی نمایاں شخصیات میں ڈاکٹر کمال آیدن کا نام خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
ڈاکٹر کمال آیدن ترکیہ کے معروف صحت و سماجی پالیسی ماہر، ماہرِ عمرانیاتِ عمر رسیدگی (Gerontology)، بین الاقوامی تعاون کے داعی اور صحت مند عمر رسیدگی کے شعبے میں ایک متحرک اور صاحبِ بصیرت شخصیت ہیں۔ وہ ابنِ سینا انسٹی ٹیوٹ کے بانی و صدر اور ورلڈ ایجنگ کونسل (World Ageing Council – WAC) کے صدر کی حیثیت سے صحت، عمر رسیدگی، سماجی تحفظ اور انسانی ترقی کے مختلف پہلوؤں کو ایک مربوط فکری دائرے میں دیکھنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
ان کے فکری سفر کی ایک خوب صورت خصوصیت یہ ہے کہ وہ عمر رسیدگی کو صرف بیماری، کمزوری یا طبی نگہداشت کا مسئلہ نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک ایک عمر رسیدہ انسان صرف ایک مریض نہیں بلکہ تجربات، صلاحیتوں، یادوں اور انسانی وقار کا حامل ایک مکمل وجود ہے۔ اسی لیے وہ صحت مند عمر رسیدگی کو صحت عامہ کے ساتھ ساتھ سماجی پالیسی، معیشت، شہری منصوبہ بندی، ٹیکنالوجی، سماجی تحفظ اور انسانی حقوق سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔
ڈاکٹر کمال آیدن کے وژن میں صحت کا مفہوم ہسپتال کی چار دیواری سے کہیں وسیع ہے۔ ایک صحت مند معاشرہ وہ ہے جہاں انسان کو عمر کے ہر مرحلے میں باوقار زندگی میسر ہو، جہاں شہر بزرگوں کے لیے قابلِ رسائی ہوں، جہاں ٹیکنالوجی انسان کو تنہائی سے نکال کر سہولت اور رابطے کی دنیا سے جوڑے، اور جہاں سماجی پالیسی عمر رسیدہ افراد کو بوجھ نہیں بلکہ معاشرے کا فعال حصہ تصور کرے۔
اسی سوچ کے تحت ان کی خدمات جیرونٹولوجی، صحت مند عمر رسیدگی، صحت عامہ، ہیلتھ پالیسی، سماجی تحفظ، طبی تعلیم، تحقیق اور پائیدار ترقی جیسے متعدد شعبوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کا کام اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ دنیا بھر میں عمر رسیدہ آبادی میں اضافے کے ساتھ معاشروں کو اپنی صحت، سماجی بہبود، رہائش، ٹرانسپورٹ، ٹیکنالوجی اور شہری منصوبہ بندی کے تصورات بھی نئے سرے سے ترتیب دینا ہوں گے۔
ڈاکٹر کمال آیدن کی شخصیت کا ایک اہم اور قابلِ ذکر پہلو پاکستان کے ساتھ ان کا خصوصی تعلق ہے۔ انہوں نے علامہ اقبال میڈیکل کالج، پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، یوں پاکستان ان کی علمی زندگی کے سفر میں محض ایک ملک نہیں بلکہ ایک اہم فکری اور تعلیمی پڑاؤ کی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی، تہذیبی اور برادرانہ روابط ہمیشہ سے ایک مضبوط بنیاد رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر کمال آیدن ان تعلقات کو صحت، تعلیم، تحقیق، صحت مند عمر رسیدگی اور علمی و بین الاقوامی تعاون کے میدان میں مزید بامعنی بنانے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی کاوشیں اس امر کی علامت ہیں کہ دو ممالک کے درمیان تعلق صرف سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہتا بلکہ علم، تحقیق اور انسانی خدمت کے ذریعے بھی نئی جہتیں اختیار کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر کمال آیدن کی علمی و فکری کاوشوں کا ایک اہم مرکز ابنِ سینا انسٹی ٹیوٹ ہے۔ اس ادارے کا نام مسلم دنیا کے عظیم طبیب، فلسفی، مفکر اور دانش ور ابنِ سینا سے منسوب ہے۔ یہ نام خود ایک فکری اعلان کی حیثیت رکھتا ہے کہ ماضی کی علمی میراث کو مستقبل کے مسائل کے حل سے جوڑا جا سکتا ہے۔
ابنِ سینا انسٹی ٹیوٹ ایک بین الاقوامی علمی، تحقیقی اور تعاون کا پلیٹ فارم ہے جو صحت، صحت عامہ، جیرونٹولوجی، صحت مند عمر رسیدگی، طبی تعلیم، تحقیق، ہیلتھ پالیسی، صحت و سیاحت، ڈیجیٹل ہیلتھ اور بین الاقوامی علمی تعاون جیسے شعبوں میں سرگرم ہے۔
ادارے کی بنیادی روح مختلف ممالک کے ماہرین، جامعات، حکومتوں، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کو ایک مشترکہ علمی دائرے میں جمع کرنا ہے، تاکہ تحقیق اور تجربے کو محض کاغذوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے عملی منصوبوں اور پائیدار معاشرتی تبدیلی میں تبدیل کیا جا سکے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ابنِ سینا کی طبی حکمت، جدید سائنس کی بصیرت اور بین الاقوامی تعاون کا تصور ایک دوسرے سے ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔
ڈاکٹر کمال آیدن کی قیادت میں ابنِ سینا انسٹی ٹیوٹ اور ورلڈ ایجنگ کونسل ایسے تصورات کو بھی فروغ دے رہے ہیں جن میں Eco & Age-Friendly Smart Cities and Towns خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
یہ تصور دراصل مستقبل کے شہر کی ایک ایسی تصویر پیش کرتا ہے جہاں ترقی صرف بلند عمارتوں، تیز رفتار ٹیکنالوجی اور جدید انفراسٹرکچر کا نام نہ ہو، بلکہ شہر انسان دوست، ماحول دوست، جامع اور ہر عمر کے افراد کے لیے قابلِ رہائش ہوں۔
ایک عمر دوست شہر میں بزرگ افراد کے لیے محفوظ راستے، قابلِ رسائی عمارتیں، مناسب صحت کی سہولیات، سماجی سرگرمیوں کے مواقع، ڈیجیٹل خدمات اور باوقار طرزِ زندگی کی سہولت موجود ہو۔ دوسری جانب ماحول دوست اور اسمارٹ شہر ٹیکنالوجی کو انسانی ضرورت اور ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہیں۔
یوں ڈاکٹر کمال آیدن کا تصور محض عمر رسیدہ افراد کے لیے سہولت پیدا کرنے تک محدود نہیں بلکہ ایسے معاشرے کی تعمیر کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں بچپن، جوانی اور بڑھاپا—زندگی کا ہر مرحلہ شہری حقوق اور انسانی وقار کے ساتھ جیا جا سکے۔
آج کی دنیا میں صحت ایک ایسا موضوع بن چکی ہے جو سرحدوں سے ماورا ہے۔ وبائیں، بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی، ذہنی و جسمانی صحت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور صحت عامہ کے مسائل کسی ایک ملک کے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے مشترکہ مسائل ہیں۔ ایسے میں Health Diplomacy یعنی صحت سفارت کاری کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ڈاکٹر کمال آیدن کا وژن اسی وسیع عالمی تناظر سے جڑا ہوا ہے۔ وہ صحت کو مختلف قوموں اور معاشروں کے درمیان تعاون، مکالمے اور علمی شراکت کا وسیلہ سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک تحقیق کا اصل حسن تب ظاہر ہوتا ہے جب وہ انسانی زندگی کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرے اور علم کی اصل معنویت تب پیدا ہوتی ہے جب وہ سرحدوں سے نکل کر انسانیت کے لیے مشترکہ سرمایہ بن جائے۔
ڈاکٹر کمال آیدن کی فکری جدوجہد کا خلاصہ یہ ہے کہ عمر بڑھنا زندگی کا اختتام نہیں، زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ اس باب کو بیماری، تنہائی اور بے مصرفی کے بجائے صحت، فعالیت، احترام اور معنویت سے عبارت ہونا چاہیے۔
ابنِ سینا انسٹی ٹیوٹ اور ورلڈ ایجنگ کونسل کے ذریعے ان کی کاوشیں اس وسیع تر خواب کی عکاسی کرتی ہیں جس میں علم صرف کتابوں میں محفوظ نہیں رہتا، بلکہ پالیسی بنتا ہے؛ تحقیق صرف مقالوں میں نہیں ٹھہرتی، بلکہ معاشروں کو بدلتی ہے؛ ٹیکنالوجی صرف مشین نہیں رہتی، بلکہ انسانی زندگی کی معاون بنتی ہے؛ اور شہر صرف عمارتوں کا مجموعہ نہیں رہتے، بلکہ انسانی وقار کے مسکن بن جاتے ہیں۔ ڈاکٹر کمال آیدن کا سفر دراصل جدید دنیا کے سامنے ایک اہم سوال رکھتا ہے: کیا ہماری ترقی انسان کی عمر بڑھانے کے ساتھ اس کی زندگی کو بھی بہتر بنا رہی ہے؟
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ان کی کوششیں صحت، عمر رسیدگی، علم، سفارت کاری اور انسانی ترقی کے مختلف راستوں کو ایک نقطے پر جمع کرتی ہیں۔ شاید یہی ان کے وژن کی سب سے بڑی خوب صورتی ہے کہ وہ بڑھاپے کو زندگی کا زوال نہیں بلکہ تجربے کی روشنی سمجھتے ہیں—اور چاہتے ہیں کہ آنے والی دنیا اس روشنی کے لیے اپنے شہروں، پالیسیوں اور معاشرتی رویوں میں جگہ پیدا کرے۔ کیونکہ ایک مہذب معاشرے کی پہچان صرف یہ نہیں کہ وہ اپنے بچوں کے لیے کیا خواب دیکھتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بزرگوں کے لیے کتنی عزت، سہولت اور محبت محفوظ رکھتا ہے۔ کیفے موزراٹ کی افتتاحی تقریب میں ڈاکٹر سید رضا عباس زیدی اور ڈاکٹر حمزہ علی چوھدری سے ملاقات شاندار ، کامیاب اور مؤثر معلومات کا گنجِ گرانمایہ ثابت ہوئی ۔ سی ٹی این فورم کے سربراہ مسعود علی خان سے ملاقات اگلے ہفتے ہو گی

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *