Banner
Daily Sahafat Quetta
August 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سونا سستا ہوگیا، عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں چاندی مہنگیحکومت کو سرکاری اسپتال چلانے ہی نہیں چاہییں، بددعاؤں کے سوا ملتا کیا ہے؟ مصطفی کمالروزگار کی فراہمی کے لئے بلوچستان حکومت کے عملی اقداماتدبئی سے لاس اینجلس تک، عمر شوکت کا سرحد پار رئیل اسٹیٹ وژنمحمد صالح بلوچ کو سیکرٹری لائیو اسٹاک مقرر ہونے پر حبیب اللہ لونی و دیگر کی مبارکباداقتدار یہاں مستقبل وہاںمطالعہ کُتب کی فکری و تہذیبی ضرورتکوئٹہ: ویسٹرن بائی پاس پر غیر معیاری جوس یونٹ سیل، سامان ضبط، قانونی کارروائی شروعمعیشت کو بیرونی امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری پر منتقل کررہے ہیں، وزیر خزانہکرک میں پولیس موبائل پر آئی ای ڈی حملے میں ایک اہلکار جاں بحق اور 6 زخمیسونا سستا ہوگیا، عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں چاندی مہنگیحکومت کو سرکاری اسپتال چلانے ہی نہیں چاہییں، بددعاؤں کے سوا ملتا کیا ہے؟ مصطفی کمالروزگار کی فراہمی کے لئے بلوچستان حکومت کے عملی اقداماتدبئی سے لاس اینجلس تک، عمر شوکت کا سرحد پار رئیل اسٹیٹ وژنمحمد صالح بلوچ کو سیکرٹری لائیو اسٹاک مقرر ہونے پر حبیب اللہ لونی و دیگر کی مبارکباداقتدار یہاں مستقبل وہاںمطالعہ کُتب کی فکری و تہذیبی ضرورتکوئٹہ: ویسٹرن بائی پاس پر غیر معیاری جوس یونٹ سیل، سامان ضبط، قانونی کارروائی شروعمعیشت کو بیرونی امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری پر منتقل کررہے ہیں، وزیر خزانہکرک میں پولیس موبائل پر آئی ای ڈی حملے میں ایک اہلکار جاں بحق اور 6 زخمی

روزگار کی فراہمی کے لئے بلوچستان حکومت کے عملی اقدامات

روزگار کی فراہمی کے لئے بلوچستان حکومت کے عملی اقدامات
تحریر،اختر منگی

بے روزگاری ایک سنگین معاشرتی اور معاشی مسئلہ ہے جس کے کئی نقصانات ہیں۔ روزگار نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کے گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بے روزگاری غربت، مہنگائی، ذہنی دباؤ اور احساسِ محرومی میں اضافہ کرتی ہے۔ نوجوان اپنی صلاحیتوں کو مثبت انداز میں استعمال نہ کر سکنے کے باعث مایوسی کا شکار ہو سکتے ہیں۔اس کے نتیجے میں جرائم، منشیات اور دیگر سماجی برائیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ بے روزگاری ملکی معیشت کو بھی نقصان پہنچاتی ہے کیونکہ انسانی وسائل مؤثر طور پر استعمال نہیں ہوتے۔اس مسئلے کے حل کے لیے حکومت کو روزگار کے نئے مواقع، فنی تعلیم اور کاروباری سہولیات فراہم کرنے کے لیے موجود بلوچستان حکومت وزیراعلی میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی قیادت میں عملی طور پر اقدامات کر رہی ہے موجودہ حکومت بلوچستان وزیراعلی میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی قیادت میں نوجوانوں کو قابلیت، میرٹ اور اہلیت کی بنیاد پر روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، جو ایک خوش آئند اور مثبت پیش رفت ہے۔آج میں اپنی اس تحریر میں حکومت بلوچستان کے احکامات پر ڈویژنل سطح پر بےروزگاری کے خاتمے اور روزگار کی فراہمی کے حوالے سے جو اقدامات کیے گئے ہیں ان پر روشنی ڈالوں گا تعلیم، صحت، ریونیو سمیت دیگر اہم محکموں میں بھرتیوں کے عمل کو نچلی سطح تک منتقل کرنے اور اختیارات کی فراہمی سے نوجوانوں کے لیے سرکاری ملازمتوں کے دروازے کھل رہے ہیں۔میرٹ پر بھرتیوں سے نہ صرف باصلاحیت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہوگی بلکہ ان میں اعتماد اور مستقبل کے حوالے سے امید بھی پیدا ہوگی۔طویل عرصے سے بلوچستان کے نوجوان روزگار کے محدود مواقع اور احساسِ محرومی جیسے مسائل کا سامنا کرتے آئے ہیں،تاہم موجودہ حکومت کی جانب سے عملی اقدامات اس احساس محرومی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔مقامی سطح پر بھرتیوں کے اختیارات سے دور دراز علاقوں کے نوجوان بھی اپنی قابلیت ثابت کرکے قومی و صوبائی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں گے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی،چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو قمبر دشتی کے وژن اور ہدایات کے مطابق صوبے میں میرٹ، شفافیت اور نوجوانوں کو روزگار کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔اسی وژن کو عملی جامہ پہناتے ہوئے حالیہ عرصے کے دوران کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے حکام کی ہدایات پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ ریونیو میں بھرتیوں کے عمل کو شفاف بنانے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ تقریباً ایک دہائی کے طویل عرصے کے بعد محکمہ ریونیو میں مختلف آسامیوں پر بھرتیوں کا عمل شروع ہونا نوجوانوں کے لیے ایک بڑی خوشخبری اور امید کی کرن قرار دیا۔ اکاؤنٹنٹ، اسسٹنٹ، کمپیوٹر آپریٹر، ڈیٹا انٹری آپریٹر، جونیئر کلرک اور درجہ چہارم سمیت مختلف کیٹیگریز کی مجموعی طور پر 66 نشستوں کے لیے امیدواروں کے ٹیسٹ اور انٹرویوز کا انعقاد کیا گیا، جس میں میرٹ اور شفافیت کو بنیادی اصول بنایا گیااس عمل کی خاص بات یہ ہے کہ امیدواروں کو اپنی قابلیت اور اہلیت ثابت کرنے کے لیے مساوی مواقع فراہم کیے گئے، جبکہ بھرتی کے مراحل میں کسی بھی قسم کی سفارش یا غیر ضروری مداخلت کی حوصلہ شکنی کی گئی۔کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی نگرانی میں ہونے والے اس عمل سے نہ صرف محکمہ ریونیو میں طویل عرصے سے خالی آسامیوں کو پر کرنے میں مدد مل رہی ہے بلکہ سرکاری امور کی انجام دہی میں بھی بہتری اور تیزی آئی ہے روزگار کے مواقع کی فراہمی بالخصوص تعلیم یافتہ اور ہنرمند نوجوانوں کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے،کیونکہ باصلاحیت نوجوانوں کو میرٹ پر آگے بڑھنے کے مواقع ملنے سے ان میں ریاستی اداروں پر اعتماد مزید مضبوط ہوتا ہے۔بلوچستان جیسے وسیع و عریض صوبے میں نوجوانوں کو سرکاری اداروں میں شفاف طریقے سے روزگار فراہم کرنا احساس محرومی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔موجودہ حکومت کی پالیسی اور اعلیٰ حکام کے وژن کے مطابق اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے اور مقامی سطح پر میرٹ کی بنیاد پر بھرتیوں کا عمل نہ صرف انتظامی نظام کو مضبوط بناتا ہے بلکہ عام شہریوں کو بھی ریاستی نظام کے قریب لاتا ہے۔ نصیرآباد ڈویژن میں محکمہ ریونیو کی 66 نشستوں پر ٹیسٹ اور انٹرویوز کا شفاف انعقاد کے بعد آج 66 نوجوان روشن مستقبل کے ساتھ اپنے باعزت روزگار کے ساتھ ساتھ عوام کی خدمت میں مصروف عمل ہیں اس موقع یہ بھی بتانا پسند کروں گا کہ موجودہ حکومت کی مثبت پالیسیوں کے باعث عارضی بنیاد پر پٹواریوں کی تعیناتی کی گئی جس میں میرٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا گیا کمیٹی کے چیئرمین کمشنر صلاح الدین نورزئی نے ڈویژن بھر میں 69 پٹواری کی آسامیوں کیلئے قانونی کاروائی مکمل کی 95 امیدواروں نے حصہ لیا جس میں سے 67 پٹواریوں کا چناؤ کیا گیا 67 پٹواری عارضی بنیادوں پر تعیناتی میں 30 سال سے میرٹ کے منتظر امیدواروں جن میں عبدالجبار اور محمد صدیق شامل ہیں، کو پٹواری کے آرڈرز جاری کیے گئے۔یہ تمام اقدامات اعلیٰ حکام کی ہدایت پر شفافیت اور میرٹ کو یقینی بناتے ہوئے مکمل کئے گئے اس طرح ڈویژن بھر میں تعیناتی کے عمل کو یقینی بنایا گیا میں اپنی اس تحریر میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو قمبر دشتی کے ان احکامات اور وژن کو بھی عیاں کرنا مناسب سمجھوں گا جن کی روشنی میں کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی نے محکمہ ریونیو کے ملازمین کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائے۔ محکمہ ریونیو نصیرآباد ڈویژن میں ایک طویل عرصے سے عملہ مال کی ترقیوں کا عمل تعطل کا شکار تھا، جس کے باعث کئی ملازمین اپنی طویل خدمات کے باوجود ترقی کے منتظر تھے اور ان میں خاموش مایوسی جنم لے رہی تھی۔کمشنر صلاح الدین نورزئی نے ملازمین کی اس خاموش بے چینی اور مایوسی کو محسوس کرتے ہوئے معاملے کی اہمیت کو سمجھا اور فوری طور پر متعلقہ حکام کو متحرک کرکے ترقیوں کے عمل کو آگے بڑھایا۔ان کی خصوصی کاوشوں اور اعلیٰ حکام کی ہدایات پر عملدرآمد کے نتیجے میں مختلف کیٹیگریز سے تعلق رکھنے والے 55 ملازمین کی ترقی کا عمل مکمل کیا گیا،جو یقیناً ان ملازمین کے لیے ایک بڑی خوشی اور حوصلہ افزائی کا باعث ہے۔کئی برسوں سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے والے سرکاری ملازمین کے لیے ترقی صرف عہدے میں اضافہ نہیں بلکہ ان کی محنت، تجربے اور خدمات کا اعتراف بھی ہوتی ہے۔ اسی طرح لواحقین کوٹے کے حوالے سے بھی عرصے سے منتظر خاندانوں کی امیدیں وابستہ تھیں اور ان کی نظریں حکومتی فیصلے اور انتظامی اقدامات پر لگی ہوئی تھیں۔کمشنر صلاح الدین نورزئی نے اس معاملے کو بھی نظرانداز نہیں کیا بلکہ دستیاب قانونی اور انتظامی طریقہ کار کے مطابق اس مسئلے کو آگے بڑھانے کے لیے اقدامات کیے،جس سے طویل عرصے سے منتظر لواحقین میں بھی امید پیدا ہوئی نصیرآباد ڈویژن میں محکمہ ریونیو کے ملازمین کی ترقیوں اور لواحقین کوٹے سے متعلق اقدامات اس بات کی مثال ہیں کہ ایک حساس اور اہم محکمے میں طویل عرصے سے زیر التوا معاملات کو سنجیدگی، توجہ اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ کمشنر صلاح الدین نورزئی کی جانب سے ملازمین کے مسائل کو سمجھنا اور ان کے حل کے لیے بروقت اقدامات کرنا انتظامی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی کا بھی مظہر ہے۔ ایسے اقدامات سے ملازمین میں ادارے کے لیے وابستگی، کام کرنے کا جذبہ اور اعتماد مزید مضبوط ہوتا ہے۔ علاواہ ازیں نصیرآباد ڈویژن میں صحت کے شعبے کو درپیش مسائل کے تدارک اور عوام کو بنیادی و معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ کسی بھی معاشرے میں صحت کا مضبوط نظام عوامی فلاح و بہبود کی بنیادی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔بالخصوص دیہی علاقوں میں ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر طبی عملے کی کمی کے باعث دور دراز علاقوں سے آنے والے مریضوں کو علاج معالجے کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، تاہم وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی مثبت پالیسیوں اور عوام دوست اقدامات کی بدولت ان مسائل کے خاتمے کی جانب مؤثر پیش رفت جاری ہے۔اسی سلسلے میں نصیرآباد ڈویژن میں ریکروٹمنٹ کمیٹی کے چیئرمین کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی سربراہی میں میرٹ اور شفافیت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے چار مختلف فیزز میں میڈیکل آفیسرز، لیڈی میڈیکل آفیسرز، ڈینٹل سرجنز اور نرسنگ اسٹاف سمیت مجموعی طور پر 296 امیدواروں کا شفاف انداز میں انتخاب کیا گیا، جبکہ فارماسسٹ کی 7 آسامیوں کو بھی پر کیا گیا۔یہ اقدام صحت کے شعبے میں موجود افرادی قوت کے خلا کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے،جس سے سرکاری ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت میں طبی سہولیات کی فراہمی مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔ ان بھرتیوں کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ طبی عملے کی تعیناتی کو صرف شہری مراکز تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ دیہی اور دور دراز علاقوں کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے، تاکہ ان علاقوں میں رہنے والے مریضوں کو اپنے علاج کے لیے بڑے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔ دیہی علاقوں میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کی موجودگی سے نہ صرف مریضوں کو بروقت طبی امداد میسر آئے گی بلکہ خواتین، بچوں، بزرگوں اور دیگر ضرورت مند افراد کے لیے صحت کی بنیادی سہولیات تک رسائی بھی آسان ہوگی۔ کمشنر صلاح الدین نورزئی کی سربراہی میں ریکروٹمنٹ کمیٹی کی جانب سے میرٹ اور شفافیت کے اصولوں کو ترجیح دینا بھی قابلِ ذکر ہے، کیونکہ اہل اور قابل افراد کی تعیناتی ہی صحت کے نظام کو مؤثر بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اگر ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف، ڈینٹل سرجنز اور فارماسسٹ اپنی ذمہ داریاں دیانت داری اور خدمت کے جذبے کے ساتھ انجام دیں تو نصیرآباد ڈویژن کے عوام کو صحت کے حوالے سے درپیش کئی مشکلات کا خاتمہ ممکن ہے۔ اس کے علاوہ نصیرآباد ڈویژن میں تعلیم کے شعبے میں تعمیر و ترقی اور بہتری کا عمل بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہے، جس کا بنیادی مقصد ہر بچے کو تعلیم کے حصول کا حق فراہم کرنا اور غیر فعال تعلیمی اداروں کو دوبارہ فعال بنانا ہے۔ ڈویژن بھر میں طویل عرصے سے بند اسکولوں کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں، کیونکہ کسی بھی علاقے میں اسکول کا غیر فعال ہونا وہاں کے بچوں کے تعلیمی مستقبل کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ ان اسکولوں کے غیر فعال ہونے کی ایک بڑی وجہ اساتذہ کی کمی تھی، جس کے باعث عمارتیں موجود ہونے کے باوجود تدریسی سرگرمیاں جاری رکھنا مشکل ہو گیا تھا۔ موجودہ حکومت نے اس اہم مسئلے کے حل کے لیے بہتر پالیسی اختیار کرتے ہوئے عارضی بنیادوں پر اساتذہ کی تعیناتی کا فیصلہ کیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ نصیرآباد ڈویژن میں مجموعی طور پر 2054 میل و فیمیل اساتذہ کی تعیناتی کے بعد ڈویژن بھر کے 593 غیر فعال اسکولوں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جو تعلیم کے شعبے میں ایک اہم اور قابلِ ذکر پیش رفت ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف بند اسکولوں میں دوبارہ تدریسی سرگرمیوں کا آغاز ہوا بلکہ دور دراز اور دیہی علاقوں کے بچوں کو بھی اپنے گھروں کے قریب تعلیم حاصل کرنے کا موقع میسر آیا۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں والدین اپنے بچوں کو دور دراز اسکولوں تک بھیجنے سے قاصر تھے، وہاں مقامی سطح پر اسکولوں کی بحالی ایک بڑی سہولت ثابت ہوگی۔ اساتذہ کی دستیابی سے طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی اور اسکولوں میں حاضری کا رجحان بھی بڑھنے کی توقع ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی تعلیم دوست پالیسیوں کے تحت ایسے اقدامات صوبے میں تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کی جانب اہم قدم ہیں۔ کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی نگرانی میں ڈویژن کے مختلف علاقوں میں بند اسکولوں کی بحالی اور اساتذہ کی دستیابی پر توجہ دینا اس بات کا مظہر ہے کہ تعلیم کے بنیادی مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 593 غیر فعال اسکولوں کا فعال ہونا محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ہزاروں بچوں کے تعلیمی مستقبل سے جڑا ایک اہم اقدام ہے۔ اگر اسی تسلسل کے ساتھ اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری، تعلیمی معیار، بنیادی سہولیات اور نگرانی کے نظام کو بھی مزید مؤثر بنایا جائے تو نصیرآباد ڈویژن میں شرح خواندگی اور معیار تعلیم میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ تعلیم ہی وہ بنیادی ذریعہ ہے جو معاشرے کو ترقی، شعور اور خوشحالی کی طرف لے جاتا ہے، اس لیے غیر فعال اسکولوں کی بحالی اور اساتذہ کی تعیناتی کو نصیرآباد ڈویژن کے روشن تعلیمی مستقبل کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا سکتا ہے۔یہاں اس چیز کا ذکر بھی کرنا مناسب سمجھوں گا کہ 2054 اساتذہ کی تعیناتی کو مزید شفاف بنانے کے لیے ڈویژنل سطح پر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کے چیئرمین کمشنر نصیرآباد ڈویژن دیگر ممبران میں ڈویژنل ڈائریکٹر سکولز پرنسپلز کالجز اور دیگر پر مشتمل ہے ڈویژن بھر سے 654 اعتراضات سامنے آئے جن میں سے بلوچستان ہائی کورٹ کی جانب سے بھی شفاف انکوائریز کے احکامات جاری کیے گئے کمشنر صلاح الدین نورزئی کی سربراہی میں تمام شکایت کنندگان کے تسلی بخش جواب دئیے گئے اور ان کے مسائل کا تدارک کیا گیا بلوچستان بھر کی طرح نصیرآباد ڈویژن میں بھی وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی کاوشوں اور عوام دوست پالیسیوں کے تحت ایسے قابلِ ذکر اقدامات کیے جا رہے ہیں جن کے مثبت اثرات براہِ راست عوام تک پہنچ رہے ہیں۔ان اقدامات کا ایک اہم پہلو تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے، تاکہ نوجوان اپنی قابلیت اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر نہ صرف اپنے خاندانوں کا سہارا بن سکیں بلکہ صوبے کی ترقی میں بھی مؤثر کردار ادا کریں۔میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر بھرتیوں کے عمل سے نوجوانوں میں اعتماد پیدا ہو رہا ہے اور انہیں یہ احساس مل رہا ہے کہ ان کی اہلیت کو تسلیم کیا جا رہا ہےدوسری جانب سرکاری محکموں میں دفتری امور کو آسان، منظم اور مؤثر بنانے کے لیے بھی عملی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے،جس کا بنیادی مقصد عوام کو غیر ضروری مشکلات سے نجات دلانا اور سرکاری خدمات تک ان کی رسائی کو آسان بنانا ہے۔ انتظامی نظام میں بہتری سے نہ صرف سرکاری ملازمین کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ عام شہری بھی اپنے مسائل کے حل کے لیے زیادہ سہولت کے ساتھ متعلقہ اداروں سے رجوع کر سکتے ہیں نصیرآباد ڈویژن میں مختلف محکموں کے معاملات کو بہتر انداز میں چلانے، خالی آسامیوں کو پر کرنے، عملے کی کمی دور کرنے اور عوامی نوعیت کے مسائل کے فوری ازالے کی کوششیں ایک مثبت انتظامی سوچ کی عکاس ہیں۔ ضروری ہے کہ ان اقدامات میں میرٹ، شفافیت، جواب دہی اور عوامی مفاد کو ہمیشہ اولین ترجیح دی جائے تاکہ حکومتی پالیسیوں کے ثمرات حقیقی معنوں میں ہر شہری تک پہنچ سکیں۔ نوجوانوں کو روزگار اور عوام کو آسان سرکاری سہولیات کی فراہمی ایک مضبوط، فعال اور عوام دوست نظام کی بنیاد ہے، اور نصیرآباد ڈویژن میں جاری یہ اقدامات اسی سمت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیے جا سکتے ہیں۔

اختر منگی انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نصیرآبادڈویژن

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *