Banner
Daily Sahafat Quetta
October 19, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
نئے اسکول بنانے کے بجائے موجودہ اسکول اپ گریڈ کیے جائیں، کمشنر ذیشان لاشاریمعذور افراد کے حقوق پر بلوچستان ہائیکورٹ کا بڑا حکم، تمام متعلقہ محکموں سے رپورٹ طلبشہید میجر وجاہت وحید کی قربانی پر پوری قوم کو فخر ہے، گورنر بلوچستانبلوچستان میں سرمایہ کاری سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، نسیم الرحمن ملاخیلقومی مفاد مقدم، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کیا جائے، زرین مگسیمیجر وجاہت وحید کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، مینا مجید بلوچاسرائیلی ماہرین نے امریکا-ایران جنگ کے نئے آغاز سے خبردار کردیارواں سال پولیو کا ساتواں کیس کراچی سے رپورٹسونے کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمت مستحکم، چاندی مہنگی ہوگئیمذاکرات؛ پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس کی اندرونی کہانی، اختلافات کھل کر سامنے آگئےنئے اسکول بنانے کے بجائے موجودہ اسکول اپ گریڈ کیے جائیں، کمشنر ذیشان لاشاریمعذور افراد کے حقوق پر بلوچستان ہائیکورٹ کا بڑا حکم، تمام متعلقہ محکموں سے رپورٹ طلبشہید میجر وجاہت وحید کی قربانی پر پوری قوم کو فخر ہے، گورنر بلوچستانبلوچستان میں سرمایہ کاری سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، نسیم الرحمن ملاخیلقومی مفاد مقدم، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کیا جائے، زرین مگسیمیجر وجاہت وحید کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی، مینا مجید بلوچاسرائیلی ماہرین نے امریکا-ایران جنگ کے نئے آغاز سے خبردار کردیارواں سال پولیو کا ساتواں کیس کراچی سے رپورٹسونے کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمت مستحکم، چاندی مہنگی ہوگئیمذاکرات؛ پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس کی اندرونی کہانی، اختلافات کھل کر سامنے آگئے

حکومت کو سرکاری اسپتال چلانے ہی نہیں چاہییں، بددعاؤں کے سوا ملتا کیا ہے؟ مصطفی کمال

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ حکومت کو سرکاری اسپتال چلانے کے بجائے صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے متبادل نظام پر غور کرنا چاہیے، کیونکہ موجودہ سرکاری اسپتالوں کے نظام سے عوام کو شکایات کے سوا کچھ نہیں مل رہا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں پمز اسپتال کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پمز کا نظام گل سڑ چکا ہے اور موجودہ انتظامی ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات کے بغیر بہتری ممکن نہیں۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پمز میں انتظامی اختیارات محدود ہیں، اس لیے اسپتال میں مارکیٹ سے قابل افسر تعینات کرکے کارکردگی کی بنیاد پر ذمہ داریاں سونپی جانی چاہییں اور چیف ایگزیکٹو کو مکمل اختیارات دیے جانے چاہییں۔

انہوں نے کہا کہ پمز آرڈیننس کے باعث باہر سے تعیناتیاں نہیں کی جاسکتیں، جبکہ اسپتال کو بنیادی طور پر ایک جاگیر بنا دیا گیا ہے، جس کے نظام میں بڑی سطح پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ان کی رائے میں حکومت کو سرکاری اسپتال براہِ راست نہیں چلانے چاہییں اور ان اداروں میں مستقل سرکاری ملازمین کے بجائے کارکردگی پر مبنی نظام متعارف کرایا جانا چاہیے۔

وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ ملک کا موجودہ ہیلتھ بجٹ 1556 ارب روپے ہے، تاہم اس کے باوجود عوام کو مطلوبہ سہولیات نہیں ملتیں۔ ان کے مطابق تحقیق کے مطابق 210 ارب روپے میں ملک بھر کے عوام کو یونیورسل ہیلتھ سہولت فراہم کی جاسکتی ہے۔

اجلاس میں پمز میں پیش آنے والے واقعے، اسپتال کے فائر سیفٹی نظام اور ریگولیٹری نگرانی پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پمز سمیت ملک کے اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

قائم مقام سی ای او اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی نے بتایا کہ گزشتہ دو برس کے دوران پمز کا معائنہ نہیں کیا گیا۔ اس پر کمیٹی ارکان نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریگولیٹری نظام کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ کمیٹی سی ڈی اے، ضلعی انتظامیہ، سول ڈیفنس اور اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر صحت کی جانب سے اصلاحات کے لیے پیش کیے جانے والے اقدامات میں کمیٹی ہر ممکن تعاون کرے گی۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *