Banner
Daily Sahafat Quetta
August 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پاکستان سے سعودی عرب زرعی اور غذائی برآمدات کے لیے 3 ارب ڈالر کا ہدف مقررپاکستان، سعودی عرب، ترکیہ دفاعی معاہدے کے تحت پہلا اجلاس کل استنبول میں ہوگادکی میں گاڑی پر آئی ای ڈی دھماکا، 3 سگے بھائی جاں بحق، ایک شخص زخمینواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز سے آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور اسپیکر کی ملاقاتآبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا کو پہلے وعدے پورے کرنا ہوں گے، ایران کا دوٹوک مؤقفمقامی اخبارات بدترین بحران کا شکار ہیں،بلوچستان میڈیا فورمپشتون جرگہ مثبت تبدیلی اور امن کا پیش خیمہ بن سکتا ہے،سید صادق آغانئے صوبے قومی ضرورت، بلوچستان میں نئی اکائیوں کا قیام ناگزیرکچے کے علاقے میں دو گروپوں کے درمیان خونریز تصادم ، 8 افراد جاں بحق، 3 زخمیحب میں گیس، بجلی اور پانی کا بحران شدت اختیار کرگیا، نیشنل پارٹی کا احتجاج کا اعلانپاکستان سے سعودی عرب زرعی اور غذائی برآمدات کے لیے 3 ارب ڈالر کا ہدف مقررپاکستان، سعودی عرب، ترکیہ دفاعی معاہدے کے تحت پہلا اجلاس کل استنبول میں ہوگادکی میں گاڑی پر آئی ای ڈی دھماکا، 3 سگے بھائی جاں بحق، ایک شخص زخمینواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز سے آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور اسپیکر کی ملاقاتآبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا کو پہلے وعدے پورے کرنا ہوں گے، ایران کا دوٹوک مؤقفمقامی اخبارات بدترین بحران کا شکار ہیں،بلوچستان میڈیا فورمپشتون جرگہ مثبت تبدیلی اور امن کا پیش خیمہ بن سکتا ہے،سید صادق آغانئے صوبے قومی ضرورت، بلوچستان میں نئی اکائیوں کا قیام ناگزیرکچے کے علاقے میں دو گروپوں کے درمیان خونریز تصادم ، 8 افراد جاں بحق، 3 زخمیحب میں گیس، بجلی اور پانی کا بحران شدت اختیار کرگیا، نیشنل پارٹی کا احتجاج کا اعلان

نئے صوبے قومی ضرورت، بلوچستان میں نئی اکائیوں کا قیام ناگزیر

نئے صوبے قومی ضرورت، بلوچستان میں نئی اکائیوں کا قیام ناگزیر
تجزیہ/ ناصر شاہوانی
پاکستان ایک وسیع جغرافیائی، ثقافتی، لسانی اور قومیتی تنوع رکھنے والا وفاقی ملک ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے ملکی آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے، معاشی ضروریات تبدیل ہوئی ہیں، شہری آبادی پھیلی ہے، نئے اضلاع اور ڈویژن وجود میں آئے ہیں، مواصلاتی ذرائع میں تبدیلی آئی ہے اور عوامی توقعات پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں، مگر وفاقی نظام کی بنیادی صوبائی ساخت بڑی حد تک وہی ہے جو کئی دہائیوں قبل تشکیل دی گئی تھی۔ آج پاکستان کے سامنے ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا صرف چار بڑے صوبے ایک ایسے ملک کی انتظامی، سیاسی، معاشی اور سماجی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کرسکتے ہیں جس کی آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے اور جس کے مختلف علاقوں کے مسائل، جغرافیہ، ثقافت اور ترقیاتی ضروریات ایک دوسرے سے انتہائی مختلف ہیں؟ یہ سوال محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ مستقبل کی حکمرانی، عوامی سہولیات اور قومی یکجہتی سے متعلق ایک سنجیدہ قومی مسئلہ ہے۔ دنیا کے کئی بڑے وفاقی ممالک نے وقت کے ساتھ اپنی انتظامی اکائیوں میں اضافہ کیا تاکہ حکومت عوام کے قریب آسکے، دور دراز علاقوں کو بہتر نمائندگی ملے اور ترقی کا عمل چند بڑے شہروں تک محدود نہ رہے۔ پاکستان میں بھی نئے صوبوں کے قیام پر بحث طویل عرصے سے جاری ہے، تاہم بدقسمتی سے اس اہم قومی معاملے کو اکثر سیاسی مفادات، وقتی نعروں اور انتخابی وعدوں تک محدود کردیا گیا۔ نئے صوبوں کے قیام کے حق میں سب سے مضبوط دلیل بہتر حکمرانی ہے۔ ایک صوبائی دارالحکومت اگر ہزاروں کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہو، کسی دور افتادہ ضلع کے شہری کو اپنی بنیادی انتظامی ضرورت کیلئے سینکڑوں یا ہزاروں کلومیٹر سفر کرنا پڑے، ترقیاتی منصوبوں کے فیصلے ایک محدود جغرافیائی مرکز میں بیٹھ کر کیے جائیں اور صوبے کے دور دراز علاقے حکومتی توجہ سے محروم رہیں تو ایسے حالات میں انتظامی ڈھانچے پر نظرثانی ایک فطری ضرورت بن جاتی ہے۔ پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کے دوران بلوچستان کا خصوصی طور پر ذکر ناگزیر ہے، کیونکہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق بلوچستان کا رقبہ تقریباً 347,190 مربع کلومیٹر ہے، جو پاکستان کے مجموعی رقبے کا تقریباً 43.6 فیصد بنتا ہے۔ اس کے باوجود بلوچستان آبادی کے لحاظ سے ملک کا سب سے کم آبادی والا صوبہ ہے۔ وسیع و عریض رقبہ، دشوار گزار پہاڑی سلسلے، صحرائی علاقے، طویل سرحدیں اور دور دراز بستیاں بلوچستان کو انتظامی اعتبار سے پاکستان کے دیگر صوبوں سے بالکل منفرد بناتی ہیں۔یہاں اصل مسئلہ صرف آبادی کا نہیں بلکہ جغرافیہ اور فاصلے کا ہے۔ ایک عام شہری کیلئے یہ سمجھنا آسان ہے کہ اگر ایک صوبے کا انتظامی مرکز ایک کنارے پر ہو اور صوبے کے دوسرے کنارے پر بسنے والے شہری کو دارالحکومت تک پہنچنے کیلئے کئی گھنٹوں یا بعض صورتوں میں ایک سے زائد دن کا سفر کرنا پڑے تو حکومت اور عوام کے درمیان فاصلہ صرف جغرافیائی نہیں رہتا بلکہ انتظامی اور نفسیاتی بھی بن جاتا ہے۔ بلوچستان کا ایک بڑا حصہ ایسے علاقوں پر مشتمل ہے جہاں آبادی بکھری ہوئی ہے، بنیادی انفراسٹرکچر محدود ہے، سڑکوں کا جال ابھی بھی کئی علاقوں میں مطلوبہ معیار کا نہیں، صحت اور تعلیم کی سہولیات ہر جگہ یکساں نہیں اور سرکاری اداروں تک رسائی ایک مسلسل چیلنج ہے۔بلوچستان کے دور دراز علاقوں کے شہریوں کے مسائل کوئٹہ میں بیٹھ کر مکمل طور پر محسوس نہیں کیے جاسکتے، جس طرح کوئٹہ کے مسائل گوادر، تربت، ژوب، چمن، دالبندین، خاران، پنجگور، سبی، نصیرآباد، جعفرآباد یا بارکھان کے مسائل سے مختلف ہیں۔ یہی وہ بنیادی حقیقت ہے جسے نئے صوبوں کی بحث میں مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔ جہاں تک بلوچستان کی بات ہے۔تو بلوچستان کا رقبہ اتنا وسیع کہ ایک مرکز سے مؤثر حکمرانی انتہائی مشکل ہے۔ بلوچستان کے مسائل کا جائزہ لیا جائے تو سب سے نمایاں مسئلہ انتظامی رسائی کا نظر آتا ہے۔ ایک صوبائی حکومت کا بنیادی مقصد صرف قانون سازی کرنا یا بجٹ پیش کرنا نہیں بلکہ عوام کو روزمرہ زندگی میں ریاست کی موجودگی کا احساس دلانا بھی ہے۔ اگر ایک بیمار شہری کو علاج کیلئے طویل سفر کرنا پڑے، ایک طالب علم کو اعلیٰ تعلیم کیلئے سینکڑوں کلومیٹر دور جانا پڑے، ایک کسان کو زرعی سہولیات تک آسان رسائی نہ ہو، کسی علاقے میں قدرتی آفت آئے اور امدادی اداروں کو دور دراز علاقوں تک پہنچنے میں طویل وقت لگ جائے تو یہ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ انتظامی فاصلے کا بھی مسئلہ ہوتا ہے۔ بلوچستان کے وسیع رقبے کو ایک ہی صوبائی انتظامی مرکز سے چلانے کی مشکلات کو سمجھنے کیلئے اس صوبے کے جغرافیائی پھیلاؤ کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔صوبے کے شمالی علاقے افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہیں، مغربی علاقے ایران کے ساتھ طویل سرحد رکھتے ہیں، جنوبی علاقے بحیرہ عرب سے جڑے ہوئے ہیں جبکہ مشرقی علاقے پنجاب اور سندھ کے سرحدی خطوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اتنے وسیع اور متنوع جغرافیائی خطے کو ایک ہی انتظامی ڈھانچے کے تحت مؤثر انداز میں چلانا یقیناً ایک انتہائی مشکل کام ہے۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ موجودہ بلوچستان کو کمزور کیا جائے یا کسی قومیتی شناخت کو نقصان پہنچایا جائے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ انتظامی ساخت بلوچستان کے ہر شہری کو یکساں سہولت، ترقی، نمائندگی اور حکومتی رسائی فراہم کررہی ہے؟
اگر جواب نفی میں ہے تو پھر اصلاحات پر بحث ضروری ہے۔ نئے صوبوں کے قیام کو بلوچستان کی تقسیم یا کسی قوم کی تقسیم کے تناظر میں دیکھنا مسئلے کو غیر ضروری طور پر پیچیدہ بناتا ہے۔ دنیا میں انتظامی حدود تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ نئے اضلاع بنتے ہیں، نئے ڈویژن قائم ہوتے ہیں، میونسپل ادارے تشکیل پاتے ہیں اور انتظامی ضروریات کے مطابق نئی اکائیاں وجود میں آتی ہیں۔ کسی علاقے کی انتظامی تقسیم لازمی طور پر اس کی تاریخی، ثقافتی یا قومیتی شناخت کی تقسیم نہیں ہوتی۔ بلوچستان کی بلوچ شناخت اپنی جگہ موجود رہ سکتی ہے، پشتون شناخت اپنی جگہ برقرار رہ سکتی ہے، براہوی، ہزارہ اور دیگر قومیتی و ثقافتی شناختیں بھی اپنی تاریخی اہمیت کے ساتھ قائم رہ سکتی ہیں۔ انتظامی اکائیوں کی تشکیل کا مقصد کسی شناخت کو مٹانا نہیں بلکہ حکمرانی کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔ قومیتی تنوع بھی نئے انتظامی ڈھانچے کی ضرورت کی دلیل بلوچستان صرف جغرافیائی لحاظ سے وسیع نہیں بلکہ قومیتی اور ثقافتی لحاظ سے بھی انتہائی متنوع صوبہ ہے۔یہاں بلوچ، پشتون، براہوی، ہزارہ اور دیگر مختلف قومیتی و لسانی گروہ آباد ہیں۔ صوبے کے مختلف علاقوں کی زبان، ثقافت، رہن سہن، معاشی سرگرمیاں اور سیاسی ترجیحات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ شمالی بلوچستان کے مسائل اور ضروریات جنوبی ساحلی بلوچستان سے مختلف ہیں۔وسطی بلوچستان کی جغرافیائی صورتحال مشرقی بلوچستان سے مختلف ہے۔ سرحدی علاقوں کے مسائل ساحلی علاقوں سے مختلف ہیں۔ معدنی وسائل رکھنے والے علاقوں کی ضروریات زرعی علاقوں سے الگ ہیں۔ بعض علاقے تجارت اور سرحدی کاروبار سے وابستہ ہیں جبکہ بعض علاقوں کی معیشت زراعت، مویشی بانی، ماہی گیری یا معدنیات پر منحصر ہے۔ایسے متنوع صوبے کیلئے ایک ہی طرز کی حکمرانی ہر علاقے کے مسائل کا مکمل حل نہیں ہوسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ قومیتی اور جغرافیائی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے بلوچستان میں انتظامی اصلاحات اور ممکنہ نئی صوبائی اکائیوں پر سنجیدہ مکالمہ ضروری ہے۔ البتہ اس عمل کی بنیاد نفرت، لسانی تقسیم یا سیاسی دشمنی نہیں ہونی چاہیے۔ اس کا مقصد بہتر حکمرانی، عوامی سہولت، علاقائی ترقی اور اختیارات کی منصفانہ تقسیم ہونا چاہیے۔ اگر نئے صوبے بنانے ہیں تو انہیں محض نقشے پر لکیر کھینچ کر نہیں بنایا جاسکتا۔ اس کیلئے آبادی، جغرافیہ، معاشی وسائل، تاریخی روابط، ثقافتی شناخت، انتظامی ضرورت، عوامی رائے اور مالی خودمختاری سمیت متعدد عوامل کو سامنے رکھنا ہوگا۔ تحقیقی مطالعات بھی پاکستان میں نئے صوبوں کے مطالبات کے پس منظر میں انتظامی، معاشی، سیاسی، ثقافتی اور جغرافیائی عوامل کو اہم قرار دیتے ہیں۔ وسیع جغرافیہ، آبادی، وسائل کی تقسیم، حکمرانی اور علاقائی شناختیں اس بحث کے بنیادی عناصر ہیں۔ طویل فاصلے اور دور دراز علاقوں کی محرومی بلوچستان میں نئے صوبوں کے قیام کے حق میں سب سے مضبوط دلیل شاید فاصلے ہیں۔ پاکستان کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان کے کئی اضلاع ایک دوسرے سے بہت دور واقع ہیں۔ ایک صوبائی دارالحکومت میں بیٹھے ہوئے حکام کیلئے دور دراز علاقوں کی روزمرہ صورتحال پر مکمل نظر رکھنا آسان نہیں۔ فائلیں اور رپورٹس کسی علاقے کے حقیقی حالات کا مکمل متبادل نہیں ہوسکتیں۔حکومت کی اصل کامیابی اس وقت ہوتی ہے جب ایک عام شہری کو محسوس ہو کہ ریاست اس کے قریب ہے۔
اگر ایک شہری کو شناختی دستاویز، زمین کے مسئلے، صحت، تعلیم، روزگار، ترقیاتی منصوبے یا کسی انتظامی شکایت کیلئے طویل فاصلے طے کرنے پڑیں تو حکومت کی موجودگی اس کیلئے ایک دور کی حقیقت بن جاتی ہے۔بلوچستان میں یہ مسئلہ مزید سنگین اس لیے ہے کہ کئی علاقے دشوار گزار جغرافیہ رکھتے ہیں۔ پہاڑی راستے، طویل شاہراہیں، موسم کی شدت، محدود ٹرانسپورٹ اور دور دراز بستیاں سرکاری اداروں کی رسائی کو مزید مشکل بناتی ہیں۔ قدرتی آفات، سیلاب، خشک سالی، شدید بارشوں یا دیگر ہنگامی حالات میں دور دراز علاقوں تک فوری امداد پہنچانے کیلئے بھی ایک مضبوط اور مقامی انتظامی نظام ضروری ہے۔اگر صوبائی سطح پر چھوٹے اور زیادہ قابلِ انتظام یونٹ موجود ہوں تو ہنگامی فیصلے مقامی سطح پر زیادہ تیزی سے کیے جاسکتے ہیں۔ یہ تصور کسی صوبے کی کمزوری نہیں بلکہ ریاست کی مضبوطی ہے۔نئے صوبے اور بہتر طرزحکمرانی
پاکستان میں حکمرانی کا سب سے بڑا مسئلہ اختیارات کا مرکزیت پسندانہ انداز ہے۔وفاق کے پاس اختیارات کا ارتکاز ایک مسئلہ ہے، لیکن کئی صوبوں کے اندر بھی اختیارات صوبائی دارالحکومتوں میں مرکوز رہتے ہیں۔ اگر وفاق سے صوبوں کو اختیارات منتقل ہوں لیکن صوبائی دارالحکومت سے اضلاع اور مقامی حکومتوں تک اختیارات نہ پہنچیں تو عام شہری کو اس تبدیلی کا مکمل فائدہ نہیں ملتا۔ اسی لیے نئے صوبوں کی بحث کو صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ اصل مقصد
اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ھونی چاہیے۔صوبائی حکومتوں کو عوام کے قریب لانا۔ ضلعی اور مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانا۔ ترقیاتی وسائل کی منصفانہ تقسیم۔ دور دراز علاقوں کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا۔ اور محرومی کے احساس کو کم کرنا۔ بلوچستان جیسے وسیع صوبے میں یہ ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر ایک صوبائی وزیر یا اعلیٰ افسر کیلئے اپنے تمام علاقوں کا مسلسل دورہ کرنا عملی طور پر مشکل ہو تو انتظامی نگرانی متاثر ہوتی ہے۔ اگر ایک ہی صوبائی سیکریٹریٹ کے پاس پورے صوبے کے ہزاروں مسائل جمع ہوں تو فائلوں کا بوجھ بڑھتا ہے۔ اگر تمام بڑے فیصلے ایک ہی شہر میں ہوں تو دور دراز علاقے فیصلہ سازی کے عمل سے خود کو دور محسوس کرتے ہیں۔ نئی انتظامی اکائیاں اس بوجھ کو تقسیم کرسکتی ہیں۔ ترقی کا مرکز چند شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ پاکستان میں ترقی کے حوالے سے ایک بڑا مسئلہ مرکزیت ہے۔ بڑے شہروں میں ہسپتال، یونیورسٹیاں، سرکاری دفاتر، صنعتی ادارے اور بنیادی سہولیات نسبتاً زیادہ ہوتی ہیں جبکہ دور دراز علاقے اکثر محرومی کا شکار رہتے ہیں۔ بلوچستان میں بھی کوئٹہ کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے، لیکن پورے صوبے کی ترقی کو صرف ایک شہر کے گرد مرکوز نہیں کیا جاسکتا۔ گوادر کی ضروریات اور امکانات مختلف ہیں۔
تربت اور مکران کے مسائل مختلف ہیں۔ ژوب اور شمالی علاقوں کے تقاضے مختلف ہیں۔ سبی اور نصیرآباد ڈویژن کے مسائل مختلف ہیں۔ خضدار، قلات اور وسطی بلوچستان کی ضروریات مختلف ہیں۔ ہر خطے کو ایک ہی انتظامی عینک سے دیکھنا دانشمندانہ حکمت عملی نہیں ہوسکتی۔نئے صوبائی یا انتظامی مراکز قائم ہونے سے مختلف علاقوں میں یونیورسٹیاں، ہسپتال، ہائی کورٹس یا عدالتی ڈھانچے، سرکاری سیکریٹریٹ، ترقیاتی ادارے اور کاروباری سرگرمیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ اس سے ایک اہم فائدہ یہ ہوگا کہ ترقی کا دائرہ وسیع ہوگا۔ نئے صوبے صرف نئے وزراء اور نئی اسمبلیاں نہیں ہوتے۔ اگر منصوبہ بندی درست ہو تو نئے صوبے نئے تعلیمی مراکز، صحت کے ادارے، انتظامی مراکز، روزگار کے مواقع اور مقامی سرمایہ کاری کے مواقع بھی پیدا کرسکتے ہیں۔ بلوچستان میں ممکنہ انتظامی اکائیوں پر مکالمہ
بلوچستان میں نئے صوبوں یا بڑی انتظامی اکائیوں کی تشکیل کے حوالے سے کوئی بھی حتمی تجویز عوامی مشاورت اور ماہرین کی رائے کے بغیر نہیں دی جاسکتی۔البتہ بحث کیلئے یہ حقیقت سامنے رکھنا ضروری ہے کہ بلوچستان کو جغرافیائی اور انتظامی لحاظ سے مختلف خطوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ شمالی خطہ اپنی الگ جغرافیائی اور سماجی خصوصیات رکھتا ہے۔وسطی بلوچستان کی جغرافیائی، معاشی اور قبائلی ساخت مختلف ہے۔ جنوبی اور ساحلی بلوچستان کی ضروریات اور امکانات الگ ہیں۔ مشرقی اور میدانی علاقوں کی معیشت، زراعت اور آبادی کا انداز مختلف ہے۔ایسے میں یہ سوال بالکل جائز ہے کہ کیا بلوچستان کے تمام خطوں کیلئے ایک ہی صوبائی انتظامی ڈھانچہ مستقبل میں بھی سب سے مؤثر حل ہے؟ اس سوال پر جذبات سے نہیں بلکہ تحقیق سے جواب تلاش کرنا ہوگا۔ممکن ہے مستقبل میں بلوچستان کے اندر دو، تین یا اس سے زیادہ انتظامی صوبائی یونٹوں کی ضرورت محسوس ہو۔ ممکن ہے بعض علاقوں کیلئے مکمل صوبائی حیثیت کے بجائے مضبوط خودمختار علاقائی انتظامیہ زیادہ مناسب ہو۔ ممکن ہے بڑے انتظامی زون قائم کیے جائیں۔ لیکن فیصلہ کسی ایک سیاسی جماعت، ایک حکومت یا چند افراد کی خواہش پر نہیں ہونا چاہیے۔اس کیلئے ایک جامع قومی اور صوبائی مکالمہ ضروری ہے۔ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے سب سے حساس سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا صوبے قومیت کی بنیاد پر بننے چاہئیں یا انتظامی ضرورت کی بنیاد پر؟
اس سوال کا جواب شاید دونوں عوامل کے متوازن امتزاج میں موجود ہے۔ کسی بھی علاقے کی قومیتی، لسانی اور ثقافتی شناخت کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن صرف قومیت کی بنیاد پر نئی سرحدیں کھینچنا بھی بعض صورتوں میں تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔ اسی لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ انتظامی ضرورت کو بنیادی معیار بنایا جائے جبکہ قومیتی، ثقافتی اور تاریخی حقائق کو اہم عوامل کے طور پر شامل رکھا جائے۔بلوچستان کے معاملے میں یہ احتیاط اور بھی ضروری ہے۔یہاں کسی بھی انتظامی اصلاح کو بلوچ اور پشتون کے درمیان تقسیم یا مقابلے کے طور پر پیش کرنا نقصان دہ ہوگا۔ اس کے برعکس سوال یہ ہونا چاہیے کہ:
کیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ بلوچ علاقوں کے تمام شہریوں کو مکمل سہولت فراہم کررہا ہے؟ کیا پشتون اکثریتی علاقوں کو ان کی آبادی اور جغرافیہ کے مطابق حکومتی سہولتیں حاصل ہیں؟ کیا جنوبی بلوچستان کے ساحلی اور دور دراز علاقوں کو فیصلہ سازی میں مناسب نمائندگی حاصل ہے؟ اس تمام بحث و مباحثہ اور حقائق کے بعد یہ طے ھو جاتا ہے۔ کہ روشن مستقبل کیلئے نئے صوبوں کا قیام ضروری ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *