Banner
Daily Sahafat Quetta
September 1, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کشمیر کی پکار اور ہماری خاموشیTNDER NOTICE /dprq/prq No.1118/31-8-2026NOTICE INVITING TENDER Dprq/prq no.1106/31-08-2026باشعور اور تعلیم یافتہ نوجوان بلوچستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں، چاکر صدیق بلوچریاست مخالف عناصر سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، سرفراز بگٹیاوگرا کا ستمبر 2026 کے لیے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاریبلوچستان میں باغات کاٹنا اور نقل مکانی کی باتیں ریاستی ناکامی ہیں، مولانا محمود الحسن قاسمیضلع اوستہ محمد کی طالبات کے لیے حکومت بلوچستان کا شاندار اقدام، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بھاگیہ خان بلیدی کے لیے سکول بس منظورجی ایچ کیو راولپنڈی میں ترک مسلح افواج کے 104 ویں یومِ فتح کی تقریب کا انعقادآرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ ترکیہ: استنبول میں اہم اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور سہ فریقی مذاکراتکشمیر کی پکار اور ہماری خاموشیTNDER NOTICE /dprq/prq No.1118/31-8-2026NOTICE INVITING TENDER Dprq/prq no.1106/31-08-2026باشعور اور تعلیم یافتہ نوجوان بلوچستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں، چاکر صدیق بلوچریاست مخالف عناصر سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، سرفراز بگٹیاوگرا کا ستمبر 2026 کے لیے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاریبلوچستان میں باغات کاٹنا اور نقل مکانی کی باتیں ریاستی ناکامی ہیں، مولانا محمود الحسن قاسمیضلع اوستہ محمد کی طالبات کے لیے حکومت بلوچستان کا شاندار اقدام، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بھاگیہ خان بلیدی کے لیے سکول بس منظورجی ایچ کیو راولپنڈی میں ترک مسلح افواج کے 104 ویں یومِ فتح کی تقریب کا انعقادآرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ ترکیہ: استنبول میں اہم اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور سہ فریقی مذاکرات

کشمیر کی پکار اور ہماری خاموشی

کشمیر کی پکار اور ہماری خاموشی
عبدالرزاق ساجد
جب سے میں نے خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا مستقل حوالہ بنایا ہے، میرے اندر بیٹھا ہوا کالم نگار جیسے آہستہ آہستہ خاموش ہوتا چلا گیا۔ قلم میرے پاس تھا، لفظ بھی دل کے دریچوں پر دستک دیتے رہتے تھے، موضوعات کی بھی کبھی کمی نہ تھی، مگر میں نے خود اپنے آپ کو لکھنے سے روک لیا۔ شاید اس لیے کہ جب آدمی انسانی دکھ کو بہت قریب سے دیکھنے لگے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ درد کی زبان ہر شخص نہیں سمجھتا۔ کچھ آنکھیں آنسو دیکھ لیتی ہیں مگر ان کے پیچھے چھپی کہانی نہیں پڑھ سکتیں، کچھ کان سسکیاں سن لیتے ہیں مگر ان میں پوشیدہ فریاد تک نہیں پہنچ پاتے۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کے لیے آنکھوں سے زیادہ کان اہم ہوتے ہیں، مگر المیہ یہ ہے کہ ان کانوں تک اکثر وہی آواز پہنچتی ہے جس میں اقتدار کی بازگشت، مفاد کی سرگوشی یا طاقت کی چاپ شامل ہو۔ بے بس انسان کے سینے سے اٹھنے والی چیخ اکثر ان بلند دیواروں سے ٹکرا کر واپس اسی کے دل میں دفن ہو جاتی ہے۔
شاید اسی لیے میں نے قلم سے فاصلہ اختیار کر لیا تھا، مگر آج قلم پھر میرے ہاتھ میں ہے، اس لیے کہ آج کشمیر مجھے پکار رہا ہے۔ راولاکوٹ کی طرف دیکھتا ہوں تو دل کے اندر ایسی کسک اٹھتی ہے جسے خاموشی میں دفن کرنا اب میرے بس میں نہیں رہا۔ کل تک لفظ کشمیر سنتے ہی ذہن مقبوضہ کشمیر کے زخموں کی طرف چلا جاتا تھا؛ وہاں کی ماؤں کی آنکھیں، بچوں کے خوف زدہ چہرے، نوجوانوں کی قربانیاں اور کئی دہائیوں پر پھیلا ہوا دکھ ہمارے قومی شعور کا حصہ بن جاتا تھا۔ مگر آج ہم ایک مختلف اور شاید زیادہ پیچیدہ سوال کے سامنے کھڑے ہیں: آزاد کشمیر کے اپنے لوگ کیوں مضطرب ہیں؟ وہی لوگ جو پاکستان کا سبز ہلالی پرچم سینے سے لگا کر کھڑے ہوتے رہے، جو مشکل ترین اوقات میں پاکستان کے حق میں اپنی آواز بلند کرتے رہے، آج خود کیوں فریاد کناں ہیں؟ یہ سوال صرف سیاست کا نہیں، یہ ہمارے قومی ضمیر کا سوال ہے۔
راولاکوٹ میں بیٹھے ہوئے لوگ کوئی اجنبی نہیں۔ وہ ہمارے اپنے ہیں۔ ان میں ہمارے بھائی ہیں، ہماری بہنیں ہیں، ہمارے بچے ہیں اور ہماری مائیں ہیں۔ ان کی آنکھوں میں جو تھکن ہے، وہ ہم سے سوال کرتی ہے؛ ان کے لہجوں میں جو بے یقینی اتر آئی ہے، وہ ہماری اجتماعی ذمہ داری کو آواز دیتی ہے۔ ان کے شکوے محض مطالبات کی فہرست نہیں بلکہ اس رشتے کی یاد دہانی ہیں جو ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد سے قائم رہتا ہے۔ راولاکوٹ کی سردی کوئی معمولی سردی نہیں۔ وہاں جب موسم کروٹ بدلتا ہے تو ہواؤں میں برف کی کاٹ اتر آتی ہے، راتیں طویل ہو جاتی ہیں، پہاڑ سفید چادریں اوڑھ لیتے ہیں اور ہوا جسم سے حرارت تک چھین لینے لگتی ہے۔ ایسی جگہ اگر لوگ اپنے مسائل کے لیے مسلسل بیٹھنے پر مجبور ہوں تو معاملہ صرف انتظامی نہیں رہتا، انسانی بن جاتا ہے۔ شدید سردی دروازے پر کھڑی ہے؛ اس سے پہلے کہ برف راستوں کو ڈھانپ لے، ہمیں دلوں کے درمیان جمع ہوتی ہوئی برف پگھلانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
مجھے ہمیشہ حیرت ہوتی ہے کہ ہم اتنی سادہ بات کیوں بھول جاتے ہیں کہ اپنے لوگوں کو اپنے سے دور کر کے کوئی ریاست مضبوط نہیں ہوتی۔ ریاستیں صرف طاقت سے قائم نہیں رہتیں، اعتماد سے قائم رہتی ہیں؛ قومیں حکم ناموں سے نہیں جڑتیں، احترام سے جڑتی ہیں۔ گھر میں کوئی فرد ناراض ہو جائے تو اسے دروازے سے باہر نہیں پھینک دیا جاتا۔ کوئی بڑا اس کے پاس جاتا ہے، اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہے اور پوچھتا ہے: بتاؤ، کیا دکھ ہے؟ کہاں غلطی ہوئی؟ کس بات نے تمہارا دل توڑا؟ پھر گفتگو ہوتی ہے، دلیل ہوتی ہے، اختلاف ہوتا ہے، کبھی ایک فریق کچھ پیچھے ہٹتا ہے، کبھی دوسرا، اور اسی طرح گھر بچ جاتا ہے۔ ملک بھی آخر ایک بڑے گھر کا نام ہے۔ اگر ریاست کو ماں سے تشبیہ دی جاتی ہے تو ماں کا پہلا وصف اختیار نہیں، شفقت ہوتا ہے۔ ماں ناراض بچے کو دھمکاتی نہیں، اپنے قریب کرتی ہے، اس کی بات سنتی ہے اور بعض اوقات اپنی غلطی تسلیم کر کے اس کے دل کا بوجھ بھی ہلکا کر دیتی ہے۔
ہمیں یہ گمان چھوڑ دینا چاہیے کہ جس کے پاس طاقت کم ہے، اس کی آواز بھی کم اہم ہے۔ تاریخ اس غلط فہمی کے ملبے سے بھری پڑی ہے۔ دبے ہوئے دل ہمیشہ خاموش نہیں رہتے؛ محرومی اگر مسلسل جمع ہوتی رہے تو ایک دن زبان اختیار کر لیتی ہے۔ خاموشی کو رضا مندی سمجھ لینا خطرناک ہے اور خوف کو وفاداری سمجھ لینا اس سے بھی زیادہ خطرناک۔ وفاداری محبت سے پیدا ہوتی ہے، انصاف سے پروان چڑھتی ہے اور عزت سے قائم رہتی ہے۔ اسی لیے میں اربابِ اختیار سے دردمندی کے ساتھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ راولاکوٹ اور آزاد کشمیر کے معاملات کو ضد، انا یا طاقت کے زاویے سے نہ دیکھا جائے۔ تمام متعلقہ فریقوں کو ایک میز پر لایا جائے، مقامی علما، مشائخ، سماجی عمائدین، سول سوسائٹی، نمائندہ تنظیموں اور ایسے معتبر لوگوں کو شامل کیا جائے جن پر دونوں طرف اعتماد ہو۔ حکم جاری کرنا آسان ہے، دل جیتنا مشکل؛ اور ریاست کی اصل کامیابی حکم منوانے میں نہیں، دل جیتنے میں ہوتی ہے۔
میں المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ کی طرف سے پہلے بھی یہ پیش کش کر چکا ہوں کہ اگر اربابِ اختیار مناسب سمجھیں تو ہم اپنے نیٹ ورک اور کشمیر سے وابستہ معتبر شخصیات کو ایک جگہ جمع کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں تاکہ بات چیت کا کوئی راستہ نکلے، تلخیاں کم ہوں اور مسئلے کے کسی قابلِ عمل حل کی طرف پیش رفت ہو۔ آج میں یہ پیش کش پھر دہراتا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ برطانیہ کے مسلم اراکینِ پارلیمنٹ اور ہاؤس آف لارڈز کے بعض اہم ارکان کو ساتھ لے کر آزاد کشمیر جاؤں، لوگوں سے ملوں، ان کی بات سنوں اور اگر ممکن ہو تو مکالمے کے کسی ایسے پل کی تعمیر میں حصہ ڈالوں جو فاصلے کم کر سکے۔ ہمارا مقصد کسی سیاسی صف بندی کا حصہ بننا نہیں بلکہ ایک ایسے مسئلے میں خیر اور مصالحت کی راہ تلاش کرنا ہے جس کا تعلق ہمارے اپنے لوگوں سے ہے۔
کشمیر کے ساتھ ہمارا تعلق صرف جذباتی نہیں، عملی بھی ہے۔ المصطفیٰ کا فلاحی نیٹ ورک کشمیر کے مختلف علاقوں میں طویل عرصے سے کام کر رہا ہے۔ ڈریال میں ہمارا المصطفیٰ آئی ہسپتال تعمیر کے آخری مراحل میں ہے۔ موجودہ حالات اور خصوصاً انٹرنیٹ و مواصلاتی رکاوٹیں ایسے منصوبوں کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہیں، کیونکہ فلاحی کام رابطے، منصوبہ بندی، مریضوں تک رسائی اور مقامی ٹیموں کے باہمی تعاون پر قائم ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہم کشمیر بھر میں مفت طبی کیمپ منعقد کرتے ہیں جن کے ذریعے دور دراز علاقوں کے ایسے لوگوں تک علاج پہنچتا ہے جو عام حالات میں ہسپتال تک نہیں پہنچ سکتے۔ جب رابطے منقطع ہوں تو خدمت کا راستہ بھی دشوار ہو جاتا ہے۔
باغ میں المصطفیٰ نے پانی کا ایک بڑا منصوبہ مکمل کیا ہے۔ تقریباً پندرہ سولہ کلومیٹر دور سے پانی لا کر ہزاروں خاندانوں تک پہنچایا گیا۔ مقامی آبادی نے ہمیں ایسے حالات سنائے جنہیں یاد کر کے آج بھی دل بوجھل ہو جاتا ہے۔ بعض جگہوں پر پینے کے صاف پانی کی شدید قلت تھی، وضو کے لیے پانی میسر نہ تھا اور مقامی لوگوں کے بقول کبھی میت کو غسل دینے کے لیے بھی پانی کا انتظام مشکل ہو جاتا تھا۔ جب انہی بستیوں میں پانی پہنچا تو لوگوں کی آنکھوں میں جو تشکر تھا، اسے کسی رپورٹ، عدد یا سرکاری دستاویز میں مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے کشمیر ہمارے لیے محض نقشے پر کھینچی ہوئی لکیر یا خبروں میں آنے والا سیاسی عنوان نہیں۔ وہاں انسان بستے ہیں۔ ہم ان کے گھروں تک گئے ہیں، ان کے بچوں کو دیکھا ہے، ان کے بیماروں کا علاج کیا ہے، ان کے لیے پانی پہنچایا ہے۔ ان کے دکھ اور دعائیں دونوں ہمارے پاس امانت ہیں۔
میں اپنے تمام ان دوستوں سے بھی مخاطب ہوں جو خدمت، خیر اور وطن سے محبت کے جذبے سے وابستہ ہیں۔ پاکستان صرف جغرافیے کا نام نہیں، ان رشتوں کا نام بھی ہے جو دلوں کے درمیان قائم ہوتے ہیں۔ ملک نقشے پر سرحدیں کھینچ دینے سے مکمل نہیں ہوتے؛ لوگوں کے دلوں میں اعتماد پیدا ہونے سے مکمل ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنے کشمیری بھائیوں سے صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ہم آپ کو سن رہے ہیں، ہمیں واقعی انہیں سننا ہوگا۔ ہر مطالبہ درست ہو، یہ ضروری نہیں؛ ہر حکومتی مؤقف غلط ہو، یہ بھی ضروری نہیں، مگر گفتگو کا دروازہ بند ہونا سب سے بڑی غلطی ہوتی ہے۔ اختلاف کا جواب مکالمہ ہے، شکایت کا جواب سماعت، غصے کا جواب تحمل اور فاصلے کا جواب محبت۔
میں نے بہت عرصے سے اپنے اندر کے کالم نگار کو خاموش کر رکھا تھا۔ شاید اس خوف سے کہ معلوم نہیں ہماری چیخ کس کے مزاج پر گراں گزرے، ہمارا دکھ کس کے آرام میں خلل ڈالے اور ہماری بے قراری کس طاقتور کی پیشانی پر شکن بن جائے۔ مگر بعض اوقات خاموش رہنا خود ایک سوال بن جاتا ہے، اور بعض خاموشیاں ایسی ہوتی ہیں جن کا بوجھ قلم برداشت نہیں کر پاتا۔ آزاد کشمیر کے موجودہ اضطراب نے میرے قلم کو پھر جگا دیا ہے۔ راولاکوٹ کی سرد فضا سے اٹھتی آواز مجھے کہہ رہی ہے کہ ابھی بھی وقت ہے۔ ابھی شکوے کو نفرت بننے سے روکا جا سکتا ہے، ابھی ناراضی کو دوری میں بدلنے سے پہلے محبت کے چند لفظ کہے جا سکتے ہیں۔
خدارا، یہ کام آج کیجیے، کل پر نہ چھوڑیے۔ سردی صرف موسم میں نہیں اترتی، کبھی کبھی رشتوں میں بھی اتر جاتی ہے، اور جب رشتوں پر برف جم جائے تو اسے پگھلانے میں بہت وقت لگتا ہے۔ اپنے لوگوں کے پاس جائیے، ان کی بات سنیے، انہیں اپنی بات سنائیے۔ اگر کہیں ہماری غلطی ہے تو اسے مان لینے میں شکست نہیں، اور اگر کہیں ان کی غلط فہمی ہے تو اسے محبت سے دور کیجیے۔ یہی تہذیب ہے، یہی سیاست اور یہی ریاستی حکمت۔
یاد رکھیے، قومیں طاقت سے نہیں، اعتماد سے بنتی ہیں؛ ریاستیں خوف سے نہیں، انصاف سے مضبوط ہوتی ہیں؛ اور وطن صرف زمین کا نام نہیں، ان دلوں کا نام بھی ہے جو خود کو اس زمین سے وابستہ محسوس کرتے ہیں۔
اگر دل ٹوٹ جائیں تو سلامت سرحدیں بھی اداس ہو جاتی ہیں، اور اگر دل جڑے رہیں تو مشکل ترین موسم بھی گزر جاتے ہیں۔
راولاکوٹ آج ہمیں پکار رہا ہے۔ یہ کسی دشمن کی پکار نہیں، اپنے ہی گھر سے اٹھتی ہوئی آواز ہے۔
خدارا، اسے سن لیجیے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *