Banner
Daily Sahafat Quetta
September 14, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
دنیا میں بدامنی کے پیچھے امریکی پالیسیوں کا کردار ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقبائیک، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف کا اعلانجماعت اسلامی سے پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات، حکومت نے مزید مہلت مانگ لیزبیر خان کاکڑ پی ٹی آئی کوئٹہ ایسٹ کے صدر منتخب، پی ٹی آئی بلوچستان کی مبارکبادگڈانی کشتی حادثے میں 6 ماہی گیر ڈوب گئے، 3 کو بچا لیا گیاشاہرگ کی کوئلہ کان میں بڑا حادثہ، 6 کانکن تاحال اندر پھنسےکوئٹہ میں بلڈنگ کوڈ کی خلاف ورزی پر 11 عمارتیں اور پلازے سیلپاکستان تحریک انصاف میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئےبلوچستان کے عوام کی نئے صوبے کے قیام کی پُر زور حمایتبلوچستان کے سرکاری کالجز میں تقریبات اور تنظیمی سرگرمیوں پر پابندیدنیا میں بدامنی کے پیچھے امریکی پالیسیوں کا کردار ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقبائیک، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف کا اعلانجماعت اسلامی سے پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات، حکومت نے مزید مہلت مانگ لیزبیر خان کاکڑ پی ٹی آئی کوئٹہ ایسٹ کے صدر منتخب، پی ٹی آئی بلوچستان کی مبارکبادگڈانی کشتی حادثے میں 6 ماہی گیر ڈوب گئے، 3 کو بچا لیا گیاشاہرگ کی کوئلہ کان میں بڑا حادثہ، 6 کانکن تاحال اندر پھنسےکوئٹہ میں بلڈنگ کوڈ کی خلاف ورزی پر 11 عمارتیں اور پلازے سیلپاکستان تحریک انصاف میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئےبلوچستان کے عوام کی نئے صوبے کے قیام کی پُر زور حمایتبلوچستان کے سرکاری کالجز میں تقریبات اور تنظیمی سرگرمیوں پر پابندی

قانون سب کے لئے رعایت کچھ کے لئے

قانون سب کے لئے رعایت کچھ کے لئے

محمدنسیم رنزوریار

قارئین کرام، قانون کی بنیاد مساوات، عدل اور بغیر کسی تفریق کے انصاف کی فراہمی پر قائم ہوتی ہے، لیکن جب یہ اصول بدلاؤ کا شکار ہو کر “قانون سب کے لیے، رعایت کچھ کے لیے” کا روپ دھار لے تو ریاست اور معاشرے کی جڑیں ہٹنے لگتی ہیں۔ تاریخ عالم گواہ ہے کہ وہی اقوام بقا اور عروج حاصل کر سکیں جن کے ہاں انصاف کا ترازو سچے معنوں میں سیدھا رہا، جبکہ وہ سویلائزیشنز اور سلطنتیں تباہ و برباد ہو گئیں جہاں طاقتور کے لیے الگ آئین تھا اور کمزور کے لیے الگ قانون۔ ماضی کے باب الٹ کر دیکھیں تو قدیم دور سے لے کر قرون وسطیٰ تک فرعونیت، قارونیت اور شاہی ادوار کا اصل المیہ یہی تھا کہ قانون کی لاٹھی صرف عام رعایا پر چلتی تھی جبکہ اشرافیہ، امرا اور حکمران طبقہ آئین و انصاف کی حدود سے بالاتر رہتا تھا۔ یونانی اور رومن فلسفے سے لے کر میگنا کارٹا تک، انسانی تاریخ کا ہر بڑا سفر اسی دوہرے معیار کے خلاف جدوجہد کی ایک داستان رہا ہے، کیونکہ جب انصاف طبقاتی بنیادوں پر تقسم ہو جائے تو قانون نظم و ضبط قائم کرنے کا ذریعہ نہیں رہتا بلکہ طاقتور کے ہتھکنڈے اور مظلوم کی غفلت بن جاتا ہے۔پاکستان کی تاریخ، حال اور اقتدار کی کشمکش کا بظاہر جائزہ لیا جائے تو یہ کڑوی حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہاں کا قانونی اور عدالتی نظام روز اول سے ہی اسی دوہرے معیار کا شکار رہا ہے۔ نظریہ ضرورت کا سیاہ داغ ہو، آئین کو کاغذ کا ٹکڑا قرار دے کر تعطل کا شکار کرنا ہو، یا پھر منتخب وزرائے اعظم کو چند سیکنڈز میں گھر بھیج دینا اور سویلین اداروں کو بے بس کر دینا ہو، عدلیہ اور اقتدار کے ایوانوں سے بارہا ایسے فیصلے صادر ہوئے جنہوں نے “رعایت کچھ کے لیے” کے تاثر کو مضبوط کیا۔ ماضی میں بھی اور آج کے حالات میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ غریب آدمی معمولی چوری کے جرم میں سالہا سال بغیر مقدمے کے جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑتا رہتا ہے، اس کی نسلیں عدالتوں کے چکر کاٹتے کاٹتے پیوندِ خاک ہو جاتی ہیں، لیکن طاقتور اشرافیہ، بڑے سیاستدان، جاگیردار اور بااثر شخصیات کرپشن اور سنگین جرائم کے بڑے بڑے الزامات کے باوجود باآسانی ضمانتیں حاصل کر لیتے ہیں۔ ان کے لیے این آر او تیار ہوتے ہیں، ان کے لیے عدالتیں وقت سے ہٹ کر کھولی جاتی ہیں اور ان کے لیے قانون کے پیچ و خم نرم کر دیے جاتے ہیں۔آج کے جدید پاکستان میں عدلیہ، آئین اور اقتدار کے مثلث کے درمیان جو کھلواڑ جاری ہے، اس نے عام شہری کو سخت مایوسی اور عدم تحفظ کے احساس میں دھکیل دیا ہے۔ جب ایک ہی قسم کے جرم اور مقدمے میں طاقتور کو استثنیٰ اور رعایت ملتی ہے جبکہ مظلوم کو عدم توجہی اور سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس سے انصاف کے نظام کی تمام تر ساکھ تباہ ہو جاتی ہے۔ عدالتیں انصاف کی فراہمی کا مقدس ترین ادارہ سمجھی جاتی ہیں، مگر جب فیصلوں کا محور سیاسی وابستگیاں، معاشی اثرو رسوخ اور پسِ پردہ طاقتیں بن جائیں تو یہ ایک عجیب و غریب اور المناک صورتحال اختیار کر لیتی ہے۔ قانون کا کام ہی یہ ہے کہ وہ معاشرے کے سب سے طاقتور شخص کو بھی آئین کے سامنے جھکنے پر مجبور کرے اور سب سے ضعیف و نادار انسان کے حقوق کا تحفظ کرے، لیکن جب احتساب کا عمل صرف سیاسی مخالفین کی سرکوبی اور ناپسندیدہ عناصر کے لیے مخصوص ہو جائے اور منظورِ نظر طبقے کے لیے استثنیٰ کے دروازے کھل جائیں تو پھر امن اور استحکام صرف ایک سحر اور خواب بن کر رہ جاتا ہے۔پاکستان کے موجودہ حالات کا گہرا المیہ یہ بھی ہے کہ اقتدار کی مسند پر بیٹھنے والے ہمیشہ اپنے مفاد کی خاطر آئین و قانون کو استعمال کرتے ہیں۔ جب تک وہ اقتدار میں ہوتے ہیں، وہ اسی دوہرے نظام کی سرپرستی کرتے ہیں کیونکہ “رعایت” ان کی ضرورت ہوتی ہے، مگر جیسے ہی وہ اقتدار سے باہر ہوتے ہیں، وہ خود اسی بے رحم نظام کی زد میں آ جاتے ہیں اور پھر مساوات کا رونا روتے ہیں۔ یہ ایک ایسا دائرہ ہے جو دہائیوں سے چکر کاٹ رہا ہے اور اس کا خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک قانون کو بلا تفریق سب کے لیے یکساں لاگو نہ کیا جائے۔ حقیقی ترقی، پائیدار جمہوریت اور پرامن معاشرہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب آئین کے سامنے صدر و وزیراعظم سے لے کر گلی کے ایک عام مزدور تک سب ایک ہی صف میں کھڑے نظر آئیں۔ طاقتور کو رعایت دینے اور کمزور پر قانون کا کوڑا برسانے کا یہ روایت پر مبنی رویہ جب تک ختم نہیں ہوگا، اس وقت تک عدلیہ اور نظامِ انصاف پر عوام کا اعتماد بحال نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی ملک حقیقی معنوں میں ایک مہذب ریاست کا روپ دھار سکتا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *