Banner
Daily Sahafat Quetta
September 12, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
13ستمبر ، صوبے بھر کے صحافیوں کا اجتماع کا دنسابق سینیٹر نصیب اللہ بازئی طویل علالت کے بعد اسلام آباد میں انتقال کرگئےTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1329/11-9-2026بلوچستان پولیس کی خصوصی مہم ،44اشتہاریوں سمیت سینکڑوں ملزمان گرفتارکوئٹہ ، پیشہ ورانہ گداگری کے خاتمے کیلئے کارروائیاں تیز، 5 خواتین سمیت 9 بھکاری گرفتارجدید ای کامرس و آئی ٹی لیب کی تعمیر کا منصوبہ جلد مکمل کیا جائے ،مہراللہ بادینیبلوچستان میں امن کے قیام کےلئے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں ،کورکمانڈر کوئٹہحاجی محمد اکبر اچکزئی ایک عہدساز شخصیتکوئٹہ کے عوامی مسائل کے حل کیلئے سماجی کمیٹیاں متحرک رہیں گی، عبدالرحمن رفیقشعبہ اطلاعات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ناگزیر ہے، عبد الغنی شہزاد13ستمبر ، صوبے بھر کے صحافیوں کا اجتماع کا دنسابق سینیٹر نصیب اللہ بازئی طویل علالت کے بعد اسلام آباد میں انتقال کرگئےTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1329/11-9-2026بلوچستان پولیس کی خصوصی مہم ،44اشتہاریوں سمیت سینکڑوں ملزمان گرفتارکوئٹہ ، پیشہ ورانہ گداگری کے خاتمے کیلئے کارروائیاں تیز، 5 خواتین سمیت 9 بھکاری گرفتارجدید ای کامرس و آئی ٹی لیب کی تعمیر کا منصوبہ جلد مکمل کیا جائے ،مہراللہ بادینیبلوچستان میں امن کے قیام کےلئے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں ،کورکمانڈر کوئٹہحاجی محمد اکبر اچکزئی ایک عہدساز شخصیتکوئٹہ کے عوامی مسائل کے حل کیلئے سماجی کمیٹیاں متحرک رہیں گی، عبدالرحمن رفیقشعبہ اطلاعات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ناگزیر ہے، عبد الغنی شہزاد

حاجی محمد اکبر اچکزئی ایک عہدساز شخصیت

تحریر: مولانا رحمت اللہ حماد

ملکی سطح پر مرحوم حاجی محمد اکبر اچکزئی ایک ایسی عہدساز، مخلص، باکردار، دیندار، علم دوست، قوم دوست اور عوام دوست شخصیت تھے جن کی پوری زندگی خدمتِ خلق، خدمتِ دین، ملی و قومی جذبے، سیاسی و سماجی شعور، قبائلی روایات کی پاسداری اور عام لوگوں کی فلاح و بہبود سے عبارت تھی۔ حاجی صاحب مرحوم کی پیدائش 1935ء میں نورک سلیمان خیل، تحصیل گلستان، ضلع قلعہ عبداللہ میں ہوئی۔ آپ اچکزئی قوم کی ذیلی شاخ ادوزئی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، جو پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک میں اپنی تاریخی، سماجی اور قبائلی اہمیت کے باعث عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ حاجی محمد اکبر اچکزئی کی پرورش ایک ایسے باوقار اور دینی و اخلاقی ماحول میں ہوئی جہاں تعلیم، تربیت، اخلاق، دیانت، شرافت، رواداری اور خدمتِ خلق کو بنیادی اقدار کی حیثیت حاصل تھی، یہی وجہ تھی کہ ان کی شخصیت میں بچپن ہی سے سادگی، متانت، شرافت، دیانت، احساسِ ذمہ داری اور دوسروں کے کام آنے کا جذبہ نمایاں رہا۔ ان کے خاندان میں آج بھی تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، جن میں کئی افراد مختلف نجی، دینی اور عصری تعلیمی ادارے چلا رہے ہیں، جن میں ایک معروف دینی و عصری ادارہ جامعہ اسلامیہ اکبر العلوم و ایجوکیشن سسٹم انسٹیٹیوٹ، شیخ ماندہ، ایئرپورٹ روڈ کے نام سے معروف ہے، جہاں اس وقت مجموعی طور پر 2577 طلبہ و طالبات زیرِ تعلیم ہیں اور انہیں مفت تعلیم فراہم کی جاتی ہے؛ یہ علمی و تعلیمی خدمت دراصل اسی سوچ اور مشن کا تسلسل ہے جسے حاجی محمد اکبر اچکزئی مرحوم نے اپنی زندگی میں آگے بڑھایا اور تعلیم کو معاشرے کی تعمیر و ترقی کا بنیادی ذریعہ قرار دیا۔ حاجی صاحب مرحوم نہایت سادہ مزاج، خوش اخلاق، دیندار، متقی و پرہیزگار، صوم و صلوٰۃ کے پابند، نرم گفتار، علم دوست، غریب پرور اور وسیع القلب انسان تھے؛ اہلِ محلہ، علاقے کے لوگوں، خاندان اور رشتہ داروں میں بزرگ ہوں یا نوجوان، سب ان کا بے حد احترام کرتے تھے اور ان کی باتوں کو تجربے، اخلاص اور خیرخواہی کا نچوڑ سمجھتے تھے۔ انہوں نے اپنی پوری عملی زندگی، نوجوانی سے لے کر بڑھاپے اور آخری عمر تک، ملی، دینی، عوامی، علمی، سیاسی، سماجی اور قبائلی خدمات کو اپنا شعار بنائے رکھا اور اپنے اہلِ محلہ سمیت پورے علاقے کی ترقی و خوشحالی کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی سب سے نمایاں ترجیحات میں تعلیم کا فروغ شامل تھا؛ انہوں نے شیخ ماندہ اور گردونواح کے لوگوں کے لیے ایک بڑے دینی و عصری تعلیمی ادارے کے قیام کی بنیاد رکھی اور اس سوچ کو عملی شکل دی کہ آنے والی نسلوں کے شاندار مستقبل، علاقے کی ترقی اور ملک و ملت کی تعمیر کا سب سے مضبوط ذریعہ تعلیم ہی ہے۔ حاجی صاحب مرحوم تعلیم کے میدان میں غیر معمولی دوراندیشی رکھتے تھے، وہ سمجھتے تھے کہ اگر نوجوان نسل کو دینی، اخلاقی اور عصری تعلیم سے آراستہ کردیا جائے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی، خود انحصاری، شعور اور ترقی کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ اسی جذبے کے تحت انہوں نے سینکڑوں مساجد اور مدارس کی تعمیر و مرمت میں حصہ لیا اور دینی اداروں کی مالی و دیگر ضروریات پوری کرنے میں حتی المقدور تعاون کیا، جبکہ سینکڑوں مدارس کے ساتھ سالانہ بنیادوں پر مالی اور خوراکی تعاون بھی ان کے معمولات میں شامل تھا۔ علاقے کی بنیادی ضروریات اور عوامی مسائل کے حل کے لیے بھی حاجی صاحب مرحوم نے بھرپور کردار ادا کیا؛ صحت کے مراکز، اسپورٹس کمپلیکس، اسٹریٹ لائٹس، علاقے کی نالیوں کی مرمت، کئی کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر کی منظوری، واپڈا اور بجلی کی لوڈشیڈنگ سے متعلق مسائل، سوئی سدرن گیس کی لوڈشیڈنگ اور دیگر عوامی مشکلات کے حل کے لیے مسلسل کوششیں کیں، اہلِ علاقہ کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کے لیے کچرا اٹھانے کا انتظام کیا، راستوں کے درمیان رکاوٹ بننے والے بجلی کے متعدد کھمبوں کو ہٹوا کر سائیڈ پر منتقل کروایا تاکہ عام لوگوں کو آمدورفت میں سہولت حاصل ہو، جبکہ پانی کے دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے متعدد ٹیوب ویل منظور کروانے میں بھی اپنا کردار ادا کیا؛ ان میں سے بعض منصوبے مکمل ہوچکے ہیں جبکہ بعض پر کام جاری ہے اور امید ہے کہ وہ بھی مستقبل قریب میں مکمل ہوجائیں گے، ان شاء اللہ۔ ان تمام عوامی کاموں کے لیے انہوں نے اپنی ذاتی استطاعت اور وسائل کو بھی بروئے کار لایا اور کسی ذاتی مفاد کے بجائے عام لوگوں کی سہولت اور علاقے کی ترقی کو ترجیح دی۔ حاجی محمد اکبر اچکزئی مرحوم نوجوانوں کے مستقبل کے حوالے سے بھی نہایت حساس اور دوراندیش تھے؛ وہ باصلاحیت، ہنرمند، روزگار سے وابستہ، دکانداری اور تجارت کرنے والے افراد اور دینی و عصری تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے تھے، جبکہ ان نوجوانوں کو جو اپنا وقت ضائع کرتے یا کسی مثبت اور تعمیری سرگرمی میں مصروف نہ ہوتے، ہمیشہ شفقت اور اصلاحی انداز میں نصیحت فرماتے کہ وقت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، اسے ضائع کرنے کے بجائے کسی جائز، مفید اور باعزت کام میں صرف کرنا چاہیے تاکہ انسان اپنے لیے، اپنے بچوں، خاندان اور عام مسلمانوں کے لیے کچھ نہ کچھ مفید کرسکے۔ انہوں نے اپنی تجارتی سرگرمیوں کے ذریعے بھی سینکڑوں نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا، مختلف لوگوں کو ملازمتیں دیں، تجارت کے مواقع فراہم کیے اور متعدد افراد کو تجارت کا طریقہ سکھا کر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل بنایا؛ آج ان میں سے بہت سے لوگ اپنی اپنی تجارت اور کاروبار سے وابستہ ہیں اور خود اپنے خاندانوں کے کفیل بن چکے ہیں۔ حاجی صاحب مرحوم کی سماجی خدمات کا دائرہ صرف بلوچستان ہی نہیں بلکہ پاکستان ،افغانستان تک وسیع تھا، کسی شخص یا خاندان کو کوئی ناگہانی آفت یا مشکل پیش آتی تو وہ اپنی مالی استطاعت کے مطابق اس کی مدد کے لیے پہنچ جاتے، غریبوں، یتیموں، مستحق خاندانوں اور عام مسلمانوں کی سال بھر مالی مدد کرتے اور ضرورت مندوں کے ساتھ دل کھول کر تعاون فرماتے تھے۔ اسی طرح انہوں نے اپنی زندگی میں کئی لوگوں کو حج کی سعادت حاصل کرنے کے لیے اپنے وسائل سے مدد فراہم کی اور ایسے افراد کو بھی حج کروایا جن پر حج فرض ہوچکا تھا مگر مالی وسائل میسر نہ تھے؛ یہ خدمت ان کے دینی جذبے، سخاوت اور اللہ تعالیٰ کے دین سے محبت کی واضح علامت تھی۔ حاجی صاحب مرحوم کی شخصیت صرف اپنے محلے یا علاقے تک محدود نہیں تھی بلکہ علاقائی، قبائلی، صوبائی اور ملکی سطح پر انہیں ایک مخلص، باکردار، عوام دوست، علم دوست، باشعور، ملی، قومی، سیاسی، سماجی، قبائلی، دینی و نظریاتی اور وفادار شخصیت کے طور پر قدر و احترام حاصل تھا۔ وہ جمعیت علماء اسلام کے ساتھ گہری وابستگی رکھتے تھے اور جوانی سے آخری عمر تک جمعیت علماء اسلام کی علاقائی، ضلعی، صوبائی اور ملکی سطح پر اپنی استطاعت سے بڑھ کر مالی، اخلاقی اور جماعتی معاونت کرتے رہے؛ ان کے لیے جماعت سے وابستگی محض سیاسی تعلق نہیں بلکہ ایک نظریاتی، دینی اور اصولی وابستگی تھی۔ وہ اولیاء اللہ، اکابر علماء، طلبہ اور اہلِ علم کی صحبت کو اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھتے تھے اور ان کی خدمت کو اپنے لیے اعزاز تصور کرتے تھے؛ اپنے دور کے جلیل القدر علماء کی صحبت، سرپرستی اور دعاؤں سے وہ روحانی و اخلاقی فیض حاصل کرتے رہے اور انہی نیک صحبتوں کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے انہیں دینِ اسلام کے مختلف شعبوں، مدارس، مساجد، علماء، طلبہ، عوام اور مستحقین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائی۔ ان بزرگوں اور اکابر علماء میں ضلع چمن کے ممتاز عالمِ دین ، سابق رکن قومی اسمبلی ، مرکزی نائب امیر جمعیت علماء اسلام اور فقہی مجلس کے سربراہ شیخ الحدیث حضرت مولانا علامہ عبدالغنی رحمہ اللہ ، نیز سابق رکن صوبائی اسمبلی اور جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث حضرت مولانا نور محمد صاحب رحمہ اللہ ، شیخ الحدیث حضرت مولانا سید عبد الستار شاہ صاحب دامت برکاتہم ضلع کوئٹہ ، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد علی صاحب رحمہ اللہ ضلع چمن ، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد اسلم صاحب رحمہ اللہ ضلع چمن ، شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الرزاق صاحب رحمہ اللہ ضلع چمن ، شیخ الحدیث حضرت مولانا مہاجر عبدالغنی شہید رحمہ اللہ ضلع چمن ، شخ الحدیث حضرت مولانا محمد لاجور صاحب دامت برکاتہم ضلع چمن ، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ ضلع چمن ، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ہاشم صاحب رحمہ اللہ ضلع چمن ، شیخ الحدیث حضرت مولانا وزیر محمد صاحب وردگ دامت برکاتہم ضلع چمن ، شیخ الحدیث حضرت مولانا نصر الدین صاحب رحمہ اللہ ضلع قلعہ عبداللہ ، شیخ الحدیث حضرت مولانا عطاء اللہ صاحب رحمہ اللہ ضلع قلعہ عبداللہ ، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ظریف صاحب دامت برکاتہم ضلع قلعہ عبداللہ، شیخ الحدیث حضرت مولانا حافظ فضل محمد بڑیچ صاحب رحمہ اللہ ضلع کوئٹہ ، شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد العلی دیوبندی صاحب رحمہ اللہ ضلع کوئٹہ ، شیخ الحدیث حضرت مولانا شہید عبدالسلام صاحب رحمہ اللہ ضلع کوئٹہ سمیت اپنے وقت کے متعدد جلیل القدر علماء شامل تھے ، جن کی صحبت و سرپرستی میں حاجی صاحب مرحوم نے دینی، سماجی اور جماعتی خدمات انجام دیں اور ان کے ساتھ ایک مخلص اور ہم عصر رفیق کی حیثیت سے شانہ بشانہ خدمات سرانجام دیتے رہے۔ حاجی صاحب مرحوم سیاست کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ سیاست ہر کسی کا کام نہیں، اسے سیکھنا پڑتا ہے اور سیاست ہمیشہ بزرگوں، اکابر اور تجربہ کار لوگوں سے سیکھنی چاہیے؛ ان کے نزدیک سیاست ایک پرخار میدان تھا جہاں جلد بازی کے بجائے صبر، برداشت، مشاورت، اخلاص اور دوراندیشی ہی کامیابی کی ضمانت بنتی ہے۔ وہ نوجوان سیاسی کارکنوں کو تلقین کرتے تھے کہ عارضی اور ذاتی فائدے کے بجائے طویل المدتی قومی، ملی اور جماعتی مفاد کو مقدم رکھا جائے، سیاست میں اصل مقام عہدے کا نہیں بلکہ وفاداری کا ہوتا ہے، اور ایک کارکن کو مرتے دم تک اپنی جماعت کے ساتھ اخلاص، استقامت اور وفاداری کے ساتھ وابستہ رہنا چاہیے۔ وہ اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے جماعتی مقصد، اتحاد اور اتفاق کو مقدم رکھنے کے قائل تھے اور ہمیشہ اس بات پر زور دیتے کہ جماعت کی کامیابی باہمی اعتماد، اتحاد، مشاورت اور اخلاص سے وابستہ ہے۔ حاجی صاحب مرحوم کے بڑے فرزند محترم حاجی نعمت اللہ صاحب اچکزئی بھی اپنے والد مرحوم کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے قومی اور ملکی سطح پر اپنے والد مرحوم کے دینی ، ملی ، سیاسی ، سماجی اور جماعتی مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے جمعیت علماء اسلام پاکستان کے صوبائی و مرکزی سطح کے رہنما کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ محترم حاجی نعمت اللہ صاحب جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے سرپرست اور ضلعی مجلسِ عاملہ کے رکن بھی ہیں اور جماعت کے اندر ایک معزز سیاسی ، سماجی اور قبائلی شخصیت کی حیثیت سے قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے والد محترم کے نقشِ قدم پر چلنے، ان کے مشن کو آگے بڑھانے اور جماعت ، دین ، ملک و قوم اور عوام کی ہر سطح پر خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ حاجی محمد اکبر اچکزئی مرحوم کی دینی و جماعتی خدمات کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی وفات پر ملک بھر سے ممتاز دینی ، سیاسی ، سماجی اور قبائلی شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ، خانوادہ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ خصوصاً قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب حفظہ اللہ ، مولانا عطاء الرحمن صاحب ، انجینئر ضیاء الرحمن صاحب ، مولانا مفتی اسعد محمود صاحب ، حضرت مولانا قاری عبدالرؤف مدنی صاحب ، مفتی عامر محمود صاحب نے حاجی صاحب کی وفات پر تعزیت کی ۔ اس کے علاوہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر حضرت مولانا ناصرالدین خاکوانی صاحب دامت برکاتہم سمیت متعدد اکابر علماء و رہنماؤں نے تعزیت کی اور مرحوم کی دینی ، ملی ، قومی ، جماعتی اور سماجی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کی نمازِ جنازہ اور فاتحہ خوانی میں بھی ملک بھر سے ممتاز دینی ، سیاسی ، سماجی اور قبائلی شخصیات نے شرکت کی ، جن میں جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی و صوبائی رہنما ، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے مرکزی و صوبائی ذمہ داران ، مختلف مدارس کے مہتممین اور وفود ، اسکولوں، کالجز اور یونیورسٹیوں کے ڈائریکٹرز، ہیڈز، پرنسپلز اور وفود ، علماء کرام ، سادات خاندان کے معززین، مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین، قبائلی عمائدین، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی، اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی، ڈاکٹرز، ججز و وکلاء، تاجر برادری اور اچکزئی قوم کے معززین سمیت مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات شامل تھیں، جنہوں نے مرحوم کے اہلِ خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے ان کی ملی، قومی، علاقائی، سماجی، قبائلی، سیاسی اور مذہبی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ مرحوم حاجی محمد اکبر اچکزئی کے پسماندگان اور خاندان کا بھی ایک وسیع علمی، دینی، سیاسی اور سماجی حلقہ ہے۔وہ محترم حاجی نعمت اللہ صاحب، حاجی حفیظ اللہ، حاجی سیف اللہ اور حاجی حبیب اللہ کے والدِ محترم، جبکہ حاجی محمد داؤد، حاجی عبد الکریم خان، حاجی عبد الوارث، مولانا عبد الخالق صاحب، حاجی عبد الستار کے چچا تھے؛ اسی طرح حاجی نصیب اللہ، حاجی عزیز اللہ، حافظ نقیب اللہ، مولانا رحمت اللہ صاحب، عطاء اللہ، محمد سعید اور رفیع اللہ کے دادا، جبکہ حاجی مطیع اللہ کے نانا تھے۔ ان کا خاندان آج بھی ان کے دینی، علمی، سماجی اور ملی مشن کو آگے بڑھانے میں مصروفِ عمل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حاجی محمد اکبر اچکزئی مرحوم کی زندگی اس روشن حقیقت کی عملی مثال ہے کہ انسان کا اصل سرمایہ دولت، جائیداد یا منصب نہیں بلکہ کردار، اخلاص، وفاداری، خدمتِ خلق، علم دوستی، عملی زندگی، نفعِ عام اور لوگوں کے دلوں میں پیدا ہونے والی عزت و محبت ہے؛ انہوں نے اپنی زندگی میں جو کچھ حاصل کیا اسے صرف اپنی ذات تک محدود رکھنے کے بجائے معاشرے، دین، علماء، مدارس، مساجد، طلبہ، نوجوانوں، غریبوں، یتیموں، مستحقین اور عام مسلمانوں کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھا، اسی لیے 9جولائی 2026 کو ان کی وفات ایک فرد کا انتقال نہیں بلکہ ایک ایسے خدمت گزار عہد کا اختتام محسوس ہوتی ہے جس کی یاد آنے والی نسلوں تک زندہ رہے گی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم حاجی محمد اکبر اچکزئی کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی دینی، ملی، قومی، سماجی اور عوامی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے، ان کے تمام صدقاتِ جاریہ کو ان کے لیے ذریعۂ نجات بنائے، ان کے اہلِ خانہ، اولاد، عزیز و اقارب، دوستوں، احباب اور تمام متعلقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور ان کے فرزندان محترم حاجی نعمت اللہ صاحب ، حاجی حفیظ اللہ ، حاجی سیف اللہ اور حاجی حبیب اللہ سمیت تمام خاندان کو مرحوم کے نیک مشن کو اخلاص، استقامت اور حسنِ عمل کے ساتھ آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *