Banner
Daily Sahafat Quetta
October 21, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ میں گیس لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے ، مولانا عبدالرحمن رفیقرائس ملز ایسوسی ایشن اوستہ محمد کی سابقہ کابینہ تحلیل، نئے انتخابات کے لیے 8 رکنی کمیٹی قائمسکھر: کیمرا مین اینڈ فوٹو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے چیمبر آف کامرس کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکبادسکھر پولیس کی کارروائیاں، آئی آر لسٹڈ منشیات سپلائر سمیت 3 ملزمان گرفتار، 19 شراب کی بوتلیں برآمدگنداخہ شہر میں سیوریج سسٹم اور نکاسی آب کے مسائل حل کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں، ڈاکٹر جاوید اختر جمالیعوامی خوشحالی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اولین ترجیح ہے، سردارزادہ فیصل خان جمالیضلع کشمور میں نومبر کی انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں کے لیے اہم اجلاسحرمین شریفین کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، مولانا محمودالحسن قاسمیشدید سردی میں گیس لوڈشیڈنگ انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہے،مولانا قاری مہراللہمفاہمت اور مذاکرات سے ہی سیاسی و آئینی بحرانوں کا پائیدار حل ممکن ہے، جمعیت علماء اسلام نظریاتیکوئٹہ میں گیس لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے ، مولانا عبدالرحمن رفیقرائس ملز ایسوسی ایشن اوستہ محمد کی سابقہ کابینہ تحلیل، نئے انتخابات کے لیے 8 رکنی کمیٹی قائمسکھر: کیمرا مین اینڈ فوٹو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے چیمبر آف کامرس کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکبادسکھر پولیس کی کارروائیاں، آئی آر لسٹڈ منشیات سپلائر سمیت 3 ملزمان گرفتار، 19 شراب کی بوتلیں برآمدگنداخہ شہر میں سیوریج سسٹم اور نکاسی آب کے مسائل حل کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں، ڈاکٹر جاوید اختر جمالیعوامی خوشحالی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اولین ترجیح ہے، سردارزادہ فیصل خان جمالیضلع کشمور میں نومبر کی انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں کے لیے اہم اجلاسحرمین شریفین کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، مولانا محمودالحسن قاسمیشدید سردی میں گیس لوڈشیڈنگ انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہے،مولانا قاری مہراللہمفاہمت اور مذاکرات سے ہی سیاسی و آئینی بحرانوں کا پائیدار حل ممکن ہے، جمعیت علماء اسلام نظریاتی

ملکیتی اراضی پر سرکاری ڈیری فارم منصوبہ ناقابلِ قبول ہے، بازئی قبائل

ملکیتی اراضی پر سرکاری ڈیری فارم منصوبہ ناقابلِ قبول ہے، بازئی قبائل

کوئٹہ : موضع خشکابہ ژور اغبرگ، ٹپہ نوحصار ،تحصیل و ضلع کوئٹہ میں بازئی قبائل کی آبائی اراضیات سے متعلق جاری تنازعات، مبینہ تجاوزات اور کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے مجوزہ ڈیری فارم منصوبے کے خلاف بازئی قبائل کے معتبرین اور عمائدین کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں علاقے کی اراضی، ریونیو ریکارڈ، عدالتی احکامات اور مبینہ بے ضابطگیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا یے۔ کہ مذکورہ اراضی کے حوالے سے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو بلوچستان کے سامنے زیرِ سماعت ازخود نوٹس کیس نمبر 06/2026/SMBR میں 18 جون 2026ء کو احکامات جاری ہو چکے ہیں، جن کے تحت سال 2024ء کے سیٹلمنٹ ریکارڈ کی ازسرِ نو جانچ، حدود کی تصدیق اور ریونیو سروے کا عمل جاری ہے۔ عمائدین کے مطابق جب تک ریونیو ریکارڈ اور اراضی کی حدود سے متعلق معاملات حتمی طور پر طے نہیں ہوتے، اس علاقے میں کسی نئے سرکاری یا تجارتی منصوبے کو آگے بڑھانا مناسب نہیں۔ مذکورہ اراضی پر ماضی میں مبینہ طور پر ’’جیو ہاؤسنگ اسکیم‘‘ کے نام سے منصوبہ متعارف کرایا گیا، جس کی منظوری اور NOC سے متعلق معاملات تاحال زیرِ التوا ہیں، تاہم اس کے باوجود اشتہارات اور پلاٹوں کی فروخت کے اعلانات سامنے آئے۔ عمائدین نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی فرد یا ادارے کی جانب سے قوانین کی خلاف ورزی ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ بازئی قبائل کے مطابق اب اسی متنازعہ اراضی پر ڈیری فارم منصوبہ تجویز کیا جا رہا ہے، جس پر شدید تحفظات ہیں۔ علاقے کی جغرافیائی ساخت اور ناہموار زمین کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبے کی تکنیکی و ماحولیاتی موزونیت کا غیر جانب دارانہ جائزہ ضروری ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر زمین کے ملکیتی، ریونیو اور حدود کے معاملات ابھی مکمل طور پر واضح نہیں تو اس پر کسی منصوبے کی منظوری یا عملی پیش رفت کس قانونی اور انتظامی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔قبائلی عمائدین نے کیو ڈی اے کے بعض افسران اور متعلقہ حکام پر مبینہ بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر شفاف فیصلوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان الزامات کی تحقیقات کسی غیر جانب دار ادارے سے کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد کسی ترقیاتی منصوبے کی مخالفت نہیں بلکہ آبائی اراضی، قانون، عدالتی احکامات اور عوامی مفاد کا تحفظ ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان، بالخصوص کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال اور قبائلی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اراضی کے معاملات انتہائی احتیاط اور شفافیت کے ساتھ حل کیے جانے چاہئیں۔ کسی بھی فریق کو قانون ہاتھ میں لینے یا متنازعہ اراضی پر زبردستی پیش رفت کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ بازئی قبائل نے چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ، قومی احتساب بیورو (نیب)، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ جیو ہاؤسنگ اسکیم، این او سی کے معاملات، اراضی کی الاٹمنٹ، مجوزہ ڈیری فارم منصوبے اور متعلقہ افسران کے کردار کی غیر جانب دارانہ اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں۔ جب تک ریونیو ریکارڈ، حدود اور ملکیتی تنازعات واضح نہیں ہوتے، متنازع اراضی پر کسی بھی منصوبے کی پیش رفت روکی جائے اور تمام کارروائی قانون اور عدالتی احکامات کے مطابق کی جائے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *