Banner
Daily Sahafat Quetta
September 4, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
اسلام امن کا پیغام ہے، وطن کے دفاع پر سمجھوتہ نہیں ہوگا ،مولانا سائیں غلام اللہ ہالیجویراولپنڈی کے بڑے تجارتی مرکز گوالمنڈی کے تاجر ٹریفک و پولیس ناکوں سے پریشانعفو و درگزر کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ ظرفی اور شجاعت کی علامت ہے، مولانا قاری مہراللہبچوں کی صحت سے متعلق غیر محفوظ مصنوعات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی، بلوچستان فوڈ اتھارٹیاغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری صوبے کا منافع بخش کاروبار بن چکا ہے، مولانا عبدالقادر لونیاسپیشل افراد اور معاشرے کی ذمہ داریگڈانی میں تعلیم اور صاف پانی کے منصوبوں پر بھی عملی اقدامات کیے جائیں گے، شاہد آفریدیعلماءکرام پولیو مہم کی کامیابی کیلئے ضلعی انتظامیہ سے تعاون کریں ،مہراللہ بادینیTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ nO.1192/3-9-2026صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی کے خلاف مذمتی قرارداد پیشاسلام امن کا پیغام ہے، وطن کے دفاع پر سمجھوتہ نہیں ہوگا ،مولانا سائیں غلام اللہ ہالیجویراولپنڈی کے بڑے تجارتی مرکز گوالمنڈی کے تاجر ٹریفک و پولیس ناکوں سے پریشانعفو و درگزر کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ ظرفی اور شجاعت کی علامت ہے، مولانا قاری مہراللہبچوں کی صحت سے متعلق غیر محفوظ مصنوعات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی، بلوچستان فوڈ اتھارٹیاغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری صوبے کا منافع بخش کاروبار بن چکا ہے، مولانا عبدالقادر لونیاسپیشل افراد اور معاشرے کی ذمہ داریگڈانی میں تعلیم اور صاف پانی کے منصوبوں پر بھی عملی اقدامات کیے جائیں گے، شاہد آفریدیعلماءکرام پولیو مہم کی کامیابی کیلئے ضلعی انتظامیہ سے تعاون کریں ،مہراللہ بادینیTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ nO.1192/3-9-2026صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی کے خلاف مذمتی قرارداد پیش

وہ حقیقت جسے سب بھاگتے ہیں

محمدنسیم رنزوریار

وہ حقیقت جسے سب بھاگتے ہیں

قارئین کرام، عالمی سیاست کا سب سے تلخ اور بھیانک سچ یہ ہے کہ کرہ ارض پر “بین الاقوامی قانون” اور “قومی خودمختاری” کے نعرے صرف کمزور اور غریب ممالک کے لیے بنائے گئے ہیں، جبکہ طاقتور اور بااثر ریاستوں کے لیے یہ ضوابط محض کاغذی ٹکڑوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ دنیا کے تمام بڑے جغرافیائی خطوں میں چند مخصوص ممالک دوسرے ازاد ممالک کے سیاسی، معاشی، معاشرتی اور دفاعی امور میں کھل کر مداخلت کرتے ہیں، لیکن دنیا کی اکثریت اس حقیقت کو جانتے ہوئے بھی خاموش رہتی ہے۔ اس خوف اور خاموشی کی سب سے بڑی وجہ ان طاقتور ریاستوں کی معاشی بلیک میلنگ، فوجی ہیبت، اور عالمی اداروں پر ان کا مکمل تسلط ہے۔ تاریخ اور موجودہ دور کے ایسے بے شمار حقائق موجود ہیں جنہیں عالمی برادری نظر انداز کرنے پر مجبور ہے۔امریکی مداخلت کی تاریخی اور ہولناک دستاویزات ریاستہائے متحدہ امریکہ نے پچھلی ایک صدی میں “جمہوریت کے فروغ” اور “انسانی حقوق کی پاسداری” کا نام لے کر دنیا کے درجنوں ممالک میں حکومتیں بدلے، منتخب رہنماؤں کو قتل کروایا اور معاشی بحران پیدا کیے۔ اس کی سب سے حیران کن مثال 1953 کا “آپریشن اجیکس”ہے، جس میں امریکی استخباراتی ادارے سی آئی اے نے برطانوی ایجنسی کے ساتھ مل کر ایران کے جمہوری طور پر منتخب وزیراعظم محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا، کیونکہ انہوں نے ایرانی تیل کو قومیانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بعد 1973 میں چلی میں صدر سلواڈور الیندے کی جمہوری حکومت کو ختم کر کے جنرل پنوشے جیسے بے رحم آمر کو مسلط کیا گیا۔ 2003 میں عراق پر “تباہی کے مہلک ہتھیاروں” کا جھوٹا الزام لگا کر حملہ کیا گیا اور پورے خطے کو تباہی کی دلمدل میں دھکیل دیا گیا۔ امریکی مداخلت صرف فوجی حد تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی مالیاتی اداروں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک) کو استعمال کر کے ترقی پذیر ممالک کی معاشی پالیسیوں پر مکمل کنٹرول حاصل کیا گیا۔
اسرائیل کا نادیدہ جال اور سرحد پار کارروائیاں
مشرق وسطیٰ میں اسرائیل نے اپنے قیام سے لے کر اج تک علاقائی خودمختاری کی کھلی دھجیاں اڑائی ہیں۔ لبنان میں 1982 کی فوجی مداخلت سے لے کر شام اور عراق کے جوہری اور فوجی تنصیبات پر یکطرفہ فضائی حملوں تک، اسرائیل نے کبھی بین الاقوامی سرحدوں کا احترام نہیں کیا۔ اس کے علاوہ “آپریشن وراٹھ آف گاڈ” اور بعد کے سالوں میں دنیا کے مختلف ممالک (سوڈان، تیونس، مالٹا اور حتیٰ کہ یورپی دارالحکومتوں) میں غیر ملکی شہریوں اور سائنسدانوں کے ہدف بنا کر قتل کی کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ کس طرح کسی بھی ملک کی خودمختاری کو پامال کر سکتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ خوفناک جدید دور کی سائبر جاسوسی ہے؛ اسرائیلی سافٹ ویئر “پیگاسس” کے ذریعے دنیا بھر کے وزرائے اعظم، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جاسوسی کی گئی، لیکن عالمی برادری اس پر کسی قسم کی سخت پابندیاں عائد کرنے میں ناکام رہی۔جنوبی ایشیا میں بھارتی بالادستی اور مداخلت
جنوبی ایشیا کی سیاست میں ہندوستان کی خطے کے چھوٹے ممالک کے اندرونی امور میں مداخلت ایک ایسی حقیقت ہے جسے خطے کے تمام ممالک محسوس کرتے ہیں مگر طاقت کے توازن کی وجہ سے صریحاً بولنے سے کتراتے ہیں۔ 1975 میں ہمالیائی ریاست سکم کو تدبیر اور سیاسی دباؤ کے ذریعے بھارت میں ضم کر لیا گیا۔ 1987 میں سری لنکا کے اندرونی خانہ جنگی میں ہندوستانی پیس کیپنگ فورس کا بھیجنا اور تامل باغیوں کی پشت پناہی کرنا ایک واضح تاریخی واقعہ ہے۔ نیپال کے خلاف 1989 اور پھر 2015 میں معاشی ناکہ بندی کر کے اس کے آئین سازی کے عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی، جس سے نیپال میں شدید انسانی اور معاشی بحران پیدا ہوا۔ اس کے علاوہ مالدیپ اور بنگلہ دیش کی داخلی سیاست، انتخابات اور دفاعی پالیسیوں میں ہندوستانی اثر و رسوخ اور پراکسیز کی حمایت جنوبی ایشیا کے معاشی اور معاشرتی امن کو مسلسل متاثر کرتی رہی ہے۔عالمی برادری کے خوف اور خاموشی کا رازدنیا ان حقائق کو جانتے ہوئے بھی کیوں خاموش رہتی ہے؟ اس کا جواب ان طاقتور ممالک کے پاس موجود ویٹو پاور، عالمی تجارت پر کنٹرول، اور دفاعی ٹیکنالوجی کی اجارہ داری میں پوشیدہ ہے۔ جب کوئی چھوٹا ملک اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر معاشی پابندیاں لگا دی جاتی ہیں یا اس کی قیادت کو سیاسی طور پر الگ تھلگ کر دیا جاتا ہے۔ یہی وہ خوفناک اور بھیانک سچ ہے جس سے دنیا کی نظریں چرایاجاتا ہے۔ جب تک طاقت اور قانون کے پیمانے تمام ریاستوں کے لیے یکساں نہیں ہوں گے، اس وقت تک عالمی امن محض ایک ڈھونک اور طفل تسلی رہے گا۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *