Banner
Daily Sahafat Quetta
September 3, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں شاندار واپسی؛ یوروبانڈ کے ذریعے 3 ارب ڈالر حاصل کرلیےپاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 15 خوارج ہلاک6 ستمبر: یومِ دفاع ایمان، شجاعت اور قومی فخر کا دنسرکاری ملازمین کی حاضری یقینی بنانے کیلئے مؤثر نظام، غیر حاضر ملازمین کے خلاف کارروائی کا فیصلہمومنہ اقبال ہراسگی کیس: لیگی ایم پی اے ثاقب چڈھر اور اہلیہ بے قصور قرارپیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان، نوٹیفکیشن جاریکوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے معروف تاجر حاجی صلاح الدین خان نورزئی جاں بحق ہوگئےتاترہ اچکزئی کی وارنٹ گرفتاری جاریTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1181/2-9-2026سردار عطااللہ مینگل کی بلوچ قومی سیاست کیلئے جدوجہد ناقابلِ فراموش ہے، نیشنل پارٹیپاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں شاندار واپسی؛ یوروبانڈ کے ذریعے 3 ارب ڈالر حاصل کرلیےپاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 15 خوارج ہلاک6 ستمبر: یومِ دفاع ایمان، شجاعت اور قومی فخر کا دنسرکاری ملازمین کی حاضری یقینی بنانے کیلئے مؤثر نظام، غیر حاضر ملازمین کے خلاف کارروائی کا فیصلہمومنہ اقبال ہراسگی کیس: لیگی ایم پی اے ثاقب چڈھر اور اہلیہ بے قصور قرارپیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان، نوٹیفکیشن جاریکوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے معروف تاجر حاجی صلاح الدین خان نورزئی جاں بحق ہوگئےتاترہ اچکزئی کی وارنٹ گرفتاری جاریTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1181/2-9-2026سردار عطااللہ مینگل کی بلوچ قومی سیاست کیلئے جدوجہد ناقابلِ فراموش ہے، نیشنل پارٹی

6 ستمبر: یومِ دفاع ایمان، شجاعت اور قومی فخر کا دن

تحریر: شکیل گوندل
6 ستمبر پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم اور یادگار دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب 1965 میں پاکستان کو ایک بڑے عسکری چیلنج کا سامنا ہوا اور قوم نے اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہو کر قومی یکجہتی، عزم اور دفاعِ وطن کے جذبے کا مظاہرہ کیا۔ اس دن کی یاد ہمیں اپنے شہداء اور غازیوں کی قربانیوں، قومی اتحاد اور ملکی دفاع کی اہمیت کا احساس دلاتی ہے۔
قرآن کا پیغام اور جذبۂ شہادت
پاکستانی قوم اور اس کے دفاعی اداروں کے لیے قرآنِ کریم کی یہ تعلیم ہمیشہ رہنمائی کا ذریعہ رہی ہے:
“وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ…”
ترجمہ:
“اور ان کے مقابلے کے لیے جہاں تک تم سے ہو سکے قوت تیار رکھو…”
یہ آیت ہمیں محض جنگ کی نہیں بلکہ تیاری، نظم، قوت اور دفاعی استعداد کی اہمیت کا درس دیتی ہے۔ اسی طرح رسولِ اکرم ﷺ کی وہ حدیث بھی اہلِ ایمان کے لیے حوصلے اور ذمہ داری کا پیغام رکھتی ہے جس میں اللہ کی راہ میں پہرہ دینے والی آنکھ کے لیے خصوصی اجر بیان ہوا ہے۔
1965 کے معرکے میں ہمارے فوجی جوانوں نے جس عزم، حوصلے اور قربانی کا مظاہرہ کیا، وہ ہماری قومی تاریخ کا قابلِ فخر باب ہے۔ لاہور، سیالکوٹ، چونڈہ اور دیگر محاذوں پر پاکستانی فوج نے سخت مزاحمت کی اور دشمن کو اپنے عسکری مقاصد کے حصول میں کامیاب نہ ہونے دیا۔
لاہور کا محاذ اور چونڈہ کا معرکہ
6 ستمبر 1965 کی صبح بھارت نے بین الاقوامی سرحد عبور کرتے ہوئے لاہور کے محاذ پر حملہ کیا۔ بھارتی قیادت کو توقع تھی کہ وہ تیزی سے اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کر لے گی، لیکن پاکستانی افواج کی مزاحمت نے اس پیش قدمی کو روک دیا۔ لاہور کا دفاع اس جنگ کی اہم علامت بن گیا اور پوری قوم نے اپنے جوانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر قومی یکجہتی کا عملی مظاہرہ کیا۔
اسی جنگ میں چونڈہ کا محاذ بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں ایک بڑا ٹینک معرکہ ہوا جس میں پاکستانی افواج نے بھرپور مزاحمت کی۔ ہمارے جوانوں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، شجاعت اور عزم سے دفاعِ وطن کی ایک قابلِ تقلید مثال قائم کی۔
چونڈہ اور دیگر محاذوں کے شہداء ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ وطن کا دفاع صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ عزم، نظم، تربیت، قربانی اور قومی حوصلے سے بھی کیا جاتا ہے۔
1971 کا سانحہ اور قومی سبق
ہماری تاریخ صرف کامیابیوں سے عبارت نہیں۔ 1971 کا سانحہ بھی ہماری قومی تاریخ کا ایک تلخ باب ہے، جسے جذبات کے بجائے سنجیدگی اور دیانت داری سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس سانحے کے پس منظر میں سیاسی بحران، باہمی عدم اعتماد، انتظامی و معاشرتی مسائل، قومی اتحاد کا کمزور ہونا اور بیرونی مداخلت سمیت متعدد عوامل کارفرما تھے۔
اس سانحے کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ قومی سلامتی صرف عسکری قوت سے ممکن نہیں۔ مضبوط دفاع کے ساتھ سیاسی استحکام، قومی یکجہتی، انصاف، آئینی بالادستی اور ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد بھی ناگزیر ہے۔
جدید دور کے چیلنجز
آج جنگ کا میدان 1965 کے مقابلے میں بہت بدل چکا ہے۔ جدید جنگ میں ٹیکنالوجی، فضائی قوت، میزائل، سائبر صلاحیت، مصنوعی ذہانت، اطلاعاتی جنگ اور معاشی طاقت بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔
مئی 2025 کے پاک بھارت عسکری تصادم نے بھی یہ واضح کیا کہ جدید دور میں جنگ محض میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی۔ اس موقع پر دونوں جانب سے اپنی اپنی کامیابیوں کے دعوے سامنے آئے، تاہم پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیت اور جوابی کارروائی کے ذریعے یہ پیغام ضرور دیا کہ ملکی سلامتی کے معاملے میں پاکستان اپنی خودمختاری اور دفاع کے لیے تیار ہے۔
یہاں ایک اہم حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ آج کی دنیا میں صرف عسکری طاقت کافی نہیں۔ جدید ریاست کی طاقت کا انحصار مضبوط معیشت، جدید ٹیکنالوجی، سیاسی استحکام، قومی اتحاد اور سفارتی صلاحیت پر بھی ہے۔
یومِ دفاع کا اصل پیغام
6 ستمبر ہمیں صرف ماضی کی جنگ یاد کرنے کا دن نہیں بلکہ اپنے حال اور مستقبل کا جائزہ لینے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ ہمیں اپنے شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھنے کے ساتھ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم اپنے ملک کو کس طرح مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ بنا سکتے ہیں۔
قوم اور دفاعی اداروں کے درمیان اعتماد، قومی یکجہتی اور باہمی احترام کسی بھی ملک کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔ جب قوم متحد ہو، ریاستی ادارے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کریں اور عوام اپنے ملک کے دفاع اور ترقی کے لیے یکسو ہوں تو بیرونی خطرات کا مقابلہ زیادہ مؤثر انداز میں کیا جا سکتا ہے۔
آئیے اس یومِ دفاع پر اپنے شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کریں، ان کے جذبۂ قربانی سے سبق حاصل کریں اور عہد کریں کہ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری، ترقی اور خوش حالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
پاکستان زندہ باد!
شہداء و غازیوں کو سلام!

والسلام

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *