Banner
Daily Sahafat Quetta
November 4, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے، ہر مشکل گھڑی میں ساتھ کھڑے ہیں، میر نعیم خان عمرانیگنداخہ کی تعمیر و ترقی اور شہری خوبصورتی اولین ترجیحات ہیں، ڈاکٹر جاوید اختر جمالیبی این سی نیوز کی صحافتی خدمات قابلِ تحسین ہیں، ڈاکٹر ناشناس لہڑیاختر مینگل کو قتل کیس میں عدالتوں کا سامنا کرنا چاہیے ،وزیراعلیٰ بلوچستان17دہشتگردوں کی ہلاکت ،وزیراعلیٰ بلوچستان کا سکیورٹی فورسز کو خراج تحسینعظمیٰ بخاری کا چوہدری سالک حسین کے خلاف غیر مناسب لب و لہجہ سیاسی اخلاقیات کے منافی ہے،محمد اشرف چوہدریپیکا ترمیمی آرڈیننس آزادی اظہار رائے دبانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے، قاری مہراللہقائد جمعیت کی نجی زندگی میں مداخلت آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقوزیر اعظم شہباز شریف کا بلوچستان کے لیے ہزاروں وفاقی ملازمتوں کا اعلان خوش آئند ہے، جمال شاہ کاکڑہر پاکستانی ریاست پاکستان اور پاک فوج کےساتھ وفادار رہے، ایڈوکیٹ تانیہ بازئیمولانا فضل الرحمٰن کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے، ہر مشکل گھڑی میں ساتھ کھڑے ہیں، میر نعیم خان عمرانیگنداخہ کی تعمیر و ترقی اور شہری خوبصورتی اولین ترجیحات ہیں، ڈاکٹر جاوید اختر جمالیبی این سی نیوز کی صحافتی خدمات قابلِ تحسین ہیں، ڈاکٹر ناشناس لہڑیاختر مینگل کو قتل کیس میں عدالتوں کا سامنا کرنا چاہیے ،وزیراعلیٰ بلوچستان17دہشتگردوں کی ہلاکت ،وزیراعلیٰ بلوچستان کا سکیورٹی فورسز کو خراج تحسینعظمیٰ بخاری کا چوہدری سالک حسین کے خلاف غیر مناسب لب و لہجہ سیاسی اخلاقیات کے منافی ہے،محمد اشرف چوہدریپیکا ترمیمی آرڈیننس آزادی اظہار رائے دبانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے، قاری مہراللہقائد جمعیت کی نجی زندگی میں مداخلت آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقوزیر اعظم شہباز شریف کا بلوچستان کے لیے ہزاروں وفاقی ملازمتوں کا اعلان خوش آئند ہے، جمال شاہ کاکڑہر پاکستانی ریاست پاکستان اور پاک فوج کےساتھ وفادار رہے، ایڈوکیٹ تانیہ بازئی

نئے صوبے: قومی ضرورت یا سیاسی بحث؟

تحریر: ارباز خان ایڈووکیٹ

ریاستیں وقت کے ساتھ بدلتی ہیں۔ ان کی آبادی میں اضافہ ہوتا ہے، انتظامی تقاضے تبدیل ہوتے ہیں اور عوام کی ضروریات نئی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں دانشمند قومیں اپنے انتظامی ڈھانچے کا ازسرِنو جائزہ لیتی ہیں تاکہ ریاستی نظام عوام کی توقعات پر پورا اتر سکے۔ پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث بھی اسی تناظر میں اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ بدقسمتی سے اس موضوع کو اکثر سیاسی نعروں، لسانی جذبات اور وقتی مفادات کی نذر کر دیا جاتا ہے، حالانکہ اس پر سنجیدہ، آئینی اور قومی نقطۂ نظر سے غور کی ضرورت ہے۔پاکستان اس وقت چار صوبوں پر مشتمل ایک وفاق ہے، جبکہ آبادی تیس کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ بڑے صوبوں کے بعض علاقے آج بھی بنیادی سہولیات، ترقیاتی منصوبوں، معیاری تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع سے محروم ہیں۔ جب انتظامی اکائیاں بہت وسیع ہو جائیں تو حکومت اور عوام کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتا ہے، فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے اور مقامی مسائل پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت کو تقویت دیتی ہے۔نئے صوبوں کا مطلب ہرگز ملک کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ ریاستی انتظام کو مؤثر، متوازن اور عوام دوست بنانا ہے۔ اگر انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے قائم کیے جائیں تو اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں گے، وسائل کی بہتر منصوبہ بندی ممکن ہوگی، ترقی کا دائرہ دور افتادہ علاقوں تک پھیلے گا اور مقامی آبادی اپنے مسائل کے حل میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکے گی۔ مضبوط وفاق ہمیشہ مضبوط اور بااختیار انتظامی اکائیوں سے ہی وجود میں آتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔ اضافی مالی اخراجات، وسائل کی تقسیم، سرحدی تنازعات اور سیاسی اختلافات ایسے مسائل ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مگر دنیا کا تجربہ بتاتا ہے کہ اگر اصلاحات آئین، شفافیت، قومی اتفاقِ رائے اور منصفانہ منصوبہ بندی کے ساتھ کی جائیں تو یہ چیلنجز قابلِ حل ہوتے ہیں۔ اس لیے اصل سوال نئے صوبے بنانے کا نہیں بلکہ انہیں کس بنیاد پر اور کس مقصد کے تحت بنانے کا ہے۔پاکستان کو اس وقت ایسے فیصلوں کی ضرورت ہے جو قومی یکجہتی، بہتر حکمرانی اور متوازن ترقی کو فروغ دیں۔ اگر کسی علاقے کے عوام برسوں سے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، اگر انتظامی ڈھانچہ عوامی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے اور اگر ترقی چند شہروں تک محدود ہو چکی ہے، تو اصلاحات سے گریز دانشمندی نہیں۔ آئینِ پاکستان بھی وفاقی نظام کو عوامی مفاد کے مطابق بہتر بنانے کی گنجائش فراہم کرتا ہے، بشرطیکہ ہر قدم قانون اور قومی اتفاقِ رائے کے مطابق اٹھایا جائے۔وقت آ گیا ہے کہ نئے صوبوں کے معاملے کو جذبات یا سیاست کے بجائے تحقیق، آئینی اصولوں اور قومی مفاد کی روشنی میں دیکھا جائے۔ اگر یہ اقدام پاکستان کے ہر شہری کو انصاف، ترقی، بہتر تعلیم، معیاری صحت اور مؤثر حکمرانی فراہم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے تو اس پر سنجیدہ مکالمہ ناگزیر ہے۔ مضبوط پاکستان کی بنیاد صرف مضبوط مرکز نہیں بلکہ مضبوط، متوازن اور بااختیار انتظامی اکائیاں بھی ہیں۔آج کا تقاضا یہی ہے کہ ہم یہ سوال نہ کریں کہ نئے صوبے کیوں بنیں، بلکہ یہ سوچیں کہ پاکستان کے عوام کو بہتر حکمرانی کیسے فراہم کی جائے۔ اگر نئے صوبے اس مقصد کے حصول کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوتے ہیں تو اس قومی بحث کو تعصب سے نہیں بلکہ تدبر، آئین اور قومی مفاد کی روشنی میں آگے بڑھانا چاہیے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *