Banner
Daily Sahafat Quetta
July 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
جمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئےذہنی و فکری معذوری کے حامل بچوں کے لیے ڈے کیئر اور علاج و بحالی کے مراکز بنائے جائیں،سلمی سعید ہاشمیجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئےذہنی و فکری معذوری کے حامل بچوں کے لیے ڈے کیئر اور علاج و بحالی کے مراکز بنائے جائیں،سلمی سعید ہاشمی

امریکا کا ایران پر حملوں کا تیسرا مرحلہ مکمل، 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف تین روز کے دوران حملوں کے تیسرے مرحلے میں تقریباً 140 ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کے ردعمل میں کی گئیں۔

سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران زمینی اور بحری اڈوں سے پرواز کرنے والے جنگی طیاروں، ڈرونز اور امریکی بحری جہازوں سے جدید اور انتہائی درست ہتھیار استعمال کیے گئے۔

بیان کے مطابق حملوں میں ایران کے میزائل اور ڈرون تنصیبات، بحری اثاثے، اسلحہ گودام، مواصلاتی مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ تین راتوں پر مشتمل ان کارروائیوں میں مجموعی طور پر 300 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور بین الاقوامی بحری نقل و حمل کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت جاری ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل مکمل طور پر معطل نہیں ہوئی۔

سینٹکام کے مطابق امریکی افواج نے رواں سال مئی کے آغاز سے اب تک آبنائے ہرمز سے 800 سے زائد تجارتی جہازوں اور تقریباً 400 ملین بیرل خام تیل کی محفوظ ترسیل میں معاونت فراہم کی ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

ایران کی جانب سے امریکی حملوں پر باضابطہ ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے، جبکہ خطے میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور عالمی برادری کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دے رہی ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *